اودھم پور جھڑپ :بسنت گڑھ جنگلاتی علاقے میں مسلسل تیسرے روز بھی آپریشن جاری

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
Kathua, Jul 09 (ANI): Security personnel conduct a search operation, where an army convoy was attacked by terrorists in the Machedi area, in Kathua on Tuesday. Reportedly, five Indian soldiers lost their lives in the attack. (ANI Photo)

جموں، 28 جون

جموں و کشمیر کے ضلع اودھم پور کے بسنت گڑھ کے گھنے جنگلاتی علاقے میں چھپے ملی ٹنٹوں کی تلاش کے لئے سیکورٹی فورسز کا ہفتے کو مسلسل تیسرے روز بھی وسیع پیمانے پر تلاشی آپریشن جاری ہے۔ذرائع کے مطابق دہشت گردوں کی تلاش کے لئے سراغ رساں کتوں، ڈرون اور دیگر وسائل کو استعمال کیا جا رہا ہے اور سیکورٹی فورسز اہلکار جنگل کے چپے چپے اور ہر مشتبہ جگہ کو انتہائی باریک بینی سے کھنگال رہے ہیں۔

واضح رہے کہ بسنت گڑھ جنگل میں جمعرات کو سکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں جیشِ محمد کا ایک پاکستانی دہشت گرد ہلاک ہو گیا تھا، جس کی شناخت ’مولوی‘ عرف ’حیدر‘ کے طور پر کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق مذکورہ دہشت گرد گروہ ایک سال سے سکیورٹی ایجنسیوں کی نگرانی میں تھا۔ جمعرات کی صبح، آرمی اور پولیس کی مشترکہ ٹیم نے بسنت گڑھ کے علاقے میں ان کا سراغ لگایا۔ دہشت گرد نالہ کے قریب چھپے ہوئے تھے جہاں پیرا کمانڈوز کی قیادت میں انہیں للکارا گیا، جس کے نتیجے میں جھڑپ ہوئی اور ایک دہشت گرد مارا گیا۔

حکام نے بتایا کہ یہ دہشت گرد مقامی سہولت کاروں (اوور گراؤنڈ ورکرز) کی مدد سے گھنے جنگلات اور غاروں میں چھپ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہو رہے تھے۔ گزشتہ چند مہینوں میں بسنت گڑھ بیلٹ سے پانچ سہولت کاروں کو گرفتار بھی کیا گیا ہے، جن پر دہشت گردوں کو خوراک اور پناہ فراہم کرنے کا الزام ہے۔ اس کے علاوہ، ایک مقامی دہشت گرد جو کئی سال بعد پاکستان سے واپس آیا ہے، بھی اس گروپ کی سرگرمیوں میں معاونت کر رہا ہے۔سیکورٹی ذرائع کے مطابق دہشت گرد گھنے جنگلات میں ہی چھپے بیٹھے ہیں اور انہیں مار گرانے کی خاطر جدید ٹیکنالوجی کو بھی بروئے کار لایا جارہا ہے۔

Share This Article