سرینگر/06دسمبر/کے پی ایس/شمالی قصبہ بارہمولہ کے شیری علاقے میں بدھ کی شام اس وقت قیامت صغریٰ بپا ہوئی جب سڑک کے ایک المناک حادثے میں خاتون سمیت دو افراد لقمہ اجل بن گئے جبکہ دو شدید زخمی ہو گئے جن کو علاج و معالجہ کیلئے سرینگر منتقل کیا گیا ۔ اسی دوران سڑک حادثے میں از جان ہوئے خاتون اور شہری کے نماز جنازہ میں ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے شرکت کی جس کے بعد انہیں پرنم آنکھوں کے ساتھ سپرد خاک کیا گیا ۔اطلاعات کے مطابق دلنہ بارہ مولہ میں شام دیر گئے اُس وقت کہرام مچ گیا جب گرڈ اسٹیشن کے قریب دو نجی گاڑیوں کے درمیان زور دار ٹکر ہوئی جس کے نتیجے میں دو افراد کی موقعے پر ہی موت واقع ہوئی جبکہ دو کو نازک حالت میں نزدیکی اسپتال منتقل کیا گیا ۔ حادثے میں ازجان ہونے والے افراد کی شناخت ساجہ بیگم زوجہ اسداللہ بٹ اور بشیر احمد ڈار ولد حبیب اللہ ڈار ساکنہ شیری بارہمولہ کے بطور ہوئی ہے ، ساجہ بیگم کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ پی ڈی پی زونل بارہمولہ صدر غلام رسول بٹ کی والدہ ہے ۔ جبکہ حادثے میں گاڑی کا ڈرائیور اور بشیر احمد ڈار کا بیٹا زخمی ہو گیا جن کو ضلع اسپتال بارہمولہ سے سرینگر علاج و معالجہ کیلئے منتقل کیا گیا ۔ اسی دوران جیسے ہی علاقے میں حادثے کی خاتون سمیت دو مقامی شہریوں کے جاں بحق ہونے کی خبر پھیلتے ہی غم و اندو کی لہر دوڑ گئی جبکہ جیسے ہی دونوں کی نعشوں کو آبائی علاقوں میں پہنچایا گیا تو وہاں کہرام مچ گیا ۔ اسی دوران دونوں کا الگ لگ نماز جنازہ رات 9بجے کر 15منٹ پر ادا کیا گیا جس دوران ہزاروں کی تعداد میں لوگوں نے نماز جنازہ میں شرکت کی جس کے بعد دونوں کو آبائی علاقے میں سپرد خاک کیا گیا ۔بارہ مولہ پولیس نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے کہاکہ دلنہ بارہ مولہ میں ٹریفک حادثے میں دو افراد کی موت واقع ہوئی ہے ۔انہوں نے بتایا کہ معاملے کی نسبت کیس درج کرکے تحقیقات شروع کی گئی ہے ۔ادھرگاندربل میں ایک سڑک حادثے کے دوران شدید زخمی ہونے والا نیشنل کانفرنس کے ایک سینئر لیڈر کا ذاتی محافظ(پی ایس او) بدھ کوصورہ اسپتال میں زخموں کی تاب نہ لاکر دم توڑ بیٹھا۔ نمائندے کے مطابق 42سالہ محمد اسلم پختون(بیلٹ نمبر246) ساکن وانی آرم وانگت کنگن نامی پی ایس او گزشتہ روز اُس وقت بری طرح سے مضروب ہوا جب اولڈ پائور ہائوس کنال گاندربل کے نزدیک اس کی کار قابو سے باہر ہوگئی اور سڑک کے کنارے سے لڑھک کر اُلٹ گئی۔اسے فوری طور پر صورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ سرینگر میں داخل کرایا گیا جہاں رات بھر موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا رہنے کے بعد وہ بدھ کی صبح زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے زندگی کی جنگ ہار گیا۔ مذکورہ اہلکار آئی آر پی14بٹالین سے وابستہ تھا اور نیشنل کانفرنس کے سینئر لیڈرو ایم ایل اے خانیار علی محمد ساگر کے ساتھ بطور پی ایس او تعینات تھا۔جس وقت اس کی گاڑی کو حادثہ پیش آیا، اُس وقت وہ ڈیوٹی کی طرف جارہا تھا۔ علی محمد ساگر اپنے کئی ساتھیوں سمیت محمد اسلم کے آبائی گھر گئے اور ان کے لواحقین کے ساتھ تعزیت کا اظہار کرنے کے علاوہ نماز جنازہ میں بھی شرکت کی۔پولیس نے معاملے کی نسبت کیس درج کرلیا ہے اور مزید چھان بین جاری ہے۔
