ویڈیو: کشمیر میں داعش کی کوئی موثر موجود گی نہیں؍دلباغ سنگھ

By
6 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

نوجوانوں کو نظریاتی طور انقلابی بنانے کی کوششیں ہورہی ہیں،سال2019ترقی اور خوشحالی کا سال ہوگا

سرینگر: کشمیر میں عالمی سطح کی جہادی تنظیم’’ داعش‘‘ یا اسلامک اسٹیٹ کے جنگجوؤں کی بھاری تعداد میں موجودگی کے افواہوں کو مکمل طور خارج کرتے ہوئے ریاستی پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ نے کہا ریاست میں اس تنظیم سے وابستہ جنگجوؤں کی تعداد نہ ہونے کے برابر ہے البتہ نوجوانوں کو نظریاتی طور انقلابی بنانے کے لئے اس کی جانب راغب کرنے کی کوششیں ہورہی ہیں۔پولیس سربراہ نے سال2018میں تشدد کے گراف میں پچھلے برسوں کے مقابلے نمایاں اضافہ ہونے کا اعتراف کرتے ہوئے امید ظاہر کی سال2019امن اور خوشحالی کا سال ثابت ہوگا اورعوام کھل کر امن کے حق میں تعاون دینے کے لئے آگے آئینگے۔کرنٹ نیوز سروس نمائندے صوفی یوسف کے مطابق ریاستی پولیس کے سربراہ دلباغ سنگھ بدھ کو سرینگر میں محکمے کے اعلیٰ افسران ایڈیشنل ڈی جی سیکورٹی منیر احمد خان اور آئی جی کشمیر ایس پی پانی اور ڈی آئی جی وسطی کشمیر کی موجودگی میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران سال 2018کی حصولیابیوں کاخلاصہ بیان کرتے ہوئے کشمیر میں عالمی سطح کی جہادی تنظیم ’’داعش‘‘ یا اسلامک سٹیٹ(آئی ایس) کے جنگجوؤں کی بھاری تعداد میں موجودگی کو سرے سے ہی نکارتے ہوئے کہا کہ بنیادی طور ایک ہوا کھڑا کی جارہی ہے جس میں کوئی صداقت نہیں ہے تاہم انہوں نے ساتھ ہی کہا کہ نوجوانوں کو اس تنظیم کے ساتھ نظریاتی طور وابستہ کر نے کی کوششیں ہورہی ہیں جس کا مقصد ان کو انقلابی ذہن کا تیار کرنا ہے لیکن پولیس اور دوسرے سیکورٹی اداروں کی ان کوششوں پر گہری نگاہ لگی ہوئی ہے جن کو کسی بھی قیمت پر سر ابھارنے نہیں دیا جائے گا۔پولیس سربراہ نے کشمیری عوام کو امن کا حامی قرار دیا اور کہا کہ یہاں کی صدیوں پرانی روایت اس بات کی گواہ ہے کہ کشمیری عوام امن پسند ہیں لیکن امن دشمن عناصر اور سرحد پار بیٹھے لوگوں کو یہ چیزیں ہضم نہیں ہورہی ہیں اور وہ ہمیشہ اس تاک میں لگے رہتے ہیں کہ کس طرح یہاں کے عوام کی زندگی کو بے سکون بنادیا جائے۔ڈی جی پولیس نے کہا کہ سال2018کے دوران قیمتی انسانی جانیں تلف ہونے پر افسوس کا اظہار کیا اور کہا کہ ملی ٹینٹوں کی ہلاکتوں میں خاطر خواہ اضافہ ہونے کے باوجود وہ اس بات پر دکھی ہیں کہ انسانی جانیں ضائع نہیں ہونی چاہئے ۔ان کے بقول انسانی لاشوں کو گنتی کرنا ان کے نزدیک کوئی جیت نہیں ہے کیونکہ انسانی جان بہت زیادہ قیمتی ہے اور جو کوئی بھی مرتا ہے وہ اپنا ہی شہری ہے۔دلباغ سنگھ نے مزید کہا کہ سال2018کے دوران مجموعی طور جھڑپوں کے کل97واقعات پیش آئے اور وہ اس بات پر خوش ہیں کہ ان جھڑپوں میں سے83مقامات پر عام شہریوں کا کوئی نقصان نہیں ہوا البتہ پولیس اور فورسز کے حد درجہ تحمل کے باوجود باقی مقامات پر مشتعل ہجوم نے کریک داون توڑنے کی کوشش کی اور کہیں پر جنگجوؤں کو بچانے کے لئے فوج، پولیس اور نیم فوجی دستوں پر پتھروں اور دوسرے طریقے سے حملے کئے گئے جس کی وجہ سے کچھ انسانی جانیں تلف ہوئیں جو باعث افسوس ہے حالانکہ عام شہریوں کواس قسم کی واردات کے دوران مداخلت کرنے سے گریز ہی کرنا چاہئے ۔ڈی جی پولیس کے مطابق سال رفتہ کے دوران ان کی فورس کے39لوگ جنگجوؤں مخالف کاروائیوں میں مارے گئے جن میں وہ کچھ ایسے اہلکار بھی شامل ہیں جن کو ملی ٹینٹوں نے گھروں سے اغوا کرکے اس طرح بیدردی کے ساتھ قتل کیا جس کی کشمیر ہی کیا پورے ہندوستان کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔سال رفتہ کے دوران پاکستان کی جانب سے سرحد پارسے کشمیر میں دراندازوں کو دھکیلنے کی کوششیں جاری رکھنے کا الزام عائد کرتے ہوئے دلباغ سنگھ نے کہا کہ سال رفتہ کے دوران بھی بڑی تعداد میں دراندازی ہوئی ،کچھ کامیاب ہوئی ں لیکن اکثر کو ناکام بنادیا گیا۔انہوں نے کہا کہ تشدد کسی مسئلے کا حل نہیں کیونکہ تشدد تشدد کو ہی جنم دیتا ہے جوکسی کے حق میں بہتر نہیں ہوتا ۔انہوں نے کشمیری نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے مستقبل کو روشن کر نے کے لئے امن اور ترقی کی راہ اپنائیں اور اسی میں ان کی بہتری ہے۔انہوں نے مرکزی اور ریاستی سرکار کی جانب سے دئے جانے والی بھر پور حمایت پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہ سال رفتہ کے دوران ریاستی اور مرکزی سرکار کی فراخدلانہ حمایت سے پولیس محکمے کے اکثر معاملات اور مسائل حل ہوئے جبکہ ہزاروں کی تعداد میں اہلکاروں اور افسروں کو ترقیاں بھی ملیں۔دلباغ سنگھ نے عوام کے تعاون کو قابل ستائش قرار دیا اور کہا کہ کشمیری عوام پولیس اور سرکار کے ساتھ ساتھ قیام امن کی کوششوں میں ہم تن جٹے ہوئے ہیں اور انہیں امید ہیں کہ نئے سال کے دوران سمجیدہ لوگ اپنی زبانیں کھول کر امن اور ترقی کے حق میں بولیں گے۔

Share This Article