سرینگر: سال2000کے لال قلعہ حملے کے الزام میںچند روز قبل دلی ائر پورٹ پر گرفتار کئے گئے کشمیری نوجوان کے اہل خانہ نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے اسکی رہائی کےلئے فریاد کی ہے۔بلال کی والدہ نے روتے بلکتے اپنے لخت جگر کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر وہ کسی غیر قاقونی سرگرمی میں ملوث ہے تو اسے17سال تلاش کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟ریاستی پولیس کا کہنا ہے کہ مذکورہ نوجوان ماضی میں کسی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث نہیں رہا ہے اور اس معاملے پر دلی پولیس کے ساتھ بات کی جارہی ہے ۔
پائین شہر کے عالی کدل علاقے سے تعلق رکھنے والے بلال احمد کاوا کو 11جنوری کے روز نئی دلی کے اندرا گاندھی انٹر نیشنل ائر پورٹ سے حراست میں لیا گیا۔اس کی گرفتاری دلی پولیس اور گجرات کے دہشت گردی مخالف اسکارڈ نے مشترکہ طور عمل میں لائی اور اس پر 22دسمبر2000کو دلی کے لال قلعہ پر ہوئے حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔پیر کی صبح بلال احمد کے رشتہ دار بشمول والدہ اور بہن پریس کالونی کے باہر نمودار ہوئے اور اس کی رہائی کے حق میں احتجاج کیا۔ان کے ہاتھ میں ایک بڑا بینر بھی تھا جس پر”میرا نام بلال احمد کاوا ہے اور میں دہشت گرد نہیں ہوں“ کے الفاظ تحریر تھے۔
احتجاج میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک بھی شامل تھے۔مظاہرین نے”بے گناہ کشمیری کو رہا کرو، دو بچوں کے باپ کو رہا کرو، ایک بہن کے بھائی کو رہا کرو“ کے نعررے بلند کئے۔اس موقعے پربلال احمد کی والدہ فاطمہ بیگم نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے اپنے بیٹے کی رہائی کی فریاد کی۔نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران فاطمہ اپنے آنسوﺅں کو روک نہیں سکی اور روتے بلکتے اپنے بیٹے کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا”میرا بیٹا میری امید ہے ، اس کی گرفتاری کے بعد میں صدمے میں ہوں ، میں محبوبہ جی سے استدعا کرتی ہوں کہ وہ میرے بیٹے کی رہائی کو یقینی بنائیں“۔انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا”ہمارا گھر عالی کدل میں نیم فوجی دستوں کے ایک بڑے کیمپ کے متصل ہے ، اگرمیرا بیٹا کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تھا، تو اتنے سال اسے گرفتار کیوں نہیں کیا گیا“؟فاطمہ نے مزید بتایا”میرے بیٹے کی گرفتاری کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا ایک حربہ ہے ، اگر وہ مجاہد ہوتا تو میں اس کی رہائی کی مانگ کبھی نہیں کرتی، ایسا کچھ نہیں ہے ، نہ جانے کون سا قانون انہیں میرے معصوم بیٹے کی گرفتاری کی اجازت دیتا ہے“؟
بلال کے رشتہ داروں نے بتایا کہ وہ دلی میںکاروبار کرتا ہے ، اس کی دلی میں عارضی رہائش گاہ بھی ہے ، جس دن اسے گرفتار کیا گیا، وہ اپنے علاج و معالجہ کے سلسلے میں دلی گیا تھا۔بلال کے اہل خانہ نے نامہ نگاروں کو بلال کا پاسپورٹ بھی دکھایا جو 15جنوری2001کو جاری کیا گیا ہے۔انہوں نے سوال کیا”اگر وہ کسی غلط کام میں ملوث تھا تو اس کے حق میں پاسپورٹ کیسے جاری کیا گیا“؟انہوں نے کہا کہ بلال کے پاس تمام دیگر دستاویزات بھی ہیں جن میں آدھار کارڈ بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں نے گزشتہ17برس کے دوران بلال کو تلاش کیوں نہیں کیا؟اگر اس نے کوئی غلطی کی تھی؟قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیر پولیس نے پہلے ہی اس بات کی وضاحت کی ہے کہ بلال کے خلاف ماضی میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کے بارے میں کوئی کیس درج نہیں ہے۔
آئی جی پی کشمیر زون(اے ڈی جی پی) منیر احمد خان نے کہا” اسکے خلاف کوئی کیس نہیں ہے، وہ(دلی پولیس) کہتے ہیں کہ اس کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ نمبر50012جاری کیا گیا تھا، اس بارے میں ہماری سی آئی ڈی سیل دلی پولیس کے ساتھ بات کررہی ہے“۔
