بجلی ، پانی اور بیکار ٹرانسفارمروں کے خلاف وادی کے شمال وجنوب میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری

By
4 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

کئی اہم شاہراہ پر مظاہرین کا دھرنا ،ٹریفک کی نقل و حمل کئی گھنٹوں تک مسدود ،مسافر مشکلات کے شکار

سرینگر/22نومبر: بجلی ، پانی اور بیکار ٹرانسفارمروں کے خلاف وادی کے شمال وجنوب میں لوگوں نے سڑکوں پر آکر احتجاجی مظاہرئے کئے جبکہ ریاست کی گرمائی راجدھانی سرینگر کے سیول لائیز علاقے سورج غروب ہونے کے بعد گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتے ہیں جس پر دکانداروں ، سوناروں ، چھاپڑی فروشوں نے حیرانگی کا اظہار کیا ہے ۔ کرنٹ نیوز آف انڈیا نمائندے کے مطابق برقی رو کی عدم دستیابی نے شدت اختیار کر لی ہے جس کے نتیجے میں آئے دن وادی کے اطراف واکناف میں صارفین سڑکوں پر نکل آتے ہیں ۔وادی کے شما ل و جنوب کے علاقوں میں بجلی کی عدم دستیابی اور پینے کے پانی کی قلت پر لوگوں نے شاہراہ پر رکاوٹیں کھڑی کرکے نوجوانوں کی کثیر تعداد نے پی ڈی ڈی اور پی ایچ ای محکمہ کے خلاف شدید غم وغصے کا اظہار کرتے ہوئے کہاکہ متعلقہ محکموں کو بار بار آگاہ کیا گیا کہ لوگوں کو تشدد پر اتر آنے کیلئے مجبور نہ کیا جائے تاہم دونوں محکمے میں لوگوں کے آگاہ کرنے کے باوجود ٹس سے مس نہیں ہو رہے ہیں اور جان بوجھ کر لوگوں کو مصائب ومشکلات میں مبتلا کرکے انہیں سڑکوں پر آنے کیلئے اکسا رہے ہیں۔ نوجوانوں کا کہنا تھا کہ انتظامیہ لوگوں کے مسائل حل نہیں کر پا رہی ہے اور سرکار ان سے جواب طلب نہیں کر رہی ہے۔ پر امن احتجاج کی یہاں کوئی جوازیت ہی نہیں ہے اور نہ ہی لوگوں کے احتجاج کی طرف سرکار یا انتظامیہ توجہ دیتی ہے۔ یہاں سیدھی انگلی سے گھی نہیں چڑھتا ہے جب تک نہ اس کو ٹیڑا کیا جائے ۔ کسی بھی سرکاری دفتر میں تعینات چھوٹا یا بڑا ملازم عام شہریوں کے مسائل کو سننے کیلئے تیار ہی نہیں ہیں حل کرنے کی تو بات ہی نہیں ہے ۔ ۔ ادھر وسطی ضلع بڈگام کے کئی عاقوں کے صارفین نے شکایت کی کہ ان کا علاقے پندرہ دنوں سے گھپ اندھیرے میں ڈوب گیا ہے پی ڈی ڈی محکمہ بیکار ہوئے ٹرانسفارمروں کو نصب نہیں کر رہا ہے جبکہ گرمائی راجدھانی سرینگر کے سیو ل لائینز علاقے سورج غروب ہونے کے ساتھ ہی گھپ اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے اور دکانداروں ، چھاپڑی فروشوں ، ہوٹل مالکان کے مطابق سیول لائینز علاقوں میں شام کو چھ بجنے کے ساتھ ہی بجلی کی سپلائی کاٹ دی جاتی ہے ۔دکانداروں نے شکایت کی کہ جاڑے کے موسم میں چار بجے سے چھ بجے تک گراہک ان کے دکانوں پر کوئی بھی چیز خریدنے کیلئے آتے ہیں تاہم بجلی کی عدم دستیابی کے باعث وہ پندرہ دنوں سے بیکار بیٹھے ہیں اور چار بجے کے بعد ہی علاقے میں اندھیرا چھا جاتا ہے جس کی وجہ سے ان کا کاروبار بری طرح سے چوپٹ ہو کر رہ گیا ہے جبکہ محکمہ پی ڈی ڈی کو بار بار اس بات سے آگاہ کیا گیا کہ اس کاروبار والے علاقے میں برقی رو ستیاب رکھنے کیلئے اقدامات اٹھائے جائیں یہ علاقہ جہاں کاروبار کے لحاظ سے مشہور و معروف ہیں وہی وادی کشمیر کی ایک اہم جگہ بھی ہے جب راجدھانی کے ہی لوگ بجلی سے محروم ہوں تو دوسرے دور دراز علاقوں کی حالت کیا ہوگی یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ۔

Share This Article