سرینگر: جموں کشمیر کی موجودہ سیاسی صورتحال کو بے حد تشویشناک قرار دیتے ہوئے حریت کانفرنس ”ع“کے چیرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے کہا ہے کہ کشمیر کے طول و عرض میں آئے روز بے گناہوں کے قتل عام ، بنیادی انسانی حقوق کی پامالیوں کے ساتھ ساتھ ایل اوسی اور بین الاقوامی سرحدوں پر صورتحال حد درجہ افسوس ناک اور انتہائی قابل تشویش ہے اور یہ سب کچھ دیرینہ مسئلہ کشمیر کا شاخسانہ ہے ۔
مرکزی جامع مسجد سرینگر میں نماز جمعہ سے قبل ایک بھاری عوامی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے میرواعظ نے کہا کہ سرحدوں پر کشیدگی اور تناﺅ و گولہ باری سے سب سے زیادہ متاثر غریب گھرانوں کے لوگ اور کنبے ہوتے ہیں جن کی زندگی عدم تحفظ کی شکار ، اجیرن ، روزگار ، کاروبار اور بچوں کا تعلیمی مستقبل سب کچھ داﺅ پر لگ جاتا ہے ۔انہوں نے کہا کہ اس کی بنیادی وجہ اور اصل محرک مسئلہ کشمیر ہے۔
انہوں نے کہا کہ قومی غرور اور وقار کے نام پرسرحدوںپر دونوں طرف کے جوان خود بھی مر رہے ہیں اوربے گناہ عوام بھی مارے جارہے ہیں سرحد کے آر پار دونوں اطراف منقسم خاندان ایک دوسرے سے ملنے کی راہ تک رہے ہیں۔ میرواعظ نے سوال کیا”آخر کب تک دونوں قریبی ہمسایہ ممالک غیر حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرکے آپس میں لڑتے اور جھگڑتے رہےں گے“؟انہوں نے دونوں ممالک کی قیادت سے اپیل کی کہ تناﺅ ، کشیدگی اور جنگ و جدل کے بنیادی سبب مسئلہ کشمیر کو پر امن اور جامع مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کےلئے فوری طور پر موثر اور نتیجہ خیز بات چیت کا آغاز کریں اور اس عمل میں مسئلے کے بنیادی فریق کشمیری عوام کو شامل کیا جائے تاکہ خطے سے خون خرابہ اور غیر یقینی سیاسی صورتحال کا خاتمہ ممکن ہوسکے۔
میرواعظ نے یہ بات واضح کی کہ بات چیت کے عمل کو آگے پڑھانے سے ہی کشت وخون اور قتل و غارت گیری بند ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں تک حق خود ارادیت پر مبنی ہماری تحریک کا سوال ہے ،اسے ہر صور ت میں پُر امن طور پر آگے بڑھایا جائے گا اور کشمیر کے مسئلے کو دھونس دباﺅ ، جارحانہ ہتھکنڈوں اور این آئی اے یا ED کے حربوں کے استعمال سے نہ تو عوامی عزائم کو کمزور کیا جاسکتا ہے اور نہ ہی مزاحمتی قیادت کو خوف زدہ کرنا ممکن ہے۔
انہوںنے کہا ”میں بحیثیت میرواعظ کشمیر اور حریت چیئرمین مائیگرنٹ کشمیری پنڈت برادری سے آج 29 سال کا عرصہ گزرجانے پر اپیل کرتا ہوں کہ اب موزوں وقت ہے کہ وہ اپنے وطن اور گھروں کو لوٹ آئیں“ ۔میرواعظ نے یہ بات زور دے کر کہی کہ” کشمیری پنڈت ہماری تہذیب ، ثقافت اور کلچر کا ایک اٹوٹ حصہ ہےں“۔ انہوں نے کہاکہ کشمیر میں مسلمان جتنے محفو ظ ہیں ،وہ بھی اپنے آپ کواتنا ہی محفوظ تصور کریں۔انہوں نے کہا جموں کشمیر کی تحریک پسند قیادت نے ہمیشہ کشمیر ی پنڈت کی وطن واپسی کی حمایت کی ہے اور آئندہ بھی کرتے رہے گے۔
دریں اثناءمیرواعظ نے اپنے ایک بیان میں گزشتہ دنوں کٹھوعہ میں ایک آٹھ سالہ معصوم بچی کے اغوا ، عصمت ریزی اور وحشیانہ قتل کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اسے ایک درند ہ صفت واقعہ قرار دیا اور کہا کہ اس واقعے کی تئیں مکمل ایک ہفتے تک حکومت کی غفلت شعاری اور عدم توجہی پر سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اس پورے واقعہ کی پوری تحقیقات اور ملوث افراد کی گرفتاری اور ملزمین کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیاہے۔ا
مشترکہ مزاحمتی قیادت کی طرف سے مزاحمتی رہنماﺅں اور کارکنوں نے جامع مسجد کے باہر حکومتی دہشت گردی ، این آئی اے اور ED کی انتقام گیرانہ کارروائیوں اور حریت رہنماﺅں کے خلاف بے بنیاد جھوٹ پر مبنی چارج شیٹ دائر کرنے کےخلاف پُر امن مظاہرہ کیا اور ان ہتھکنڈوں کی مذمت کی۔

