سرینگر :اقوام متحدہ میں دو حریف ممالک کے مستقل مندوب ایک مرتبہ پھر آپس میں اُلجھ پڑے ۔اقوام متحدہ میں بھارتی مندوب سید اکبر الدین نے سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ پاکستان کو اچھے اور برے شدت پسندوں میں فرق کرنے کی ذہنیت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے ۔ادھر اقوام متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ملیحہ لودھی کا کہنا ہے کہ مائنڈ سیٹ تبدیل کرنے کی بات کرنے والا بھارت اپنے گریبان میں جھانکے جبکہ را کے جاسوس کلبھوشن یادیو کی گرفتاری پاکستان میں بھارتی دہشتگردی کا کھلا ثبوت ہے۔
سلامتی کونسل میں ہند پاک کے مندوپ کے درمیان ایک مرتبہ الفاظی جنگ کا تبادلہ ہوا ۔میڈیا رپورٹس کے مطابق بھارت نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے کہا ہے کہ پاکستان کو اچھے اور برے شدت پسندوں میں فرق کرنے کی ذہنیت کو تبدیل کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوںنے کونسل سے اپیل کی کہ وہ سرحد پار محفوظ پناہ گاہوں میں بیٹھے شدت پسندوں کی جانب سے درپیش چیلنجوں پر توجہ مرکوز کرے۔
اقوام متحدہ میں بھارت کے سفیر سید اکبرالدین نے سلامتی کونسل سے کہا کہ بھارت کا خیال ہے کہ افغانستان اپنا مقام واپس حاصل کرے اور نئی دہلی اپنے علاقائی اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ قریبی طور پر افغانستان میں امن، سیکورٹی، استحکام اور خوشحالی لانے کے لیے مصروف عمل ہے۔
افغانستان معاملے پر خصوصی وزیر ملاقات کے دوران اکبرالدین نے کہا،”افغانستان میں ایک کہاوت ہے جس کا سیدھا مطلب یہ ہوتا ہے کہ اگر نچلے علاقے کا پانی گندا ہو گیا ہو تو بغیر وقت گنوائے اونچائی پر جاکر اسے صاف کر لینا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ افغانستان میں امن کیلئے تعاون میں صرف آواز بلند کرنے کے لئے کافی نہیں ہے، ہمارے خطے اور افغانستان کو سرحدی سرحدوں سے باہر ہونے والے دہشت گردوں کے چیلنجوں کو حل کرنے کے لئے توجہ دینا ہوگا۔
ادھر اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل مندوب ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے باور کرایا ہے کہ اس ابہام سے باہر آنا چاہیے کہ افغانستان میں طاقت اور جبر کی حکمت عملی سے امن قائم ہو سکے گا، کیونکہ خطے کے گزشتہ 17 سالوں کا احوال سب کے سامنے ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل میں افغانستان کے امور پر اظہارِ خیال کرتے ہوئے ملیحہ لودھی کا کہنا تھا کہ کابل اور اس کے اتحادی دوسروں پر اپنا بوجھ ڈالنے کے بجائے افغانستان کے داخلی چیلنجز پر توجہ مرکوز کریں۔انہوں نے واضح کیا کہ جو تصور کرتے ہیں کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں افغانستان کے باہر ہیں تو انہیں حقیقت کا دوبارہ مطالعہ کرنے کی ضرورت ہے۔
ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے باور کرایا کہ افغانستان کے 40 فیصد علاقے حکومت کے کنٹرول میں نہیں یا پھر ان میں لڑائی جاری ہے۔ان کا مزید کہنا تھا کہ ایسے مملک کو بیرونِ ملک سے تخریب کاری کی ضرورت نہیں ہے جہاں منشیات کی غیر قانونی پیدوار دہشت گردوں کو لاکھوں ڈالر کا فائدہ پہنچا رہی ہو۔
اقوامِ متحدہ میں بھارتی نمائندے کی طرف سے افغانستان میں پاکستان کے مخصوص حلقے کی جانب سے عدم استحکام کے الزام پر ردِ عمل دیتے ہوئے ڈاکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ ’جو لوگ پاکستان میں مخصوص حلقے کی بات کرتے ہیں انہیں اپنا ریکارڈ درست کرنے کی ضرورت ہے جو بھارتی جاسوس (کلبھوشن یادیو) کی پاکستان میں گرفتاری سے ہمارے خدشات کو درست ثابت کرتے ہیں‘۔
افغانستان میں مذاکرات کے ذریعے جنگ کا حل نکالنے پر زور دیتے ہوئے ملیحہ لودھی نے کہا کہ ’خطے میں بغیر کسی سیاسی یا سفارتی حکمت عملی سے، مسلسل فوجی طاقت کے استعمال اور تنازعات میں اضافے سے مثبت نتائج حاصل نہیں ہوں گے جیسا کہ پہلے دیکھا جاچکا ہے، تاہم طاقت کے استعمال سے افغان عوام کو سیاسی حل نہیں بلکہ صرف مزید دہشت گردی اور مسائل ہی ملیں گے‘۔
ان کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں غیر ملکی افواج کی موجودگی اور کثیر بیرونی امداد کے باوجود افغانستان میں سیکیورٹی کے مسائل ہیں اور اقتصادی ترقی کی کمی ہے۔انہوں نے بین الاقوامی برادری پر زور دیا کہ ’افغانستان میں استحکام مذاکرات کے ذریعے جنگ بندی سے ہی حاصل ہو سکتا ہے جبکہ سیکیورٹی کونسل کے صدارتی بیان میں بھی انہی خدشات پر زور دیا گیا ہے‘۔
پاکستانی مندوب نے واضح کیا کہ 17 سال گزر جانے کے بعد نا ہی افغان حکومت اور اس کی عسکری اتحادی اور نا ہی طالبان طاقت کے ذریعے حل نکالنے کی پوزیشن میں ہیں۔ملیحہ لودھی نے کہا کہ مذاکراتی حل کی جھوٹی تسلی دے کر طاقت اور جبر کے استعمال کے حربوں کو اب ختم ہونا چاہیے جبکہ انہوں نے طالبان سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ عسکریت پسندی کا راستہ چھوڑ کر مذاکرات کا حصہ بنیں۔
انہوں نے افغانستان میں فوری پ±ر امن حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ افغانستان میں امن قائم ہونے کا سب سے زیادہ فائدہ پاکستان کو ہوگا۔پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ ’افغانستان میں جاری جنگ کے سب سے زیادہ منفی اثرات پاکستان پر پڑے اور پاکستان دہشت گردی کا سب سے زیادہ نشانہ بنا‘۔
انہوں نے سیکیورٹی کونسل کو باور کرایا کہ دنیا کے کسی بھی ممالک کے مقابلے میں پاکستان میں سب سے زیادہ پناہ گزین موجود ہیں۔ڈکٹر ملیحہ لودھی نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ اور اسے شکست دینے میں پاکستان کی مہم سب سے بڑی ہے جس میں ملک کے 2 لاکھ سیکیورٹی اہلکار عسکریت پسندی کے خلاف متحرک ہیں۔
انہوں نے خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان سے دہشت گردی کا مکمل خاتمے کا انحصار افغانستان سے متصل طویل سرحد کا مو¿ثر کنٹرول پر ہے جس کے لیے پاکستان نے سرحد پر حفاظتی اقدامات کیے ہیں اور افغانستان سے بھی اسی طرح کے اقدامات کی توقع ہے۔
سیکیورٹی کونسل میں اپنے خطاب میں ملیحہ لودھی نے باور کرایا کہ پاکستان اپنی سرزمین دہشت گردوں کو دوسرے ممالک کے خلاف عسکری کارروائی کرنے کے لیے فراہم نا کرنے کے عزم پر قائم ہے۔

