سرینگر/۴۲ جنوری /کشمیر میڈیا نیٹ ورک/ مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی گیلانی، میرواعظ ڈاکٹر محمد عمر فاروق اور محمد یٰسین ملک نے 26جنوری کو کشمیریوں کے لئے یومِ سیاہ قرار دیتے ہوئے اس دن مکمل ہڑتال کرنے اور سرکاری تقریبات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل دہرائی ہے۔
موصولہ بیان میںمزاحمتی لیڈران نے کہا کہ بھارت جو دنیا کی بڑی جمہوریہ ہونے کا دعویدار ملک ہے، 26جنوری کو اپنا یومِ جمہوریہ مناتا ہے، البتہ جموں کشمیر میں اس کی جمہوریت کا دعویٰ بُری طرح سے ایکسپوز ہورہا ہے اور یہ ملک پچھلے 70سال سے یہاں کے عوام کے جمہوری حقوق کو ہٹ دھرمی، توسیع پسندانہ عزائم اور ریاستی دہشت گردی کے ذریعے دباتا چلا آرہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ بھارت عالمی فورموں میں دنیا سے دہشت گردی ختم کرنے کے بھاشن تو دے رہا ہے، مگر خود ریاست جموں کشمیر میں اپنی سرکاری دہشت گری کو جارہے رکھے ہوئے ہے، جس کے نتیجے میں اب تک 6لاکھ سے زائد انسانی جانوں کو تلف کیا گیا، عزتیں اور عصمتیں لوٹی گئیں، 10ہزار سے زائد لوگوں کو گرفتار کرنے کے بعد لاپتہ کردیا گیا، 6سوکے قریب قبرستان آباد کئے گئے۔ انہوں نے کہا کہ عالمی برادری کو اس ریاستی دہشت گردی کا سنجیدہ نوٹس لینا چاہیے کہ کس طرح آپنے آپ کو بڑی جمہوریہ ہونے کا دعویدار ملک نے ایک مظلوم ریاست میں اپنے ظلم اور جبر کی ، سفاکیت، بربریت اور قتل عام کا بازار گرم کررکھا ہے۔
مشترکہ قیادت نے کہا کہ بھارت کا یومِ جمہوریہ ایک خالص فوجی آپریشن ہوتا ہے، جو جموں کشمیر کے لوگوں کے لیے یومِ عذاب بن جاتا ہے اور اس فوجی آپریشن کو عملانے کے لیے ریاست کے لوگوں کو بندوق کی نوک پر یرغمال بناکر ان کی زندگیوں کو اجیرن بنایا جاتا ہے۔مشترکہ قیادت نے کہا کہ کشمیری بھارت یا اس کے عوام کے دشمن ہیں اور نہ وہ بھارت کی حدود میں اس کے یومِ جمہوریہ منانے کے مخالف ہیں، البتہ جہاں تک کشمیر کا تعلق ہے تو اس کو بھارت نے چونکہ اس خطہ پر اپنی جبری فوجی قبضہ کیا ہے ، لہٰذا اس کے لےے جموں کشمیر کی سرزمین پر اس قسم کی کوئی تقریب منانے کا کوئی اخلاقی اور آئینی جواز نہیں ہے، کیونکہ یہاں اس جمہوریت کا کوئی نام ونشان نظر نہیں آتا ہے، جس کا بھارت ڈھنڈورا پیٹتا ہے۔
بیان میںانہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر پر دنیا کی ہر قوم کے حقِ خودارادیت کے احترام کرنے کی بات کہی گئی ہے اور اس حق کو ہر انسان کے بنیادی اور پیدائشی حق کے طور پر تسلیم کرلیا گیا ہے، اس چارٹر پر بھارت نے بھی دستخط کئے ہیں اور اس کو تسلیم کرلیا ہے، اس عالمی ادارے نے جموں کشمیر کے مستقبل کے تعین کے لئے یہاں کے عوام کی مرضی اور خواہش کا احترام کرنے کی سفارش کی ہے اور بھارت نے قومی اور بین الاقوامی سطح پر اس سفارش کے مطابق جموں کشمیر میں ریفرنڈم کرانے کا وعدہ بھی کیا ہے، البتہ ابھی تک اس ملک نے اپنے وعدوں کا ایفا نہیں کیا ہے اور وہ یہاں کے عوام کو یہ جمہوری موقعہ فراہم نہیں کررہا ہے۔
قائدین نے کہا کہ یہ وہ واحد وجہ ہے، جس کی بنیاد پر ہم جموں کشمیر میں 26جنوری کی تقریبات کے انعقاد کے مخالف ہیں اور اس کو جمہوریت کے ساتھ ایک کھلا مذاق تصور کرتے ہیں۔ مزاحمتی قائدین نے 26جنوری کی تقریبات کا مکمل بائیکاٹ کرنے کی اپیل دہراتے ہوئے اسکولی بچوں، اساتذہ اور والدین سے بھی پُرزور اپیل کی ہے کہ وہ ان تقریبات کا حصہ نہ بنیں اور ان سے دور رہ کر اپنی ملی اور قومی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔
اس دوران مشترکہ قیادت نے 25جنوری 90ءکے ہندواڑہ اور 27جنوری 94ءکے کپواڑہ قتل عام کے واقعات پر قصبہ ہندواڑہ اور قصبہ کپواڑہ میں بالترتیب25اور 27جنوری کو مکمل ہڑتال اور دعائیہ مجالس منعقد کرنے کی اپیل دہراتے ہوئے انسانی حقوق کے لےے سرگرم عالمی اداروں سے اپیل کی ہے کہ وہ جموں کشمیر میں پیش آئے قتل عام کے تمام واقعات کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرانے اور جنگی جرائم میں ملوث فورسز اہلکاروں کو انصاف کے کٹہرے تک لانے میں اپنا رول ادا کریں اور اس خطے میں مزید انسانی زندگیوں کے اتلاف کو روکنے کے لےے اپنی ذمہ داریوں کو پورا کریں۔a

