جموں وزیر اعظم نریندر مودی کے اس بیان ” ہندوستان اور پاکستان کو مشترکہ طور غربت و افلاس کے دشمن کے ساتھ لڑنا ہوگا“ وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے آج امید ظاہر کی کہ پاکستان کی لیڈر شپ ہند کے وزیر اعظم کے بیان کا مثبت جواب دے گی۔
قانون ساز کونسل میں وقفہ سوالات کے دوران مداخلت کرتے ہوئے وزیراعلیٰ نے کہا کہ دونوں ممالک کو امن و امان کے ساتھ رہنے کی اشد ضرور ت ہے اور ا س مقصد کے حصول کے لئے پاکستان کی لیڈر شپ کو یہ بات سمجھنی ہوگی کہ دوستانہ تعلقات قائم کرنے سے غربت و افلاس جیسے بڑے مسائل کو حل کیا جاسکتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ سرحدی لوگوں کو بنکروں کی فراہمی کامعاملہ ایک عارضی عمل ہے لیکن دونوں ممالک کو اٹل بہاری واجپائی کے دور کی طرف لوٹنا ہوگا جب سرحدوں پر امن قائم تھا اور دونوں ممالک دوستی کی راہ پر چل کر ایک دوسرے کے نزدیک آنے لگے ۔
محبوبہ مفتی نے اس بات پر افسوس کا اظہار کیا کہ ان دونوں ممالک کی رسہ کشی کے شکار ریاست جموں وکشمیرکے لوگ ہمیشہ سے ہوتے رہتے ہیں ۔ ” ہم کہاں تک یہ پریشانیاں برداشت کرتے رہیں گے؟“ وزیر اعلیٰ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان خراب تعلقات کے نتیجے میں دونوں اطراف قیمتی جانیں ضائع ہونے کے علاوہ جائیدادوں پر بھاری نقصان جاری ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ کتنی بدقسمتی کی بات ہے کہ جب ان سرحدوں پر رہنے والے لوگوں کو بہتر سکول ، ہسپتال اور بہتر سڑکیں فراہم کرنی چاہئیں تھیں یہ لوگ بنکروں کی تعمیر کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
وزیر اعلیٰ نے کہا کہ سرحدی علاقوں کے لوگوں کے لئے مزید بنکر تعمیر کرانے کا معاملہ مرکزی حکومت کے ساتھ اٹھایا جائے گا۔اس کے علاوہ متاثرین کے لئے رہائشی و دیگر سہولیات کی فراہمی پر غور کیا جارہا ہے ۔
اس سے قبل قیصر جمشید لون ، پردیپ شرما ، یشپال شرماکے مشترکہ سوال کے جواب میں مال کے وزیر عبدالرحمان ویری نے کہا کہ حکومت نے شلنگ سے متاثرہ دیہات میں رہنے والے لوگوں کو محفوظ مقامات کی طرف منتقل کیا ہے جہاں انہیں بنیادی ضرورت کی چیزیں فراہم کی جارہی ہیں۔
وزیر نے کہا کہ سرحدی علاقو ں میں مال مویشی اور جائیدادوں کو محفوظ رکھنے کے لئے سیکورٹی کے خاطر خواہ انتظامات کئے گئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ مرکز کی طرف سے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جو لائن آف کنٹرول کے نزدیک رہنے والے لوگوں کے مسائل کی نگرانی کرے گی۔
دریں اثنا وزیرنے ایوان کو بتایا کہ باڈر شلنگ میں ہلاک شدہ افراد کے کنبوں کو پچھلے دو برسوں کے دوران 23لاکھ روپے کا ایکسگریشیا فراہم کیا گیا ہے جبکہ 110زخمی افراد کے حق میں 6.20لاکھ روپے اور جائیداد کے نقصان کے سلسلے میں 43.66لاکھ روپے تقسیم کئے گئے ۔
وزیر نے مزید کہا کہ بارہمولہ اور کپواڑہ اضلاع سے تعلق رکھنے والے لوگوں کو کراس باڈر شلنگ کی وجہ سے ہوئے نقصان کا تخمینہ لگایا جارہا ہے اور زخمی ہوئے افراد کے حق میں ریلیف فراہم کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے ۔ارکان قانون ساز سریندر کمار چودھری ، جاوید احمد مرچال اور ڈاکٹر شہناز گنائی نے بنیاد سوال سے متعلق ضمنات پوچھے۔

