SHRCمیں پیش کردہ پولیس رپورٹ میں خلاصہ
سری نگر:۶،جون:/ ریاستی پولیس نے دعویٰ کیاہے کہ ماہ اپریل کی پہلی اورگیارہویں تاریخ کوجنوبی ضلع شوپیاں کے درگڑ،کاچی ڈورہ اوروانی محلہ کھڈونی کولگام میں جو8عام شہری مارے گئے ،وہ سبھی سنگبازتھے ،کیونکہ بقول پولیس انہوں نے جنگجومخالف آپریشنوں میں رخنہ النے کی کوشش کی۔ کے این این کے مطابق ضلع شوپیان کے درگڑاورکاچی ڈورہ علاقوں میں یکم اپریل2018اورضلع کولگام کے وانی محلہ کھڈونی میں11اپریل 2018کوفوج اورجنگجوؤں کے درمیان ہوئی معرکہ آرائیو ں کے دوران 8عام شہری مارے گئے تھے،ان شہری ہلاکتوں کے حوالے سے مقامی حقوق انسانی کارکن اورانٹرنیشنل فورم فارجسٹس کے چیئرمین محمداحسن اونتونے ریاستی حقوق انسانی کمیشن میں الگ الگ عرضیاں دائرکرتے ہوئے مہلوک شہریوں کے لواحقین کے حق میں معاوضہ فراہم کرنے کامطالبہ کیاتھا۔کمیشن نے محمداحسن اونتوکی عرضیوں کو زیرسماعت لانے کے بعداپنے طورپران کی انکوائری عمل میں لائی ۔ایس ایچ آرسی کی انکوائری کمیٹی نے شہری اموات کے ان دونوں واقعات کی مناسبت سے آئی جی پی کشمیرسے رپورٹ طلب کی ۔آئی ایف جے چیئرمین محمداحسن اونتوکے بقول آئی جی پی کشمیرکی جانب سے جنوبی کشمیرمیں ماہ اپریل میں رونماہوئے شہری ہلاکتوں کے حوالے سے ایک رپورٹ زیرنمبرKZ/HZ-44/2018/20625-26بتاریخ 16مئی2018حقوق انسانی کمیشن میں پیش کی گئی ۔اپنی رپورٹ میں پولیس نے دعویٰ کیاہے کہ یکم اپریل اور11اپریل2018کوضلع شوپیاں کے درگڑ،کاچی ڈورہ اوروانی محلہ کھڈونی کولگام میں جو8عام شہری بشمول معراج الدین میرساکنہ اوکے کولگام،محمداقبال ساکنہ کھاسی پورہ شوپیان،زبیراحمدبٹ ومشتاق احمدٹھوکرساکنان درگڈشوپیان ، سرجیل احمدشیخ ساکنہ کھڈونی کولگام ،بلال احمدتانترے ساکنہ فرصل کولگام ،فیصل الٰہی ساکنہ ملہورہ شوپیان اوراعجازاحمدپالاساکنہ بجبہاڑہ شامل ہیں ،فوج اورفورسزکی فائرنگ کانشانہ بن کرجاں بحق ہوئے تھے ۔ ڈی آئی جی پی جنوبی کشمیرکی جانب سے حقوق انسانی کمیشن میں پیش کردہ رپورٹ میں دعویٰ کیاہے کہ مذکورہ بالاآٹھ شہری جنگجومخالف کارروائیوں میں رخنہ ڈالنے کیلئے سنگباری کرتے ہوئے مارے گئے۔ادھرحقوق انسانی کارکن محمداحسن اونتونے ریاستی حقوق انسانی کمیشن میں پیش کردہ پولیس رپورٹ پرسوال اُٹھاتے ہوئے کہاکہ پولیس کی اولین ذمہ داری ہے کہ وہ عام شہریوں کوتحفظ فراہم کرے لیکن بدقسمتی سے جموں وکشمیرپولیس نے ایساطورطریقہ اپنالیاہے کہ جب بھی فوج یافورسزکسی جگہ سنگین نوعیت کی پامالیوں اورخلاف ورزیوں بشمول حراستی اموات ،فرضی جھڑپوں اورشہری ہلاکتوں کے واقعات کے مرتکب ہوئے توپولیس نے ان خلاف ورزیوں اورسنگین پامالیوں پرپردہ ڈالنے کیلئے اصل حقائق کوتوڑمروڑکے پیش کیا،اوربعض اوقات مہلوک شہریوں کومجرم اورفوجی وفورسزاہلکاروں کومعصوم قراردیاگیا۔

