سرینگر:سیکورٹی ہائی الرٹ اور پائین شہر سمیت بعض علاقوں میں کرفیو جیسی بندشوںکے بیچ جمعہ کووادی بھر میں ہمہ گیر ہڑتال اور سول کرفیو جیسی صورتحال کی وجہ سے معمول کی زندگی تھم کر رہ گئی ، سڑکوں پر دن بھر ہُو کا عالم رہا اور لوگوں نے گھروں کے اندر ہی رہنے کو ترجیح دی۔اس دوران شہرخاص میں سخت پابندیوں کی وجہ سے تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔کشمیر میڈیا نیٹ ورک نمائندے کے مطابق بھارت کے69ویں یوم جمہوریہ کے موقعہ پر جموں کشمیر کے طول و ارض میں سرکاری سطح کی تقریبات منعقد ہوئیں جن کے لئے حفاظت کے غیر معمولی انتظامات کئے گئے تھے۔ایک غیر ریاستی خود کش بمبار کے امکانی حملوں کی خفیہ اطلاعات کے پیش نظر پوری وادی خاص طور پر سرینگر شہر اور اس کے مضافات میں ہائی الرٹ جاری کیا گیا تھا اوربیشتر علاقے فورسزکی چھاﺅنیوں کا منظر پیش کررہے تھے ۔پولیس نے دوروز قبل ایک خاتون جنگجو کے وادی میں داخل ہونے کی وارننگ جاری کی تھی اور26جنوری کے موقعے پرخود کش بم حملے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا جس کے پیش نظر پولیس اور سیکورٹی اداروں کی طرف سے احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ دوسری جانب مشترکہ مزاحتمی قیادت نے مکمل ہڑتال اور نماز جمعہ کے بعد احتجاجی مظاہروں کی کال دی تھی جس کے پیش نظر وادی کے شمال و جنوب میں پولیس اور سی آر پی ایف دستوں کی تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی جبکہ حساس مقامات پر فوج کی گشت بھی جارہی رہی۔اس کے ساتھ ساتھ لائن آف کنٹرول اور بین الاقوامی سرحدوں کے تمام سیکٹروں میں بھی فوج اور فورسز کو چوکنا رہنے کی ہدایت دی گئی تھی۔کشمیر میڈیا نیٹ ورک کے مطابق ریاست میںیوم جمہوریہ کی سب سے بڑی تقریب جموں میں منعقد ہوئی جہاں مولانا آزادا سٹیڈیم کوکئی دن قبل ہی مکمل طورپر پولیس اور نیم فوجی دستوں نے اپنی تحویل میں لے لیاتھا اور کسی بھی شخص کو خصوصی شناختی پاس کے بغیر اسٹیڈیم کی طرف جانے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ا سٹیڈیم میں یوم جمہوریہ کی تقریب دیکھنے کے لئے لوگوں کی ایک بھاری تعداد جمع ہوگئی تھی تاہم اُنہیں تلاشی کے کئی مراحل سے گزارنے کے بعد ہی اسٹیڈیم کے اندر داخل ہونے کی اجازت دی گئی۔کے ایم ا ین سٹی رپورٹر کے مطابق ریاست میں یوم جمہوریہ کی دوسری بڑی اور وادی میں سب سے بڑی تقریب روایتی طور پر سرینگر کے بخشی اسٹیڈیم میں منعقد ہوا کرتی تھی لیکن اب کی بار اسٹیڈیم کی تجدید و مرمت کا کام جاری ہونے کے پیش نظر یہ تقریب شہر کے شیر کشمیر کرکٹ اسٹیڈیم سونہ وار میں منعقد ہوئی۔تقریب کے اختتام تک رام منشی باغ اور ٹی آر سی سے اسٹیڈیم کی طرف جانے والے راستے گاڑیوں اور راہگیروں کےلئے مکمل طور بند رہے جبکہ شہر کے دیگر علاقوں میں بھی پولیس اور فورسز کے اضافی اہلکار گشت کرتے نظر آئے ۔کے ایم ا ین نمائندے کے مطابق احتجاجی مظاہروں کے امکان کو مد نظر رکھتے ہوئے اندرون شہر کے بیشتر علاقوں میں اعلانیہ و غیر اعلانیہ کرفیو کا نفاذ عمل میں لایا گیا اور پولیس و سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لاکر کرفیوجیسی بندشیں عائد کی گئیں ۔پابندیوں کے باعث نوہٹہ کی تاریخی جامع مسجد میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔مقامی لوگوں نے بتایا کہ مسجد کی طرف جانے والے تمام راستے مکمل طور سیل کردئے گئے تھے اور وہاں کی طرف جانے کی کسی کو اجازت نہیں دی گئی ۔ پابندیوں کے باعث جامع مسجد کے ساتھ ساتھ کئی دیگر مساجد میںبھی نماز جمعہ کی ادائیگی ممکن نہیں ہوسکی۔ مجموعی طور پورے شہر سرینگر میں حفاظت کے غیر معمولی انتظامات اور مزاحتمی قیادت کی طرف سے دی گئی ہڑتال اور احتجاجی کال کے پیش نظر کرفیو کا سماں رہا اور لوگوں نے اپنے گھروں کے اندر ہی رہنے کو ترجیح دی۔شہر اور اسکے مضافات میں کاروباری اور ٹرانسپورٹ سرگرمیاں مکمل طور ٹھپ رہیں ،یہاں تک کہ چھاپڑی فروش بھی سڑکوں پر نظر نہیں آئے ۔پولیس اور نیم فوجی دستوں نے حفاظتی اقدامات کے تحت شہریوں کی نقل و حمل پر مکمل پابندی عائد کی تھی تاہم دوپہر کے بعد ان پابندیوں میں نرمی آگئی۔وادی کے دیگرمختلف ضلع صدر مقامات سے کے ایم ا ین نمائندوں کی طرف سے فراہم کردہ اطلاعات کے مطابق مشترکہ مزاحتمی قیادت کی ہڑتالی کال کے پیش نظر مکمل ہڑتال اورسخت حفاظتی انتظامات کی وجہ سے معمول کی زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی ۔تمام اضلاع میں26جنوری کی تقریبات کےلئے غیر معمولی نوعیت کا حفاظتی بندوبست نظر آیا۔وادی بھر میں دکانیں ،کاروباری ادارے ،ہر طرح کے دفاتر اوردیگر ادارے بند جبکہ گاڑیوں کی آمدورفت ٹھپ ہوکر رہ گئی۔اس صورتحال کی وجہ سے لوگوں نے دن بھرانتہائی خاموشی کے ماحول میں گھروں کے اندر ہی رہنے کو ترجیح دی اور سڑکیں سنسان نظر آئیں ، البتہ دوپہر کے بعد اِکا دُکانجی گاڑیاں سڑکوں پر نظر آئیں۔

