جموں :قانون ساز اسمبلی میں منگل کو اُس وقت شورابہ اور ہنگامہ آرائی کے مناظر دیکھنے کو ملے جب اپوزیشن ممبران نے کشمیری تاجر بلال احمد کاوا کی نئی دہلی میں گرفتاری کا معاملہ اٹھایا ۔نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر نے کہا کہ پی ڈی پی کی سربراہی والی حکومت نئی دہلی سے خوفزدہ ہے ،اس لئے اِ س نے بلال احمد کاوا کی گرفتاری پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔ادھر آزاد ممبر اسمبلی انجینئر رشید انجینئر رشید نے کہا کہ جب محمد افضل گورو کی طرح بلال احمد کاوا کو بھی خفیہ طور پر تختہ دار دیا جائیگا ،تو ریاستی سرکار کی نیند ٹوٹ جائیگی ۔
تعمیل ارشاد کے نامہ نگار نے جموں سے اطلاع دی ہے کہ منگل کو جب ٹھیک10بجے قانون ساز اسمبلی کی کارروائی شروع ہوئی اور ریاستی اسمبلی کے اسپیکر کویندر گپتا نے وقفہ سوالات شروع کرنے کی ہدایت دی ،تو اپوزیشن ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور کشمیری تاجر بلال احمد کاوا کی گرفتاری کا معاملہ اٹھا یا ۔
بلال احمد کاوا جوکہ ایک تاجر ہیں ،کو 12جنوری کو نئی دہلی کے اندرا گاندھی ائر پورٹ سے لال قلعہ کے پر ہوئے حملے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ،کے معاملے پر اپوزیشن جماعتوں نے سرکار کو گھیر تے ہوئے کہا کہ وہ بلال احمد کاوا کی گرفتاری کے معاملے پر اپنی خاموشی توڑے ۔
آزاد ممبر اسمبلی لنگیٹ انجینئر رشید نے سب سے پہلے بلال احمد کاوا کی گرفتاری کا معاملہ ایوان ِ اسمبلی میں اُٹھایا ۔انہوں نے سوالیہ انداز میں کہا’17پرانے لال قلعے حملے میں بلال احمد کاوا کو اب کیوں گرفتار کیا گیا ؟
انہوں نے پی ڈی پی کی سرابراہی والی مخلوط سرکار کو ہدف تنقید بناتے ہوئے کہا کہ جب بلال احمد کا وا کو خفیہ طور پر افضل احمد گورو کی طرح تختہ دار دیا جائیگا ،تب جاکر سرکار کی نیند ٹوٹ جائیگی ۔انہوں نے کہا کہ سرکار اِس گرفتاری کے معاملے پر اپنی خاموشی توڑ دے اور ایوان کو آگاہ کرے ۔
انجینئر رشید کی جانب سے بلال احمد کاوا کی گرفتاری کا معاملہ اٹھانے کے فوراً بعد نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگر اپنی نشست سے کھڑے ہوئے اور بلال احمد کا وا کی گرفتاری کا معاملہ اٹھا یا ۔
انہوں نے الزام عائد کرتے ہوئے طنزیہ انداز میں کہا کہ پی ڈی پی کی سرابراہی والی مخلوط سرکار نئی دہلی سے خوفزدہ ہے ،اس لئے اِس نے بلال احمد کاوا کی گرفتاری کے معاملے پر خاموشی اختیار کی ہوئی ہے ۔
انہوں نے کہا ’اگر آپ نئی دہلی سے خائف نہیں ہے ،تو کشمیری تاجر بلال احمد کاوا کی گرفتار پر آپ خاموش کیوں ہے ؟‘۔انہوں نے ایوان زیریں میں پارلیمانی وقانون کے ریاستی وزیر عبدالرحمان ویری سے مخاطب ہوکر کہا’آپ اِس ایوان میں اِس گرفتاری کے معاملے پر اپنا رد ِ عمل ظاہر کریں ‘۔
نیشنل کانفرنس کے ممبر اسمبلی خانیار علی محمد ساگرنے کہا ’آج کئی نوجوانوں کو سپریم کورٹ آف انڈیا نے معصوم قرار کر رہا کردیا ‘۔ان کا کہناتھا کہ بلال احمد کاوا کے ملی ٹنٹوں کے ساتھ کوئی رابط نہیں ہے ،اس لئے اُنہیں رہا کیا جانا چاہئے ۔
یاد رہے کہ سال2000کے لال قلعہ حملے کے الزام میںچند روز قبل دلی ائر پورٹ پر گرفتار کئے گئے کشمیری نوجوان کے اہل خانہ نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے اسکی رہائی کےلئے فریاد کی ہے۔بلال کی والدہ نے روتے بلکتے اپنے لخت جگر کو بے گناہ قرار دیتے ہوئے سوال کیا کہ اگر وہ کسی غیر قاقونی سرگرمی میں ملوث ہے تو اسے17سال تلاش کرنے کی کوشش کیوں نہیں کی گئی؟
شہر خاص کے عالی کدل علاقے سے تعلق رکھنے والے بلال احمد کاوا کو12جنوری کے روز نئی دلی کے اندرا گاندھی انٹر نیشنل ائر پورٹ سے حراست میں لیا گیا۔اس کی گرفتاری دلی پولیس اور گجرات کے دہشت گردی مخالف اسکارڈ نے مشترکہ طور عمل میں لائی اور اس پر22دسمبر2000کو دلی کے لال قلعہ پر ہوئے حملے میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔پیر کی صبح بلال احمد کے رشتہ دار بشمول والدہ اور بہن پریس کالونی کے باہر نمودار ہوئے اور اس کی رہائی کے حق میں احتجاج کیا۔ان کے ہاتھ میں ایک بڑا بینر بھی تھا جس پر”میرا نام بلال احمد کاوا ہے اور میں دہشت گرد نہیں ہوں“ کے الفاظ تحریر تھے۔
احتجاج میں جموں کشمیر لبریشن فرنٹ کے چیرمین محمد یاسین ملک بھی شامل تھے۔مظاہرین نے”بے گناہ کشمیری کو رہا کرو، دو بچوں کے باپ کو رہا کرو، ایک بہن کے بھائی کو رہا کرو“ کے نعررے بلند کئے۔اس موقعے پربلال احمد کی والدہ فاطمہ بیگم نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی سے اپنے بیٹے کی رہائی کی فریاد کی۔نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران فاطمہ اپنے آنسوﺅں کو روک نہیں سکی اور روتے بلکتے اپنے بیٹے کی رہائی کا مطالبہ کیا۔ان کا کہنا تھا”میرا بیٹا میری امید ہے ، اس کی گرفتاری کے بعد میں صدمے میں ہوں ، میں محبوبہ جی سے استدعا کرتی ہوں کہ وہ میرے بیٹے کی رہائی کو یقینی بنائیں“۔انہوں نے سوالیہ انداز میں پوچھا”ہمارا گھر عالی کدل میں نیم فوجی دستوں کے ایک بڑے کیمپ کے متصل ہے ، اگرمیرا بیٹا کسی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث تھا، تو اتنے سال اسے گرفتار کیوں نہیں کیا گیا“؟فاطمہ نے مزید بتایا”میرے بیٹے کی گرفتاری کشمیریوں کو ہراساں کرنے کا ایک حربہ ہے ، اگر وہ مجاہد ہوتا تو میں اس کی رہائی کی مانگ کبھی نہیں کرتی، ایسا کچھ نہیں ہے ، نہ جانے کون سا قانون انہیں میرے معصوم بیٹے کی گرفتاری کی اجازت دیتا ہے“؟
بلال کے رشتہ داروں نے بتایا کہ وہ دلی میںکاروبار کرتا ہے ، اس کی دلی میں عارضی رہائش گاہ بھی ہے ، جس دن اسے گرفتار کیا گیا، وہ اپنے علاج و معالجہ کے سلسلے میں دلی گیا تھا۔بلال کے اہل خانہ نے نامہ نگاروں کو بلال کا پاسپورٹ بھی دکھایا جو 15جنوری2001کو جاری کیا گیا ہے۔انہوں نے سوال کیا”اگر وہ کسی غلط کام میں ملوث تھا تو اس کے حق میں پاسپورٹ کیسے جاری کیا گیا“؟انہوں نے کہا کہ بلال کے پاس تمام دیگر دستاویزات بھی ہیں جن میں آدھار کارڈ بھی شامل ہے۔انہوں نے کہا کہ وہ اس بات پر حیران ہیں کہ پولیس اور سیکورٹی ایجنسیوں نے گزشتہ17برس کے دوران بلال کو تلاش کیوں نہیں کیا؟اگر اس نے کوئی غلطی کی تھی؟قابل ذکر ہے کہ جموں کشمیر پولیس نے پہلے ہی اس بات کی وضاحت کی ہے کہ بلال کے خلاف ماضی میں کسی بھی قسم کی غیر قانونی سرگرمی میں ملوث ہونے کے بارے میں کوئی کیس درج نہیں ہے۔
آئی جی پی کشمیر زون(اے ڈی جی پی) منیر احمد خان نے کہا” اسکے خلاف کوئی کیس نہیں ہے، وہ(دلی پولیس) کہتے ہیں کہ اس کے خلاف گرفتاری کا وارنٹ نمبر50012جاری کیا گیا تھا، اس بارے میں ہماری سی آئی ڈی سیل دلی پولیس کے ساتھ بات کررہی ہے“۔

