بجلی کی دستیابی کے سلسلے میں محکمہ پی ڈی ڈی کے بلند بانگ دعوے بے بنیاد

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
Tameel Irshad Representational Picture

سرینگر/یکم اکتوبر: بر قی رو کی دستیابی کے بارے میں پی ڈی ڈی محکمہ کے بلند بانگ دعوے جھوٹ کاپلندا ثابت ہو رہا ہے جبکہ پوری وادی میںموسم سرما سے قبل ہی جبری کٹوتی ،طلبہ و طالبات کی تعلیم متاثر، دن ڈھلنے کیسا تھ ہی سینکڑوںعلاقے گھپ اندھیرے میںڈھوب جاتے ہیں ،بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے صارفین پریشا نیوںمیں مبتلا ۔ لوگوںنے کہا کہ ابھی موسم سرما شروع ہونا باقی ہے اور محکمہ بجلی نے آنکھ مچولی جاری رکھی ہے ۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر میں موسم سرما کی آمد سے قبل ہی اگرچہ وادی میں بجلی کی صورتحال کو بہتر بنانے کیلئے انتظامیہ متحرک ہو جاتی ہے تاہم رواں برس کی حالت مختلف ہے اور آج سے ہی بجلی کی آنکھ مچولی شروع ہو گئی ہے جس پر لوگوںنے سخت برہمی کااظہار کیا ہے ۔ وادی کے سینکڑوں علاقوں سے لوگوںنے بر قی رو کی عدم دستیابی کی شکایت کرتے ہو ئے کہا کہ رواں برس میں پی ڈی ڈی محکمہ نے سرما کے ایام سے قبل ہی جبری بجلی کٹوتی سلسلہ شروع کر دیا ہے جس کیوجہ سے لوگ پریشا نیوںمیں مبتلا ہوگئے ہیں ۔عوا می حلقوںکے مطابق بر قی رو کی کٹوتی کے بارے میں پی ڈی ڈی محکمہ نے کسی بھی طرح کا پروگرام مشتہر نہیں کیا ہے دن ڈھلنے کے سا تھ ہی 80 فیصد علاقے گھپ آندھیرے میں ڈھوب جاتے ہیں اور اور پی ڈی ڈی محکمہ کی جا نب سے حسب روایت 10سے16 گھنٹوں تک بر قی رو منقطع کی جاتی ہے وادی کے دس اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگوںکے مطابق بجلی کی عدم دستیابی کی وجہ سے طلبہ و طالبات کی تعلیم متاثر ہو رہی ہے ۔لوگوںکے مطابق محکمہ کٹوتی کے بارے میں جوپروگرام منظر عام پر لاتا ہے اس پر عمل نہیںکی جاتی ہے بلکہ برقی رو چندگھنٹوں کیلئے بحال کرکے صارفین سے بجلی فیس وصول کرنے کی کاروا ئیاں عمل میںلا ئی جارہی ہے ۔

Share This Article