کولگام واقعے پر اسمبلی میں ہنگامہ خیز مناظر

By
2 Min Read
Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سری نگر، 17 مارچ

جموں وکشمیر قانون ساز اسمبلی میں پیر کے روز کولگام میں دو لاپتہ بھائیوں کی لاشیں بر آمد ہونے اور اس واقعے پر احتجاج کرنے والوں کے ساتھ پولیس افسر کے برتاؤ کے خلاف ہنگامہ خیز مناظر دیکھے گئے۔
پیر کی صبح جوں ہی اسمبلی میں سوال و جواب کا سیشن شروع ہوا تو ارکان اسمبلی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور کولگام میں دو لاپتہ بھائیوں کی لاشیں بر آمد ہونے کی تحقیقات کرنے اور اس واقعے پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف ایک پولیس افسر کے برتائو پر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔
پی ڈی پی کے رکن اسمبلی وحید پرہ نے کہا، ‘گجر کمیونٹی کی پہلے بدھل کٹھوعہ اور اب کولگام میں پر اسرار اموات ہو رہی ہیں، اس کی مکمل تحقیقات ہونی چاہئے اور اس پر بات ہونی چاہئے’۔
نیشنل کانفرنس کے رکن اسمبلی نذیر گریزی نے کولگام واقعے پر احتجاج کرنے والوں کے خلاف ایک پولیس افسر کے مبینہ نامناسب بر تائو کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا۔
واضح رہے کہ کولگام میں گذشتہ ماہ ریاض احمد بجاڈ، اس کا چھوٹا بھائی شوکت احمد بجاڈ اور تیسرا شخص مختار احمد لاپتہ ہو گئے تھے۔
ان میں سے دو بھائیوں کی لاشیں ویشو نالے سے بر آمد کی گئیں جبکہ تیسرے لاپتہ شخص کی تلاش جاری ہے۔
اس واقعے پر کولگام میں لواحیقن اور مقامی لوگوں نے اتوار کے روز احتجاج درج کیا۔

Share This Article