جموں :صوبہ جموں میں جاری سرحدی کشیدگی وتناﺅ اور ہلاکتوں کے واقعات پر اپوزیشن جماعتوں نے ہفتہ کو ایوان اسمبلی میں سرکار کو گھیرتے ہوئے طنزیہ اور سوالیہ انداز میں کہا ’56انچ کی چھاتی کہاں ہے؟۔اپوزیشن ممبران نے ’بی جے پی ہائی ہائی ،آر ایس ایس ہائی ہائی ‘کے نعرے لگائے اور بھارتی جنتاپارٹی کی پاکستان کے تئیں پالیسی پر سوالیہ نشان لگایا ۔
تعمیل ارشاد نامہ نگار کے مطابق ایوان اسمبلی کی کارروائی ہفتہ کو جونہی شروع ہوئی ۔تو اپوزیشن کے ممبران اپنی نشستوں سے کھڑے ہوئے اور سرحدی کشیدگی ،تناﺅ اور ہلاکتوں کے واقعات کا معاملہ اٹھایا ۔اپوزیشن نے بی جے پی کو ایوان اسمبلی میں گھیرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت سرحدی لوگوں کو تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ۔
پانچ افراد جن میں بی ایس ایف اور فوجی اہلکار بھی شامل ہے ،گزشتہ روز حد متارکہ سے لیکر بین الاقوامی سرحد پر آتشی گولہ باری کے سبب ہلاک ہوئے اور درجنوں افراد مضروب ہوئے ،اپوزیشن نے یہ معاملہ ایوان اسمبلی میں اُجا گر کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ مخلوط حکومت جموں وکشمیر میں سرحدی لوگوں کو جانی تحفظ فراہم کرنے میں ناکام رہی ۔
اپوزیشن ممبران نے ’بی جے پی ہائی ہائی ،آر ایس ایس ہائی ہائی ‘کے نعرے لگائے اور بھارتی جنتاپارٹی کی پاکستان کے تئیں پالیسی پر سوالیہ نشان لگایا ۔اپوزیشن ممبران نے کہا ’56انچ کی چھاتی کہاں ہے ؟،آپ بی جے پی نے کہا تھا کہ ہم دس دشمن فوجیوں کے سر قلم کریں گے ،اگر ہمارے ایک فوجی کا سر قلم کیا جاتا ہے تو ،آپ یہاں کیا کررہے ہو،جاﺅ سرحد پر جنگ کرو‘۔
سرحدی کشیدگی ،تناﺅ اور ہلاکتوں کے واقعات پر سرکار کو گھیرتے ہوئے اپوزیشن ایوان سے احتجاجاً واک آﺅٹ بھی کیا۔

