سری نگر،:وادی کشمیر میں یوم جمہوریہ کے موقع پر جمعہ کے روز ریل گاڑیوںکی آمدورفت کلی طور پر معطل رہی۔ واضح رہے کہ محکمہ ریلوے کی جانب سے جمعرات کو وسطی کشمیر کے بڈگام سے جموں کے بانہال کے درمیان براستہ جنوبی کشمیر ریل خدمات معطل رکھی گئی تھیں۔ جنوبی کشمیر میں ریل خدمات ضلع شوپیان کے ژھے گنڈ نامی گاو¿ں میں بدھ کی شام ہونے والے مسلح تصادم میں دو مقامی جنگجوو¿ں اور مسلح تصادم کے مقام پر احتجاجی مظاہرین کی سیکورٹی فورسز کے ساتھ ہونے والی پرتشدد جھڑپوں میں ایک 17 سالہ نوجوان کی ہلاکت اور دو لڑکیوں سمیت متعدد دیگر کو زخمی کردینے کے بعد پیدا شدہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظر معطل کی گئی تھیں۔ تاہم جمعہ کو جنوبی کشمیر کے ساتھ ساتھ پوری وادی میں ریل خدمات معطل کی گئیں۔ ریلوے کے ایک سینئر عہدیدار نے یو این آئی کو بتایا ’وادی کشمیر میں آج یوم جمہوریہ کے موقع پر ریل سروس کو کلی طور پر معطل کیا گیا ہے‘۔ انہوں نے بتایا کہ یہ سروس سیکورٹی وجوہات کی بناءپر معطل کی گئی ہے۔ قابل ذکر ہے کہ کشمیری علیحدگی پسند قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ مولوی عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے گذشتہ روز اپنے ایک مشترکہ بیان میں یوم جمہوریہ کو یوم سیاہ قرار دیتے ہوئے اس دن کے موقع پر مکمل ہڑتال کی کال دی۔ یہ وادی کشمیر میں رواں برس میں چھٹی مرتبہ ہے کہ جب ریل خدمات کو کلی یا جزوی طور پر معطل کیا گیا ہے۔ مذکورہ ریلوے عہدیدار نے بتایا ’ ہمیں پولیس کی جانب سے گذشتہ شام ایک ایڈوائزری موصول ہوئی جس میں کشمیر میں جمعہ کو تمام ٹرینیں منسوخ رکھنے کا مشورہ دیا گیا۔ اس ایڈوائزری پر ہم نے آج عمل درآمد کرتے ہوئے وسطی کشمیر کے بڈگام سے جموں خطہ کے بانہال اور بڈگام سے شمالی کشمیر کے بارہمولہ کے درمیان ریل سروس کو معطل رکھا‘۔ انہوں نے بتایا کہ پولیس کی جانب سے گرین سگنل ملنے کے بعد ریل سروس کو بحال کیا جائے گا۔ وادی میں گذشتہ برس (2017 میں) ریل سروس کو 50 سے زیادہ مرتبہ کلی یا جزوی طور پر معطل رکھا گیا۔ یو این آئی

