سرینگر:قومی تحقیقاتی ایجنسی(این آئی اے) کی خصوصی عدالت نے منی لانڈرنگ کے سلسلے میںگرفتار متحدہ جہاد کونسل کے چیرمین سید صلاح الدین کے فرزند سید شاہد یوسف کی عدالتی تحویل میں5فروری تک کی توسیع کے احکامات صادر کئے ہیں ۔
نیشنل انویسٹی گیشن ایجنسی (این آئی اے) نے 24اکتوبر2017 کو حزب المجاہدین کے سربراہ اور متحدہ جہاد کونسل کے چیرمین سید صلاح الدین کے بیٹے سید شاہد یوسف کو پوچھ تاچھ کےلئے نئی دلی طلب کرنے کے بعد باضابطہ طور گرفتار کرلیا۔42سالہ شاہد یوسف کو منی لانڈرنگ کے سلسلے میںحراست میں لیا گیا ہے اور یہ کیس سال2011کا ہے۔ان پر انڈین پینل کوڈ(آئی پی سی) اورغیر قانونی سرگرمیوں کے انسدادسے متعلق قوانین کی کئی دفعات کے تحت الزامات عائد کئے گئے ہیں۔
این آئی اے کا کہنا ہے کہ شاہد یوسف پاکستان اور سعودی عرب سے رقومات حاصل کرتا تھا۔عدالت نے گرفتاری کے بعد انہیں جسمانی ریمانڈ پر این آئی اے کی تحویل میں دیااور پوچھ تاچھ کا مرحلہ ختم ہونے کے بعد انہیں عدالتی تحویل کے تحت تہاڑ جیل دلی میں نظر بند کیا گیا۔
جمعہ کو این آئی اے کے خصوصی جج او پی سینی کی عدالت میں”اِن کیمرہ“ سماعت کے بعد شاہد یوسف کی عدالتی تحویل میں5فروری تک کی توسیع کے احکامات صادر کئے ۔واضح رہے کہ این آئی اے نے اس کیس کے سلسلے میںسید علی گیلانی کے قریبی ساتھی غلام محمد بٹ،محمد صدیق گنائی، غلا م جیلانی لیلو اورفاروق احمد ڈگہ کے خلاف دو چارج شیٹ دائر کئے ہیں۔یہ چاروں بھی اِس وقت دلی کی تہاڑ جیل میں نظر بند ہیں۔

