پیک اوقات میں بجلی استعمال پر اضافی سرچارج کی تجویزنا قابل قبول:کے ٹی اے

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر

کشمیر ٹریڈ الائنس نے کشمیر پاور ڈویلپمنٹ کارپوریشن لمیٹڈ کی جانب سے پیک اوقات میں بجلی استعمال پر اضافی 20 فیصد سرچارج عائد کرنے کی مجوزہ تجویز کی سخت مخالفت کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ، غیر منطقی اور ناقابلِ قبول قرار دیا ہے۔

آج جاری بیان میں کشمنیر ٹریڈ الائنس کے صدر اعجاز شہدار نے کہا کہ وادی میں سخت سردی کے موسم کے آغاز سے قبل اس طرح کے فیصلے عوام اور کاروباری طبقے کو شدید متاثر کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ صارفین پر اضافی بوجھ ڈالنے کے بجائے محکمہ کو بجلی ڈھانچے کی بہتری اور خدمات کی فراہمی پر توجہ دینی چاہیے۔

اعجاز شہدار نے کہا کہ انتظامیہ اور محکمہ بجلی نے سمارٹ میٹر نصب کرنے کے بعد عوام کو 24 گھنٹے بلا تعطل بجلی فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا، تاہم زمینی صورتحال ان دعوؤں کے برعکس ہے۔ انہوں نے کہا۔“صارفین مسلسل اور بے وقت کٹوتیوں کا سامنا کر رہے ہیں، اور مسائل دور کرنے کے بجائے محکمہ بجلی شرحوں میں اضافہ کرکے عوام کو سزا دینا چاہتا ہے،”

کے ٹی اے صدر کے مطابق کشمیر میں تجارت اور کاروبار پہلے ہی معاشی جمود کا شکار ہیں، لہٰذا پیک اوقات میں سرچارج نافذ کرنے سے کاروباری سرگرمیوں کے اخراجات مزید بڑھ جائیں گے اور پہلے سے متاثر کاروباری طبقے پر اضافی دباؤ پڑے گا۔

Share This Article