ریاستی اور مرکزی سرکار کی غلطیوں سے جموں کشمیر میں غیر یقینیت کا رجحان: ڈاکٹر فاروق عبداللہ

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر//ریاستی اور مرکزی سرکار کی مسلسل غلطیوں کی وجہ سے جموں وکشمیر میں غیریقینیت کی صورتحال ہر گزرتے دن کیساتھ بڑھ رہی ہے، غیر سنجیدہ فیصلوں، غلط پالیسی اور غیر دانشمندانہ اقدامات یہاں ناخوشگوار فضاءقائم ہوئی جس کا سو فیصدی خمیازہ اہل کشمیر کو بھگتنا پڑ رہاہے۔ ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے آج اپنی رہائش گاہ پر پارٹی لیڈران، عہدیداران اور متعدد عوامی وفود کے ساتھ تبادلہ خیالات کرتے ہوئے۔

اس موقعہ پر پارٹی کے جنرل سکریٹری علی محمد ساگر، سینئر نائب صدر چودھری محمد رمضان، پارٹی لیڈران عرفان احمد شاہ، تنویر صادق اور مشتاق احمد گوروبھی موجود تھے۔انہوں نے کہا کہ ریاست اس وقت بدترین سیکورٹی، سیاسی، انتظامی اور اقتصادی بدحالی کی شکار ہے جبکہ یہاں لوگوں کو دور دور تک مایوسی کے سوا کچھ نظر نہیں آتا، حکمران جماعت پی ڈی پی آر ایس ایس کے خاکوں میں رنگ بھرنے میں مصروف ہے اور عوام کا کوئی پُرسانِ حال نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ اس وقت وادی کے حالات 90ءسے بدتر ہے تو غلط نہ ہوگا۔

عوامی مایوسی اور حالات کی ابدتری کا اندازہ اس بات سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ پارلیمانی حلقہ اننت ناگ کیلئے 2سال سے انتخابات منعقد نہیں ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حقیقت یہ ہے کہ کرسی پی ڈی پی کا ایمان ہے اور کرسی کیلئے یہ جماعت کسی بھی حد تک گر سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرحوم مفتی محمد سعید کی انتقال کے بعد پی ڈی پی والوں نے بھاجپا کے ساتھ دوبارہ اتحاد کرنے کیلئے 2ماہ تک ڈرامہ بازی کی اور لوگوں کو یہ بات باور کرانے کی کوشش کی گئی کہ ایجنڈا آف الائنس کو لیکر رسہ کشی چل رہی ہے۔

لوگوں کو بتایا گیا کہ افسپا کی منسوخی، 2بجلی گھروں کی واپسی ، سیلابی امداد اور اعتماد سازی کے ماحول کے بعد ہی پی ڈی پی دوبارہ بھاجپا کیساتھ اتحاد کرے گی۔ لیکن سب کچھ عبث ،سارے شوشے سراب ثابت ہوئے۔ محبوبہ مفتی نے پرانی تنخواہ پر ہی کام کرکے اقتدار کو غنیمت سمجھا۔ آج محبوبہ مفتی کو وزیر اعلیٰ بنے 2سال کا عرصہ ہوگیا لیکن عوام کو جو سبز باغ دکھائے گئے اُن میں سے ایک بھی پورا نہیں ہوا۔ پی ڈی پی والوں نے افسپا کی منسوخی کو بھاجپا کیساتھ اتحاد کی بنیاد جتلایا تھا لیکن آج محبوبہ مفتی کہتی ہیں کہ افسپا کی منسوخی کیلئے وقت موزون نہیں۔ ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا کہ ایک طرف اس بات کے دعوے کئے جارہے ہیں کہ پتھراﺅ اور سنگ بازی ختم ہوگئی ہے اور دوسری جانب آئے روز نوجوانوں کو سنگ بازی کے الزام میں گرفتارکیا جارہا ہے۔

جتنے پی ایس اے گذشتہ ایک دہائی میں عائد کئے گئے تھے محبوبہ مفتی نے اپنے دورِ حکومت کے صرف دو سال میں اُس سے زیادہ نوجوانوں پر پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کیا۔ شبانہ تلاشیوں، کریک ڈاﺅنوں اور توڑ پھوڑکا سلسلہ اب معمول بن کر رہ گیا ہے۔ 90ءمیں بھی اس تعداد میں کریک ڈاﺅن اور چھاپہ مار کارروائیاں نہیں ہوتی تھیں جس تعداد میں آج ہورہے ہیں۔

ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے مرکزی سرکار سے اپیل کی کہ زیادہ دیر ہونے سے قبل صحیح فیصلے لیں اور جموں وکشمیر میں امن کی بحالی کیلئے ٹھوس اقدامات اُٹھائے جائیں، جن میں پاکستان کیساتھ مذاکرات اور اچھے تعلقات سرفہرست ہونے چاہئیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کشمیریوں کا اعتماد اور بھروسہ جیتنے کیلئے بھی بروقت فیصلے لینا ضروری ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے