کشمیر ایک قتل گاہ میں تبدیل ،2فروری کو شوپیان میں احتجاجی جلسہ ہو گا:مزاحمتی قیادت

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر:مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی ،میر واعظ عمرفاروق اور محمد یاسین ملک نے 2فروری کو شوپیان چلو کی کال دےتے ہوئے کہا کہ کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے، جہاں سرکاری فورسز خود کو حاصل بے پناہ اختیارات کے بل بوتے پر کسی بھی نہتے شہری کو قتل کرنے کا لائسنس رکھتے ہیں ۔انہوں نے اس خوفناک صورتحال کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو فورسز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور ہر چہار سو قتل و غارت گری اور خوف و دہشت کا عالم برپا کیا گیا ہے جس میں ہر کشمیری اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کررہا ہے ۔دریں اثناءمزاحمتی کارکنان نے بدھ کو شہر خاص میں شوپیان میں نوجوانوں کی ہلاکت کے خلاف اپنا احتجاج درج کیا ۔

سرینگر مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ عمر فاروق اور محمد یاسین ملک کی جانب سے دیئے گئے احتجاجی پروگرام کے مطابق سرکاری فورسز کے ہاتھوںحالیہ شوپیاں کے قتل عام، بنیادی انسانی حقو ق کی بدترین پامالیوں اور سرکاری دہشت گردی کے بڑھتے ہوئے شرمناک واقعات کیخلاف تاریخی جامع مسجد سرینگر سے ایک خاموش احتجاجی دھرنے کا اہتمام کیا گیا ۔

مظاہرے کی قیادت محمد یاسین ملک نے کی جبکہ سید علی گیلانی اور میرواعظ عمر فاروق دوران نظر بندی کے باعث احتجاجی مظاہرین سے ٹیلیفونک خطاب میں کشمیر کے طول و عرض میں جاری سرکاری دہشت گردی ، بربریت ، قتل و غارت گری اور شوپیاں کے حالیہ المناک سانحہ کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں سرکاری فورسز خود کو حاصل بے پناہ اختیارات کے بل بوتے پر کسی بھی نہتے شہری کو قتل کرنے کا لائسنس رکھتے ہیں ۔

انہوں نے شوپیاں میںسرکاری فورسز کے ذریعہ نہتے افراد کے قتل اور درجنوں لوگوں کی زخمی کئے جانے کو سرکاری دہشت گردی سے تعبیر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر کو عملاً ایک policestate میں تبدیل کردیا گیا ہے جہاں لوگوں کے جملہ بنیادی حقوق کو طاقت کے بل پر سلب کرلیا گیا ہے ، اظہار رائے کی آزادی پر قدغنیں عائد ہیں، حریت پسند قیادت کی پر امن سرگرمیوںکو طاقت اور قوت کے بل پر پابندیوں کے دائرے میں لایا گیا ہے اور پورے کشمیر میں بے پناہ فوجی جماﺅ کے بل بوتے پر ایک خوف و ہراس کا ماحول پیدا کیا گیا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ یہاں ہر چہار طرف قتل و غارت گری ، خوف و دہشت ، مار دھاڑ، گرفتاریوں اور پر تشدد کارروائیوں کے ذریعہ ماحول کو حد درجہ خوفناک بنا دیا گیا ہے اوریہاں کے حکمران لوگوں کی بے بسی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں۔

انہوں نے اس خوفناک صورتحال کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ کشمیری عوام کو فورسز کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا ہے اور ہر چہار سو قتل و غارت گری اور خوف و دہشت کا عالم برپا کیا گیا ہے جس میں ہر کشمیری اپنے آپ کو غیر محفوظ تصور کررہا ہے ۔ قائدین نے اس سرکاری بربریت اور لاقانونیت کیخلاف جمعتہ المبارک 02 فروری2018 ءکو شوپیاں کی مرکزی جامع مسجد میں اجتماعی طور نماز جمعہ ادا کرنے اور شہدائے شوپیاں کو خراج عقیدت ادا کرنے کا اعلان کرتے ہوئے عوام سے اپیل کی کہ وہ اس روز مشترکہ مزاحمتی قیادت کے ساتھ شوپیاں کا رخ کریں جہاں شوپیاں سانحہ کیخلاف پر امن احتجاجی دھرنے کے ذریعہ عالمی ضمیر کو جھنجوڑنے کی کوشش کی جائیگی اور شہداءکے لواحقین کے ساتھ تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کیا جائیگا۔

اس دوران احتجاجی مظاہرین سے اپنے خطا ب میں محمد یاسین ملک نے کشمیر میں جاری سرکاری دہشت گردی کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ شہر و گام خاص کر جنوبی کشمیر کے ہر قصبے کو ایک قتل گاہ میں تبدیل کردیا گیا ہے اور بلا لحاظ جنس و عمر اس کڑاکے کی سردی میں لوگوں کو گھروں سے باہر نکال کر سنگین عذاب و عتاب سے دوچار کیا جارہا ہے ۔

انہوں نے کہا کشمیر کی نام نہاد اسمبلی میں بیٹھے خود کو عوامی نمائندگی کا دعویٰ کرنے والے لوگ چاہے وہ اقتدار میں ہوں یا اقتدار سے باہر کشمیریوں کی بے بسی کا تماشہ دیکھ رہے ہیں اور افسپا جیسے کالے قوانین کی آڑ میں سرکاری فورسز کو کشمیریوں کے قتل عام کا لائسنس یہی لوگ اجر اکررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ظلم و جبر اور قتل و غارت گری کی بنیاد پر کشمیریوں کو اپنے حقوق کی حصولیابی سے ہرگز باز نہیں رکھا جاسکتا۔ انہوں نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کی جانب سے حصول مقصد تک اپنی پر امن جدوجہد جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ طاقت کے بل پر کسی قوم کو زیادہ دیر تک زیر دست نہیں رکھا جاسکتا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے