حریت کانفرنس”گ“ کے مجوزہ سیمینار پر قدن،حریت برہم

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر:پولیس نے جمعرات کو حریت کانفرنس”گ“ کے مجوزہ سیمینار زیرِ عنوان ”مسئلہ کشمیر کا حل حقِ خودارادیت کے آئینے میں“ پر پابندی لگادی اور حریت چیرمین سید علی گیلانی جو 8سال سے بدستور اپنے گھر میں نظر ہیں ،کے علاوہ میر واعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق اور محمد اشرف صحرائی کو بھی دوبارہ اپنے اپنے گھروں میں نظربند کردیا گیا جبکہ محمد یٰسین ملک کو سرینگر سینٹرل جیل، حریت ترجمان غلام احمد گلزار اور مولوی بشیر احمد عرفانی کو تھانہ شیر گھڑی، محمد یوسف نقاش کو تھانہ صفاکدل اور محمد یٰسین عطائی اور سید امتیاز حیدر کو بڈگام تھانے میں نظربند کردیا گیا۔

بیان میں حکومتی کارروائی کو بدترین قسم کی ریاستی دہشت گردی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ موجودہ کٹھ پتلی حکومت آر ایس ایس کے ایجنڈے کو جموں کشمیر میں عملانے کے لیے پُل کا کردار ادا کررہی ہے۔ حریت کانفرنس نے خبردار کیا کہ پُرامن سیاسی سرگرمیوں پر پابندی لگانے کی پالیسی کے خطرناک نتائج نکلیں گے اور اس طرح کی کارروائیوں کا شدید ردّعمل سامنے آئے گا۔

بیان کے مطابق حریت کانفرنس نے 04جنوری جمعرات کو حیدرپورہ میں ایک روزہ سیمینار منعقد کرنے کا فیصلہ کیاتھا، یہ ایک مکتبی (Accadamic) پروگرام تھا جس کا انعقاد چاردیواری کے اندر ہورہا تھا، البتہ پولیس نے جمعرات صبح صویرے سے تحریک حریت دفتر کو محاصرے میں لے لیا اور لوگوں کی نقل وحمل پر مکمل طور پابندی لگادی گئی، پولیس کی ایک بھاری تعداد ائیرپورٹ روڑ پر تعینات کردی گئی تھی اور کسی بھی شخص کو تحریک حریت دفتر کی طرف بڑھنے کی اجازت نہیں دی گئی اور اسطرح اس پروگرام کو طاقت کے بل پر منعقد ہونے نہیں دیا گیا جو کہ ریاستی دہشت گردی کی بدترین مثال ہے اور جمہوریت کے دعویداروں کے چہروں پر کالک ملنے کے مترادف بھی ہے۔

اخبارات کے لیے جاری اپنے ایک بیان میں چیرمین حریت سید علی گیلانی نے اقوام متحدہ میںجموں کشمیر کے مسئلے کے حوالے سے منظور کی گئی قرادادوں کو بنیادی اساس قرار دیتے ہوئے کہا کہ بھارت کی ہٹ دھرمی اورمسلسل انکار سے ایک ایسی ہمالیائی حقیقت کو جھٹلاناممکن نہیں،جس کے لئے اس ادارے نے تسلسل کے ساتھ18قرادادوں کو پاس کیا ہو۔5 جنوری1949کو اقوام متحدہ میں پاس کی گئی قراداد کا تذکرہ کرتے ہوئے آزادی پسند راہنما نے کہا کہ 70سال گزرنے کے باوجود ان قراداوں کی اہمیت اور افادیت برقرار ہے، البتہ اس تلخ حقیقت سے انکار ممکن نہیں کہ یہ عالمی ادارہ ہماری امیدوں کے برعکس مظلوموں کے تئیں موثر رول ادا کرنے سے قاصر رہا اور سیاسی معاملات حل کے دوران اس ادارے کے ممبران نے تجارتی مفادات کو ترجیح دی اور یوں ان قرادادوں پر عمل درآمد نہ ہوسکا جس وجہ سے سیاسی غیر یقینیت ، اضطراب اور بے چینی کی صورتحال برابر جاری ہے۔

5جنوری 1949ءکی قراردادوں کا حوالہ دیتے ہوئے حریت راہنما نے کہاکہ ریاست جموں کشمیر کے لوگوں کو یہ اختیار دیا گیا ہے کہ وہ استصواب کے ذریعے اپنے مستقبل کا فیصلہ کریںجس کو بھارت اور پاکستان کی دونوں حکومتوں نے تسلیم کیا ہوا ہے۔ اس قرارداد کے مطابق ریاست کے ہر فرد کو بلا لحاظ مذہب وملّت اظہارِ رائے کی پوری آزادی ہوگی اور کسی جائز سیاسی سرگرمی پر کوئی پابندی نہیں ہوگی اور نہ ہی کسی فرد کو اپنی اظہارِ رائے کے لیے انتقام گیری کا نشانہ بنایا جائے گا لیکن بھارت کی ہٹ دھرمی اور فوجی طاقت کے بل بوتے پر جہاں اس خطے پر اپنی چودھراہٹ قائم کرنا چاہتا ہے ،وہی کشمیر سے متعلق بین الاقوامی اداروں میں کئے گئے وعدوں سے مکر رہا ہے ۔

آزادی پسند راہنما نے کرﺅشیائ،جنوبی سوڈان ،اسکاٹ لینڈ اور مشرقی تیمور کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر ان خطوں میں سلامتی کونسل کی مداخلت ممکن ہے تو جموں کشمیر کے معاملے میں تساہل کا مظاہرہ کیوں کیا جارہا ہے؟انہوں نے یاد دلایا کہ تقسیم ہندکے فارمولہ کے تحت اگر متحدہ ہندوستان میں موجود ساڑھے پانچ سو ریاستوں کے لئے ممکن تھا تو اس فارمولے کو جموں کشمیر کے لئے اپنانے میں کونسی مصلحت روک بنی ہوئی ہے۔ حریت چیرمین نے کہا کہ بھارت اپنی روائتی ہٹ دھرمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ریاست پر ظلم و جبر کے بل پر اپنا قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے جس سے پوری عالمی دنیا واقف ہے کہ کس طرح بھارت نے یہاں کے لوگوں کی خواہشات کے برعکس اپنی فوجیں اتاردی اور نشہ¿ قوت کے بل پر اپنا جارحانہ قبضہ جاری رکھے ہوئے ہے ۔انہوں نے اپنے بیان میں عالمی ادارے کو غفلت سے بیدار ہونے اور اس خطے میں سسکتی انسانیت کو بچانے کے لئے اپنا موثر رول ادا کرنے کی تاکید کرتے ہوئے کہا کہ اگر اس سلسلے میں مزید تساہل برتا گیا تو اس خطے میں انسانی زندگیاں ختم ہونے کا اندیشہ ہے۔

انہوں نے واضح کیا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے سلسلے میں بھارت، پاکستان اور کشمیری عوام کی نمائندہ قیادت اس کے اصل اور بنیادی فریق ہیں اور ان میں سے کسی بھی فریق کو نظر انداز کرنے اور کشمیری عوام کی خواہشات کا لحاظ نہ رکھنے سے کسی بھی حل کی جانب کوئی پیش رفت ممکن نہیںاور یہ 70سال کے طویل عرصے نے بھی ثابت کردیا ہے کہ غیر روائتی اور غیر فطری طریقے سے آج تک کوئی نتیجہ برآمد ہوا ہے اور نہ آئندہ ایسا ممکن ہوسکتا ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے