رافیل کی بات جب شروع ہوئی تو ہمیں لگا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ راہل گاندھی

رافیل ڈیل میں وزیر اعظم کی دخل اندازی پر وزارت دفاع بھی کرچکا ہے اعتراض

سرینگر/02جنوری: پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں بدھ کو لوک سبھا میں رافیل ڈیل پر بحث کے دوران کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر جم کر نشانہ سادھا اور کئی الزامات عائد کئے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا مانیٹرنگ کے مطابق پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں بدھ کو لوک سبھا میں رافیل ڈیل پر بحث کے دوران کانگریس کے صدر راہل گاندھی نے مرکزی حکومت پر جم کر نشانہ سادھا اور کئی الزامات عائد کئے۔ بحث کی شروعات کرتے ہوئے راہل گاندھی نے ایک مرتبہ پھر سے کہا یہ ڈیل صحیح طریقہ سے نہیں کی گئی۔انہوں نے مودی حکومت پر کئی سوالات بھی کھڑے کئے اور ڈیل کے پروسیس پر بھی انگلی اٹھائی۔ساتھ ہی ساتھ راہل گاندھی نے یہ بھی کہا کہ سپریم کورٹ نے یہ نہیں کہا ہے کہ رافیل معاملہ میں جے پی سی نہیں بن سکتی ہے۔ جانچ نہیں ہوسکتی ہے۔ ایک رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کو رافیل کی بات چیت میں دخل نہیں دینا چاہئے۔پاریکر کے آڈیو ٹیپ پر راہل گاندھی نے کہا کہ گوا کے وزیر اعلی نے کہا ہے کہ میرے پاس رافیل کی کی پوری فائلیں پڑی ہیں۔ میرے گھر میں ساری فائلیں ہیں اور پورا سچ رکھا ہے۔ اس پر اسپیکر سمترا مہاجن نے کہا کہ آپ گوا کے وزیر اعلی نہیں بلکہ سابق وزیر دفاع کہہ سکتے ہیں۔ راہل گاندھی نے پھر حکومت ہند کے وزیر دفاع کا نام لیتے ہوئے اپنی بات پیش کی۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق راہل گاندھی نے مزید کہا کہ رافیل کی بات جب شروع ہوئی تو ہمیں لگا کہ دال میں کچھ کالا ہے۔ دو سال بعد پتہ چلا کہ دال میں کچھ کالا نہیں ، بلکہ پوری دال ہی کالی ہے۔راہل گاندھی کے بعد وزیر خزانہ ارون جیٹلی نے جواب دیا اور راہل گاندھی پر جم کر نشانہ سادھا۔ انہوں نے کہا کہ رافیل کو لے کر گزشتہ چھ مہینوں میں جو بھی کہا گیا ، ابھی اس ہاوس میں جو کہا گیا ، وہ سب جھوٹ ہے۔

Share This Article