ایران میں پھنسے کشمیری طلباء کی واپسی کشمیر ٹریڈ الائنس کا وزارت خارجہ سے مطالبہ

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر، 15 جون:

کشمیر ٹریڈ الائنس نے مرکزی وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر سے ایک فوری اپیل کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ایران میں موجود جموں و کشمیر کے طلباء کی بحفاظت واپسی کے لیے فوری اور مؤثر اقدامات کریں، کیونکہ تل ابیب اور تہران کے درمیان جاری کشیدگی میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ کشمیر ٹریڈ الائنس کے صدر اعجاز شہدار نے ایران میں زیر تعلیم کشمیری طلباء کی سلامتی اور خیریت پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

انہوں نے کہا”ہمارے خطے کے کئی طلباء اس وقت ایران کی مختلف تعلیمی اداروں میں زیر تعلیم ہیں، اور ان کے اہل خانہ انتہائی پریشانی اور خوف کا شکار ہیں کیونکہ حالات لمحہ بہ لمحہ بگڑتے جا رہے ہیں۔”اعجاز شہدار نے کہا کہ وزارت خارجہ کو چاہیے کہ وہ فوری طور پر ان طلباء کی واپسی کے لیے ہنگامی بنیادوں پر اقدامات کرے تاکہ ان کی سلامتی کو یقینی بنایا جا سکے اور اہل خانہ کو ذہنی سکون حاصل ہو۔کشمیر ٹریڈ الائنس نے زور دیا کہ ایران میں کشیدگی کے پیش نظر طلباء اور ان کے والدین میں شدید اضطراب پایا جا رہا ہے، اور اس وقت ایک مؤثر انخلائی منصوبہ ترتیب دینا ناگزیر ہے۔

اتحاد نے متعلقہ اداروں کے ساتھ قریبی تال میل قائم کرنے اور جلد از جلد طلباء کو بحفاظت وطن واپس لانے کا مطالبہ کیا۔اعجاز شہدار نے مزید کہا’”ہم وزیر خارجہ ڈاکٹر ایس جے شنکر اور وزارت خارجہ سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس معاملے کو نہایت سنجیدگی سے لیں۔ یہ نوجوان ہمارے مستقبل کی امید ہیں، اور ان کی حفاظت ہماری فوری ترجیح ہونی چاہیے۔”کشمیر ٹریڈ الائنس کی یہ اپیل ایسے وقت پر سامنے آئی ہے جب ایران اور اسرائیل کے درمیان تنازعہ شدت اختیار کر چکا ہے، اور ایران میں موجود متعدد کشمیری طلباء کی زندگیاں خطرے سے دوچار ہیں۔

Share This Article