شوپیان واقعہ کی تحقیقات اعلیٰ سطحی ایس آئی ٹی سے کرائی جائی، فاروق ڈار کیلئے سنگباز ہونا ہی بہتر ہوتا: عمر عبداللہ

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

 

موں، 2 فروری (یو ا ین آئی) جموں وکشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبداللہ نے جنوبی کشمیر کے ضلع شوپیان میں گذشتہ ہفتے فوجی فائرنگ میں تین جواں سال نوجوانوں کی ہلاکت کے واقعہ کی اعلیٰ سطحی خصوصی تحقیقاتی ٹیم کے ذریعے تحقیقات کروانے کا مطالبہ کیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ فوج کی کونٹر ایف آئی آر کے بعد یہ معاملہ اب معمولی نہیں رہا ہے۔

انہوں نے کٹھوعہ میں خانہ بدوش گوجر بکروال طبقہ سے تعلق رکھنے والی آٹھ سالہ کمسن بچی آصفہ بانو کے قتل اور مبینہ عصمت ریزی کے واقعہ میں انصاف کرنے کی گذارش کرتے ہوئے اس بات پر افسوس ظاہر کیا کہ مقتولہ بچی کی طبی رپورٹ ابھی تک تیار نہیں کی گئی ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے