اجتماعی فاتحہ خوانی ،تعزیتی جلسہ پر روک
ہڑتال،کرفیو ،پابندیاں وبندشیں ،مہلوک کمانڈرکا مقبرہ اور رہائش گاہ سیل
جنوبی کشمیر میں کرفیو توڑ نے کوششیں ،مشتعل مظاہرین اور فورسز اہلکار اُلجھ پڑے، غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا
سری نگر:٨،جولائی :کے این این/ حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی دوسری برسی پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی کے اطراف واکناف میں ہمہ گیر ہڑتال رہی،جس دوران گور نر انتظامیہ نے مہلوک کمانڈر کے حق میں مجوزہ اجتماعی فاتحہ خوانی اور تعزیتی جلسہ پر روک لگا دی ۔ برہان وانی کے آبائی قصبہ ترال میں اعلانیہ کرفیو نافذ رہا جبکہ شہر خاص میں پابندیاں وبندشیں عائد رہیں ۔اس دوران امکانی جلسے ،جلوسوں اور ریلیوں کے خدشے کے پیش نظر وادی بھر میں دفعہ144نافذ رہا ۔اس دوران معروف جاں بحق حزب کمانڈر کے مقبررہ اور رہائش گاہ کو فورسز نے مکمل طور پر سیل کیا ،تاہم سخت ترین کرفیو ،پابندیوں اور بندشوں کے باوجود ترال میں نوجوانوں نے کرفیو توڑ نے کی کوشش کی ،جس دوران یہاں تشدد بھی بھڑک اٹھا ۔نوجوانوں نے فورسز پر پتھرائو کیا ،جوابی کارروائی میں فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کی جبکہ کشمیر یونیورسٹی کے طلاب نے بھی احتجاج کیا ۔ادھر کولگام میں فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے کمسن طالبہ سمیت 3عام شہریوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی ۔پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر وادی کشمیر میں امن وقانون کی صورتحال پرامن رہی ۔دریں اثناء مزاحمتی قیادت کی تھانہ وخانہ نظر بندی مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق معروف حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی پر کشمیر وادی میں اتوار کو مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال رہی ۔وادی کے تمام10اضلاع سرینگر ،بڈگام ،گاندر بل ،پلوامہ ،شوپیان ،کولگام ،اننت ناگ ،بانڈی پورہ ،کپوارہ اور بارہمولہ میں دکانات ،کاروباری ادارے ،تجارتی مراکز بند رہے جبکہ مشہور سنڈے مارکیٹ کا بھی کہیں کوئی نام ونشان نظر نہیں آیا ۔پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے مکمل طور پر غائب رہا۔ہڑتال ،کرفیو ،پابندیاں اور بندشوں کے باعث وادی کے شمال وجنوب میں ہو کاعالم دیکھنے کو ملا ۔ہڑتال کی کال مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دی تھی ۔انہوں نے برہان وانی کی برسی پر ترال میں تعزیتی جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا ۔معروف حزب کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی کے سلسلے میں مجوزہ طور پر منعقد ہونے والی اجتماعی فاتحہ خوانی اور تعزیتی جلسے پر گور نر انتظا میہ نے مکمل طور پر روک لگا دی جبکہ امکانی جلسے ،جلوسوں اور ریلیوں کو روکنے کیلئے ترال میں ہفتہ کی صبح غیر معینہ عرصے کیلئے اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا اور شہر خاص میں اتوار کو مسلسل تیسرے بھی پابندیاں اور بندشیں عائد رہیں ۔قصبہ ترال اور شہر خاص میں لوگوں کی جانب سے جلسے ،جلوس اور ریلیاں نکالنے کے خدشات کے پیش نظر پولیس اور فورسز کے سینکڑوں کی اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ،چپے چپے پر فورسز اہلکاروں کو ہتھیاروں سے تیاری کی حالت میں تعینات کیا گیا جبکہ دن بھر پولیس وفورسز کی گاڑیاں حسا س علاقوں میں گشت کرتی رہیں ۔ہڑتال ،کرفیو ،پابندیوں اور بندشوں کے باعث معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے ۔شہر ودیہات میں سنا ٹا دیکھنے کو ملا ،بازار اور سڑکیں سنسان وویران نظر آرہی تھی جبکہ سڑکوں اور شاہراہوں پر صرف پولیس وفورسز اہلکار ہی نظر آرہے تھے ،تاہم سرینگر ۔جموں شاہراہ کے علاوہ کئی دیگر شاہراہوں پر اکا دکا نجی گاڑیاں چلتی ہوئی دیکھی گئیں ۔ترال میں جہاں اعلانیہ کرفیو نافذ رہا ،وہیں شہر خاص کے نوہٹہ ،خانیار ،رعناواری ،ایم آر گنج اور صفاکدل پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت ترین پابندیاں اور بندشیں عا ئد رہیں ۔شہر خاص کے درجنوں علاقوں کوخار دار تاروں سے سیل کیا گیا تھا جبکہ شہر خاص کو سیول لائنز علاقوں سے جوڑنے والی سڑکوں اور پلوں کو بھی خاردار تاروں سے سیل کیا گیا تھا ،تاکہ لوگوں کسی بھی پیش قدمی کو رکا جاسکے ۔فورسز اہلکاروں نے معروف حزب کمانڈر کے مقبررہ اور رہائش گاہ واقع شریف آباد ترال کو مکمل طور پر سیل کیا تھا کہ تاکہ یہاں کسی بھی طرح کے تعزیتی جلسے کو روکا جاسکے ۔یاد رہے کہ حزب المجاہدین کے نامور کمانڈر برہان وانی کو اپنے دو ساتھیوں سمیت 8جولائی 2016کو جنوبی کشمیر کے بمہ ڈورو کوکرناگ میں ایک مختصر جھڑپ کے دوران جاں بحق کیا گیا تھا اور اس واقعہ کے خلاف وادی میں مہینوں تک ایک خونین عوامی تحریک چلی تھی جسے کچلنے کیلئے سرکاری فورسز نے قریب 100 افراد،بشمول بچوں کے،کو جاں بحق اور10ہزار کے قریب دیگر افرادکو زخمی کردیا تھا۔ادھر برہان وانی کی دوسری برسی کے دو روز قبل ہی مزاحمتی لیڈران کے خلاف کریک ڈائون شروع کیا گیا ۔سید علی گیلانی،میر واعظ عمر فارو ق،محمد اشراف صحرائی ،غلام نبی سمجھی کی مسلسل خانہ نظر بندی برقرار رکھی گئی جبکہ محمد یاسین ملک سمیت کئی دیگر مزاحمتی لیڈران جن میں انجینئر ہلال احمد وار،فردوس شاہ وغیرہ شامل ہیں ،کو خانہ نظر بند رکھا گیا۔ادھر اطلاعات کے مطابق ضلع صدر وتحاصیل مقامات پر بھی برہان وانی کی دوسری برسی کے پیش نظر سخت ترین سیکورٹی بندوبست کیا گیا ،یہاں تک حساس قصبوں و علاقوں میں عارضی بندشیں عائد رہیں ۔یاد رہے کہ انتظامیہ نے سنیچر کے روز ہی پوری وادی میں سری نگر:٨،جولائی :کے این این/ حزب کمانڈر برہان مظفر وانی کی دوسری برسی پر مشترکہ مزاحمتی قیادت کی کال پر وادی کے اطراف واکناف میں ہمہ گیر ہڑتال رہی،جس دوران گور نر انتظامیہ نے مہلوک کمانڈر کے حق میں مجوزہ اجتماعی فاتحہ خوانی اور تعزیتی جلسہ پر روک لگا دی ۔ برہان وانی کے آبائی قصبہ ترال میں اعلانیہ کرفیو نافذ رہا جبکہ شہر خاص میں پابندیاں وبندشیں عائد رہیں ۔اس دوران امکانی جلسے ،جلوسوں اور ریلیوں کے خدشے کے پیش نظر وادی بھر میں دفعہ144نافذ رہا ۔اس دوران معروف جاں بحق حزب کمانڈر کے مقبررہ اور رہائش گاہ کو فورسز نے مکمل طور پر سیل کیا ،تاہم سخت ترین کرفیو ،پابندیوں اور بندشوں کے باوجود ترال میں نوجوانوں نے کرفیو توڑ نے کی کوشش کی ،جس دوران یہاں تشدد بھی بھڑک اٹھا ۔نوجوانوں نے فورسز پر پتھرائو کیا ،جوابی کارروائی میں فورسز نے ٹیر گیس شلنگ کی جبکہ کشمیر یونیورسٹی کے طلاب نے بھی احتجاج کیا ۔ادھر کولگام میں فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے کمسن طالبہ سمیت 3عام شہریوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی ۔پولیس ترجمان کا کہنا ہے کہ مجموعی طور پر وادی کشمیر میں امن وقانون کی صورتحال پرامن رہی ۔دریں اثناء مزاحمتی قیادت کی تھانہ وخانہ نظر بندی مسلسل تیسرے روز بھی جاری رہی ۔کشمیر نیوز نیٹ ورک کے مطابق معروف حزب المجاہدین کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی پر کشمیر وادی میں اتوار کو مکمل اور ہمہ گیر ہڑتال رہی ۔وادی کے تمام10اضلاع سرینگر ،بڈگام ،گاندر بل ،پلوامہ ،شوپیان ،کولگام ،اننت ناگ ،بانڈی پورہ ،کپوارہ اور بارہمولہ میں دکانات ،کاروباری ادارے ،تجارتی مراکز بند رہے جبکہ مشہور سنڈے مارکیٹ کا بھی کہیں کوئی نام ونشان نظر نہیں آیا ۔پبلک ٹرانسپورٹ سڑکوں سے مکمل طور پر غائب رہا۔ہڑتال ،کرفیو ،پابندیاں اور بندشوں کے باعث وادی کے شمال وجنوب میں ہو کاعالم دیکھنے کو ملا ۔ہڑتال کی کال مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے دی تھی ۔انہوں نے برہان وانی کی برسی پر ترال میں تعزیتی جلسہ منعقد کرنے کا اعلان کیا تھا ۔معروف حزب کمانڈر برہان وانی کی دوسری برسی کے سلسلے میں مجوزہ طور پر منعقد ہونے والی اجتماعی فاتحہ خوانی اور تعزیتی جلسے پر گور نر انتظا میہ نے مکمل طور پر روک لگا دی جبکہ امکانی جلسے ،جلوسوں اور ریلیوں کو روکنے کیلئے ترال میں ہفتہ کی صبح غیر معینہ عرصے کیلئے اعلانیہ کرفیو نافذ کیا گیا اور شہر خاص میں اتوار کو مسلسل تیسرے بھی پابندیاں اور بندشیں عائد رہیں ۔قصبہ ترال اور شہر خاص میں لوگوں کی جانب سے جلسے ،جلوس اور ریلیاں نکالنے کے خدشات کے پیش نظر پولیس اور فورسز کے سینکڑوں کی اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی ،چپے چپے پر فورسز اہلکاروں کو ہتھیاروں سے تیاری کی حالت میں تعینات کیا گیا جبکہ دن بھر پولیس وفورسز کی گاڑیاں حسا س علاقوں میں گشت کرتی رہیں ۔ہڑتال ،کرفیو ،پابندیوں اور بندشوں کے باعث معمولات زندگی مکمل طور پر مفلوج ہو کر رہ گئے ۔شہر ودیہات میں سنا ٹا دیکھنے کو ملا ،بازار اور سڑکیں سنسان وویران نظر آرہی تھی جبکہ سڑکوں اور شاہراہوں پر صرف پولیس وفورسز اہلکار ہی نظر آرہے تھے ،تاہم سرینگر ۔جموں شاہراہ کے علاوہ کئی دیگر شاہراہوں پر اکا دکا نجی گاڑیاں چلتی ہوئی دیکھی گئیں ۔ترال میں جہاں اعلانیہ کرفیو نافذ رہا ،وہیں شہر خاص کے نوہٹہ ،خانیار ،رعناواری ،ایم آر گنج اور صفاکدل پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں سخت ترین پابندیاں اور بندشیں عا ئد رہیں ۔شہر خاص کے درجنوں علاقوں کوخار دار تاروں سے سیل کیا گیا تھا جبکہ شہر خاص کو سیول لائنز علاقوں سے جوڑنے والی سڑکوں اور پلوں کو بھی خاردار تاروں سے سیل کیا گیا تھا ،تاکہ لوگوں کسی بھی پیش قدمی کو رکا جاسکے ۔فورسز اہلکاروں نے معروف حزب کمانڈر کے مقبررہ اور رہائش گاہ واقع شریف آباد ترال کو مکمل طور پر سیل کیا تھا کہ تاکہ یہاں کسی بھی طرح کے تعزیتی جلسے کو روکا جاسکے ۔یاد رہے کہ حزب المجاہدین کے نامور کمانڈر برہان وانی کو اپنے دو ساتھیوں سمیت 8جولائی 2016کو جنوبی کشمیر کے بمہ ڈورو کوکرناگ میں ایک مختصر جھڑپ کے دوران جاں بحق کیا گیا تھا اور اس واقعہ کے خلاف وادی میں مہینوں تک ایک خونین عوامی تحریک چلی تھی جسے کچلنے کیلئے سرکاری فورسز نے قریب 100 افراد،بشمول بچوں کے،کو جاں بحق اور10ہزار کے قریب دیگر افرادکو زخمی کردیا تھا۔ادھر برہان وانی کی دوسری برسی کے دو روز قبل ہی مزاحمتی لیڈران کے خلاف کریک ڈائون شروع کیا گیا ۔سید علی گیلانی،میر واعظ عمر فارو ق،محمد اشراف صحرائی ،غلام نبی سمجھی کی مسلسل خانہ نظر بندی برقرار رکھی گئی جبکہ محمد یاسین ملک سمیت کئی دیگر مزاحمتی لیڈران جن میں انجینئر ہلال احمد وار،فردوس شاہ وغیرہ شامل ہیں ،کو خانہ نظر بند رکھا گیا۔ادھر اطلاعات کے مطابق ضلع صدر وتحاصیل مقامات پر بھی برہان وانی کی دوسری برسی کے پیش نظر سخت ترین سیکورٹی بندوبست کیا گیا ،یہاں تک حساس قصبوں و علاقوں میں عارضی بندشیں عائد رہیں ۔یاد رہے کہ انتظامیہ نے سنیچر کے روز ہی پوری وادی میں دفعہ144نافذ کیا تھا ۔سخت ترین کرفیو ،پابندیوں اور بندشوں کے باوجود جنوبی قصبہ ترال میں متعدد مقامات پر نوجوانوں نے کرفیو توڑ نے کی کوشش کی ۔ترال سے ملنے والی تفصیلات کے مطابق نو دل ترال میں اُس وقت تشدد بھڑک اٹھا جب نوجوانوں نے کرفیو توڑ نے کی کوشش کی اور برہان وانی کے مقبرے کی طرف پیش قدمی کی ۔اطلاعات کے مطابق نوجوانوں کی ٹولیاں یہاں نمودار ہوئیں ،جنہوں نے برہان وانی کو خراج عقیدت پیش کرنے کی غرض سے مذکورہ جاں بحق جنگجو کے آبائی گائوں کی طرف مارچ کرنے کی کوشش کی ،تاہم یہاں پہلے سے تعینات فورسز کی بھاری نفری نے اُن کا راستہ روکا اور آگے جانے کی اجازت نہیں دی ۔اس موقعے پر مظاہرین اور فورسز کے درمیان مزاحمت ہوئی ،جس دوران فورسز اہلکاروں نے مظاہرین کو تتر بتر کرنے کیلئے ٹیر گیس شلنگ کی ،جسکے ساتھ ہی مظاہرین مشتعل ہوئے اور انہوں نے فورسز پر خشت باری کی ۔مظاہرین نے برہان کے حق میں نعرہ بازی کی اور یہاں کئی گھنٹوں تک فورسز اہلکار اور مظاہرین ایکدوسرے کے ساتھ اُلجھتے رہے ۔دریں اثناء ۔ادھر کولگام میں فورسز کی فائرنگ سے جاں بحق ہونے والے کمسن طالبہ سمیت 3عام شہریوں کے حق میں غائبانہ نماز جنازہ بھی ادا کی گئی ۔لبریشن فر نٹ کے اہتمام سے مائسمہ میں نماز ِ ظہر کے موقعے پر عام شہریوں کے حق میں غائبا نہ نماز جنازہ ادا کی گئی ۔ادھر کشمیر یونیورسٹی کے طلاب نے بھی برہان وانی کی دوسری برسی کے موقعے پر احتجاجی مظاہرے کئے ۔انہوں نے اپنے ہاتھوں میں برہان وانی کے تصاویر والے بینر بھی اٹھا ک رکھے تھے ۔پولیس تر جمان کا کہنا ہے کہ وادی میں مجموعی طور پر اتوار کو امن وقانون کی صورتحال پرامن رہی ۔انہوں نے کہا کہ احتیاطی طور پر ترال میں کرفیو نافذ کیا گیا جبکہ امن وقانون کی صورتحال برقرار رکھنے کیلئے کئی حساس علاقوں میں پابندیاں اور بندشیں عائد رہیں ۔ان کا کہناتھا کہ یہ تمام تر اقدامات عوام کے جان ومال کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے اٹھائے گئے ۔

