سری نگر:چلہ کلان کا جلوہ شباب پر پہنچ گیا ہے،جبکہ مطلع صاف رہنے کے باعث شبانہ درجہ حرارت میں تنزلی کے دوران شمالی کشمیر کے کپوارہ میں درجہ حرات منفی5.3اور جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ میں منفی5جبکہ سرینگر میں منفی4.6 ڈگری سیلشیس ریکارڑ کیا گیا۔ محکمہ موسمیات نے17 امکانی طور پرجنوری تک موسم خوشک رہنے کی پیشن گوئی کی ہے۔ادھر سخت سردی اور منفی درجہ حراست کی وجہ سے جھیل ڈل سمیت بیشتر آبی ذخائر کے کچھ حصے منجمند ہو گئے ہیں۔
دن اوررات کے وقت آسمان یامطلع صاف رہنے کی وجہ سے کشمیروادی میں دن رات کے درجہ حرارت میں گراؤٹ آرہی ہے جسکے نتیجے میں اہل وادی کو انتہائی تکلیف دہ یخ بستہ ہواؤں اورشدیدسردی کاسامناکرناپڑرہاہے۔گزشتہ ماہ میدانی علاقوں میں بارشیں وبرائے نام برف باری اوربالائی علاقوں میں سفیدچادرکی موٹی تہہ بچھ جانے کے بعددرجہ حرارت میں قدرے بہتری واقعہ ہوئی جبکہ کشمیراوراہل کشمیرکومہینوں پرمحیط خشک موسمی صورتحال سے بھی نجات مل گئی لیکن پچھلے2 ہفتوں سے موسم خشک اورمطلع صاف رہنے کے بعدپھرایک مرتبہ کشمیروادی میں درجہ حرارت تنزلی کاشکارہے ۔
سری نگرمیں قائم محکمہ موسمیات میں تعینات ماہرین نے آسمان صاف رہنے کے باعث درجہ حرارت گراؤٹ کے شکارہوجانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ رات کے وقت مطلع صاف رہنے کی وجہ سے ہی پارہ نقطہ انجمادسے پھرکافی نیچے آرہاہے ۔انہوں نے جمعہ اورسنیچرکی درمیانی وادی کے مختلف علاقوں میں درج شبانہ درجہ حرارت کی معلومات فراہم کرتے ہوئے کے این ایس کوبتایاکہ گزشتہ رات سرینگر میں کم از درجہ حراست منفی4.6ڈگری سیلشیش ریکارڈ کیا گیا،جبکہ اس سے ایک رواز قبل یہ منفی3.2ڈگری سیلشیش تھا۔
انہوں نے کہاکہ شمال وجنوب پوری وادی میں رات کادرجہ حرارت نقطہ انجمادسے نیچے رہا،اورمطلع صاف رہناہی اسکی وجہ ہے ۔ جنوبی کشمیر کے قاضی گنڈ میں گزشتہ رات کا کم از کم درجہ حراست منفی5جبکہ کوکر ناگ کا منفی2.7ڈگری سیلشیس ریکارڑ کیا گیا۔محکمہ موسمیات کے مطابق شمالی کشمیر میں کپوارہ کا کم از کم درجہ حراست منفی5.3دگری سیلشیس ریکارڑ کیا گیا۔جنوبی کشمیر کے معروف سیاحتی مقام پہلگام مین گزشتہ رات کا کم از کم درجہ حرات منفی6.1جبکہ گلمرگ مین کم از کم درجہ حرارت منفی4.5ڈگری سیلشیس ریکارڑ کیا گیا۔موسمیاتی ماہرین کاکہناتھاکہ لداخ خطہ پوری طرح سے شدیدترین سردی کی لپیٹ میں آچکاہے اوراس خطے کے دوضلعوں لیہہ اورکرگل میں رات کے وقت پارہ کافی نیچے رہتاہے ۔انہوں نے بتایاکہ جمعہ اورسنیچرکی درمیانی رات کرگل اورلیہہ میں شبانہ درھہ حرارت بالترتیب منفی7.7اورمنفی 15ڈگری سیلشیس ریکارڈکیاگیا۔محکمہ موسمیات کے ماہرین کاکہناتھاکہ خطہ چناب اورخطہ پیرپنچال کے ساتھ ساتھ جموں شہراوراسکے نزدیکی اضلاع میں بھی شبانہ درجہ حرارت معمول سے کافی نیچے رہا۔محکمہ موسمیات نے پیشن گوئی کی ہے کہ17جنوری تک مجموعی طور پر موسم خوشک رہنے کا امکان ہیں۔
ادھر سخت سردی اور یخ بستہ ہواں کے علاوہ منفی درجہ حراست سے معروف جھیل ڈل کا ایک حصہ اور دیگر آبی ذکائر کے کچھ حصے منجند ہو گئے ہیں۔ سنیچرکی صبح بیشتر آبی ذخائر اور پینے کے پانی کی سپلائی لائنوں کو منجمند پایا گیا۔ منفی درجہ حرارت کے باعث سرینگر میں سیاحوں کی تفریح کے مرکز شہرہ آفاق ڈل جھیل اور اس سے ملحقہ ندی نالوں بشمول ڑونٹھ کوہل کو اتوار کی صبح جزوی طور پر منجمند پایا گیا۔ ڈل جھیل کو سنیچرکی صبح ایک بار پھر جزوی طور پر منجمند پایا گیا۔
اگرچہ اچھی خاصی دھوپ کھلنے کے بعد منجمند حصے پگھل گئے، تاہم ڈل کے اندرونی حصے بدستور منجمند پڑے ہوئے ہیں۔ منفی درجہ حرارت کے باعث سرینگر اور وادی کے دوسروں حصوں میں پینے کے پانی کی سپلائی متاثر ہورہی ہے۔ڈل کے اندرونی علاقوں میں شکارہ والوں کو یخ کی پرت توڑ کر شکاروں کے لئے جگہ بناتے ہوئے دیکھا گیا۔ادھر دیگر آبی ذخائر کا بھی یہی حال ہے،جو کہ سخت ترین سرود کی وجہ سے منجمند ہوگئے ہیں۔

