پیلٹ متاثرین کا پریس کالونی میں احتجاجی دھرنا

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

حکومت نے نظر انداز کیا ،مشکلات کا ازالہ کرنے کےلئے سماجی مدد طلب کی

سرینگر:وادی کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے پیلٹ متاثرین نے پیر کو پریس کالونی سرینگر کے باہر دھرنا دیکر زوردار احتجاجی مظاہرے کئے ۔مظاہرین نے حکومت پر انہیں یکسرنظر انداز کرنے کا الزام عائد کیا کہ اور ان کی مشکلات کا ازالہ کرنے کےلئے سماجی مدد طلب کی۔

سال2016کی ایجی ٹیشن کے دوران فورسز کی طرف سے پیلٹ فائرنگ کی زد میں آکر متاثر ہوئے نوجوان پیر کی صبح شہر کے ریذیڈنسی روڑ پر نمودار ہوئے اور پریس انکلیو کے باہر دھرنے پر بیٹھ گئے۔یہ احتجاج ”پیلٹ وکٹمز ویلفیئرٹرسٹ“ کے بینر تلے منظم کیا گیا جس کا قیام پیلٹ متاثرین کو درپیش مسائل اُجاگر کرنے کےلئے عمل میں لایا گیا ہے۔مظاہرے میں شامل وادی کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے پیلٹ متاثرین میں ایک لڑکی اور بینائی سے محروم نوجوان بھی شامل تھے۔

انہوں نے اپنے ہاتھوں میں بینراور پلے کارڈس اُٹھارکھے تھے جن پر پیلٹ متاثرین کی غمناک تصاویر کے ساتھ ساتھ”مہلک ہتھیاروں کا استعمال بند کرو“ اور”آنکھیں بیش قیمتی ہیں“ کے نعرے درج تھے۔اس موقعے پر بعض پیلٹ متاثرین نے نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ انہیں محبوبہ مفتی کی قیادت والی ریاستی مخلوط سرکار سے کوئی امید نہیں ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے پیلٹ متاثرین کو مکمل طور نظر انداز کیا گیا جس کے نتیجے میں وہ اب تک انصاف کے منتظر ہیں۔

مظاہرین نے بتایا”سماج کا اب ہمارے تئیں ایک مختلف رویہ ہے جس کی وجہ یہ ہے کہ لوگوں کو ایسا لگتا ہے کہ ہمیں سرکاری نوکریاں دی گئی ہیں، یہ بالکل بے بنیاد ہے ، متاثرین کی تعداد 1200سے زیادہ ہے اور ان میں سے صرف12افراد کو سرکاری نوکری فراہم کی گئی ہے“۔ان کا مزید کہنا تھا”ہم سخت مصائب کا سامنا کررہے ہیں اور اب سماج کی مدد حاصل کرنے کےلئے سڑکوں پر نکل آئے ہیں، ہم لوگوں کو یہ پیغام دینا چاہتے ہیں کہ پیلٹ متاثرین نے کوئی سرکاری نوکری یا معاوضہ حاصل نہیں کیا ہے، ہم چاہتے ہیں کہ ہماری مشکلات کا ازالہ کرنے کےلئے سماجی سطح پر ہماری مدد کی جائے“۔

مظاہرین نے بتایا کہ ایسے حالات میں جب حکومت انہیں معذور تسلیم کرنے کےلئے تیار نہیں، ان کے پاس اپنے سماج سے مدد طلب کرنے کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے۔مظاہرے میں شامل ایک نوجوان نے بتایا”سرکار کہتی ہے کہ اسپتالوں میں پیلٹ متاثرین کی فہرست درست نہیں ہے، نام میں کیا رکھا ہے؟کیا ہم نے اپنی آنکھیں نہیں کھوئی ہیں“۔مظاہرین نے کچھ دیر تک پریس کالونی کے باہر دھرنا دیا اور بعد میں پر امن طور منتشر ہوئے، تاہم انہوں نے دھمکی دی کہ اگر ان کی طرف فوری توجہ نہیں دی گئی تو وہ دوبارہ سڑکوں پر نکل آئیں گے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے