جموں: ایس آر او520کے تحت مستقل کئے جارہے عارضی ملازمین کی تعداد60ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ تک پہنچ جانے پر سوال اٹھاتے ہوئے اپوزیشن نیشنل کانفرنس کے ممبران نے منگل کو قانون ساز اسمبلی میں زبردست شوروغوغا مچایا اور حکومت پر اس فہرست میں قلم زنی کرکے غیر مستحق افراد کوچور دروازے سے شامل کرنے کا الزام عائد کیا ۔حزب اختلاف نے اس معاملے کے ساتھ ساتھ جموں کشمیر بنک میں مبینہ طور3500غیر قانونی تقرریوں کی تحقیقات عمل میں لانے کا بھی مطالبہ کیا۔
اس دوران پی ڈی ایف چیرمین حکیم محمد یاسین نے پی ایچ ای محکمہ میں کام کررہے کیجول لیبروں کی فہرست کو ”فراڈ اور فرضی “قرار دیا جس پر ڈپٹی اسپیکر نے حکومت کومعاملے کی چھان بین کرانے کی ہدایت دی ۔ ریاستی وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے ایک سوال کے جواب میں ایوان کو بتایا کہ عارضی ملازمین کی مستقلی کے بارے میں 21دسمبر2017کو جاری کئے گئے ایس آر او520کے تحت 100501کیجول لیبروں، ورکروں اور دیگر عارضی ملازمین کی نوکری باقاعدہ بنائی جارہی ہے۔
اس پر ضمنی سوال اٹھاتے ہوئے نیشنل کانفرنس سے وابستہ ایم ایل اے کنگن میاں الطاف احمد نے فہرست میں شامل ملازمین کی تعداد میں مبینہ طور اضافہ کئے جانے پر اپنے خدشات کا اظہار کیا۔اسی پارٹی کے الطاف احمد کلو نے وزیر خزانہ سے اس بات کی وضاحت کرنے کےلئے کہا کہ مستقل کئے جارہے ملازمین کی تعداد60ہزار سے بڑھ کر ایک لاکھ سے زیادہ تک کیسے پہنچی؟انہوں نے الزام عائد کیا کہ فہرست میں چور دروازے سے غیر مستحق لوگوں کے نام شامل کئے گئے ہیں۔اس دوران شمیمہ فردوس ، عبدالمجید بٹ لارمی اور علی محمد ساگر بھی اپنی نشستوں سے کھڑے ہوکر احتجاج کرنے لگے۔اپوزیشن ممبران کا کہنا تھا کہ فہرست میں قلم زنی کرکے 90سال سے زیادہ عمر کے لوگوں کے نام بھی شامل کئے گئے ہیں۔لارمی نے ٹریجری بنچوں پر بیٹھے ممبران سے مخاطب ہوکر کہا”ہم فہرست میں70اور90سال کی عمر کے لوگوں کے شامل ہونے کے بارے میں ثبوت آپ کے سامنے پیش کرسکتے ہیں“۔
انہوں نے حکومت پر جموں کشمیر بنک میں چور دروازے سے اپنے منظور نظر افراد کی بھرتی عمل میں لانے کا بھی الزام عائد کیا جو اِس وقت بنک میں کام کررہے ہیں۔عبدالمجید بٹ لارمی نے وزیر خزانہ پر چلاتے ہوئے کہا”آپ نے جموں کشمیر بنک پر ڈاکہ ڈالا ہے، لوگ اب بنک میں سرمایہ کاری کرنے میں خوف محسوس کرتے ہیں، آپ نے جموں کشمیر بنک میں3500غیر قانونی تقرریاں عمل میں لائی ہیں“۔الطاف احمد کلو نے ڈاکٹر حسیب درابو سے کہا کہ وہ اس بات کی تحقیقات کرائیں کہ مستقل کئے جارہے عارضی ملازمین کی تعداد میں روز بروز اضافہ کیوں ہورہا ہے ؟جس سے بقول ان کے مستحق ملازمین کے معاملات متاثر ہونے کا خدشہ لاحق ہے۔انہوں نے حکمران ممبران اسمبلی پر الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ وہ بھی اس ساز باز میں شامل ہیں اور اسی وجہ سے اس معاملے پر آواز اٹھانے سے قاصر ہیں۔
الطاف کلو حکمران ممبران پر بھی چلائے اور کہا”مجھے یقین ہے کہ آپ لوگوں کو بھی اس میں اپنا حصہ مل گیا ہوگا“۔ اس صورتحال کی وجہ سے ایوان میں کچھ دیر تک شوروغوغا کا ماحول رہا۔ کے ایم ا ین نمائندے کے مطابق محکمہ پی ایچ ای، اری گیشن و فلڈ کنٹرول کے مطالبات زر پر بحث میں حصہ لیتے ہوئے پی ڈی ایف چیرمین اور ایم ایل اے خانصاحب حکیم محمد یاسین نے محکمہ پی ایچ کے کیجول ملازمین کی فہرست میں مبینہ ہیرا پھیری کی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔انہوں نے کہاکہ ان کے حلقہ انتخاب میں 610کیجول لیبروں کی فہرست مرتب کی گئی تھی اور ان میں سے قریب200ملازمین کےلئے مقامی ممبر اسمبلی(خود حکیم محمد یاسین) کی سفارش کا حوالہ دیا گیا ہے۔انہوں نے حیرانگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا”میں نے کسی کا نام فہرست میں شامل کرانے کےلئے کبھی کوئی سفارش نہیں کی“۔
ایم ایل اے خانصاحب نے اس فہرست کو فراڈفرضی قرار دیا اور کہا کہ پی ایچ سمیت دیگر محکموں کی فہرستوںکی چھان بین کی جانی چاہئے۔اس موقعے پر اسمبلی کے ڈپٹی اسپیکر نذیر احمد خان گریزی نے حکیم محمد یاسین کے الزامات کا سنجیدہ نوٹس لیتے ہوئے حکومت کو ہدایت دی کہ وہ اس کی تحقیقات کرے اور فراڈ لسٹ بنانے اور اس میں200ملازمین کے ساتھ ایم ایل اے موصوف کی سفارش کا حوالہ دینے والے افسر کے خلاف کارروائی عمل میں لائے۔کے ایم این

