نئی دہلی، 24 جنوری ( یواین آئی) سپریم کورٹ نے سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی کے قاتل اے جی پیراریولن کی درخواست پر مرکزی تفتیشی بیورو (سی بی آئی) سے آج جواب طلب کیا۔ جسٹس رنجن گوگوئی کی صدارت والی بنچ نے پیراریولن کے وکیل کی دلیلیں سننے کے بعد سی بی آئی کو نوٹس جاری کیا۔
کورٹ نے جواب کے لئے جانچ ایجنسی کو تین ہفتے کا وقت دیا ہے ۔ عمر قید کی سزا کاٹ رہے پیراریولن نے عدالت سے اس کے مجرم ٹھہرائے جانے کے 1999 کے فیصلے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا ہے ۔ قابل غور ہے کہ 12 دسمبر 2017 کو ہونے والی سماعت کے دوران بھی کورٹ نے کہا تھا کہ سابق وزیر اعظم راجیو گاندھی قتل کی تحقیقات میں سی بی آئی کچھ بھی حاصل نہیں کر سکی ہے ۔ ایجنسی کو پھٹکار لگاتے ہوئے عدالت نے کہا تھا کہ ایم ڈی ایم اے (ملٹی ڈسیپلنر¸ مانیٹرنگ ایجنسی) کی تفتیش سے لگتا نہیں کہ یہ کبھی ختم ہوگا۔ عدالت نے اس کے بعد آج تک کے لئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی تھی۔
اس سے پہلے کی سماعت کے دوران عدالت نے راجیو قتل میں پیراریوالن کی اپیل پر مرکزی حکومت سے اپنا موقف دو ہفتوں کے اندر رکھنے کو کہا تھا۔ اس کا مطالبہ ہے کہ سی بی آئی جانچ پوری ہونے تک اس کی سزاکو برخاست کیا جائے ۔ پیراریوالن کی موت کی سزا کو عدالت پہلے ہی عمر قید میں تبدیل کر چکی ہے ۔ اس نے اپنی اپیل میں کہا ہے کہ اسے نو وولٹ کی دو بیٹریاں سپلائی کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا تھا۔ سی بی آئی کا کہنا ہے کہ ان کا استعمال راجیو گاندھی کے قتل کے لئے دھماکہ خیز مواد آئی ای ڈی (امپرووائزڈ ایکسپلوزیو ڈیوائس) بنانے میں کیا گیا تھا۔
تقریباً 26 سال سے جیل میں بند پیراریوالن کا کہنا ہے کہ سی بی آئی کی ایم ڈی ایم اے ، آئی ای ڈی سے منسلک تحقیقات کر رہی ہے ۔ اسکی درخواست ہے کہ جب تک جانچ مکمل نہ ہو جائے ، اس وقت تک اس کی سزا کو برخاست کیا جائے ۔ اس کی دلیل ہے کہ اسے یہ نہیں پتہ تھا کہ جو بیٹری وہ سپلائی کر رہا ہے اس کا استعمال راجیو گاندھی کے قتل کے لئے کیا جائے گا۔ اس کا کہنا ہے کہ تمل ناڈو حکومت اس کی سزا معاف کرنے کا فیصلہ کر چکی ہے ۔ مرکز سے اجازت کی اپیل پرگزشتہ دو سال سے زیر التوا ہے ۔ سی بی آئی 18 سال سے تحقیقات کر رہی ہے ، لیکن کسی نتیجے پر نہیں پہنچ سکی ہے ۔ قابل غور ہے کہ سپریم کورٹ نے 18 فروری 2014 کو تین قصورواروں کی موت کی سزا کو عمر قید میں تبدیل کر دیا تھا، جن میں درخواست گزار کے علاوہ سانتھن اور مروگن بھی شامل ہے ۔یو این آئی
