پی ڈی پی کے وعدے سیراب ، نہ افسپا ختم ہوا، نہ بجلی گھروں کی واپسی ہوئی : ڈاکٹر کمال

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

جموں: نیشنل کانفرنس ہمیشہ کشمیری عوام کی خدمت گار جماعت رہی ہے اور اسی جماعت نے ریاستی کے تینوں خطوں کے لوگوں مفادات ، احساسات کا دفاع کیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ اسی جماعت نے ریاست کی تشخص ، انفرادیت ، وحدت کو زندہ رکھنے میں عظیم مالی وجانی قربانیاں پیش کی ہے جو ایک تاریخ ہے اسی عوامی اور سیاسی نمائندہ جماعت نے ہمیشہ ریاست میں مکمل امن کی بحالی اور ریاست کے تینوں خطوں کی یکساں طرقی کی علمبردار رہی ہے ۔

ریاست کا صدیوں کا بھائی چارے کی مشعل کو روشن رکھنے کے لئے تاریخی اور کلیدی رول ادا کرتی رہی ہے ان باتوں کا اظہار نیشنل کانفرنس کے معاون جنرل سیکریٹری ڈاکٹر شیخ مصطفےٰ کمال ( سابق وزیر ) نے آج جموں شیر کشمیر بھون میں کارکنوں اور عہدیداروں سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی نے عوام کے ساتھ جو وعدے کئے تھے وہ سیراب ثابت ہوئے ۔ کمال نے کہا کہ مرحوم مفتی محمد سعید اور موجودہ خاتون وزیر اعلیٰ نے سابقہ ریاستی اسمبلی اور پارلیمانی الیکشنوں میں عوام سے کہا تھا کہ ہمار اتحاد بی جے پی کے ساتھ اس لئے ہوا ہے کہ ہم یعنی قلم دوات والے آفسپا ہٹائے گئے ، بجلی پروجیکٹون کو واپس لائے گئے ، بد امنی کا فضا ختم ہوگا، بدلاو¿ کا ماحول پیدا ہوگا۔

معصوم اور بے گناہ شہریوں کی ہلاکتوں کا سلسلہ تھم جائے گا ۔ لیکن اس کے بجائے آج ریاست خصوصاً مفتی مرحوم 1990 کے حالات کی عکاسی کرتی ہے ۔ یہ بات ڈکی چھپی نہیں ہے کہ گن کلچر بھی اسی جماعت کی دین ہے اور اخوانیوں کی حوصلہ افزائی کیونکہ گن کلچر کی بدولت ہی مفتی محمد سعید بر سر اقتدار آیا اور بذات خود مرحوم مفتی نے گاندربل میں اس بات کا دو ٹوک اعلان کیا کہ ©©” بندوق برداروں بندوق چھوڈو آپ کی حکومت آ گئی “۔

انہوں نے کہا کہ مرحوم مفتی محمد سعید نے 1990 سے لیکر 1996 تک کشمیر کو شورش زدہ علاقہ قرار دیا اور بحثیت مرکزی ہوم منسٹر فوج اختیار سونپ دئے اور قتل عام کا بازار گھر کروایا ، بستیوں کی بستیاں اجاڈ دی گئی ، بے نام اور گم نام قبرستان اور قبریں وجود میںلائی اور پنڈتوں ایک سازش کے تحت جگموہن اور مفتی نے شبانہ شبانہ وادی سے ہجرت کرنے پر مجبور کر دیا اور اس طرح سے کشمیریوں مسلمانوں کو بدنام کرنے کی سازش تھی اور ریاست میں مسلمانوں خصوصاً نوجوانوں کی نسل کشی کرنے میں بھی کوئی کثر باقی نہ رکھی گئی ۔

انہوں نے کہا ریاست میں اس وقت تباہ کن حالات اقتصادی بحران سیاسی حل چل ہر سو چھایا ہوا ہے البتہ حکومت وقت صرف اور صرف اقتدار کے نشے میں کرپشن ، کنبہ پروری ، اقراءپروری ، کو بڑھاوا دینے میں مس ہیں ۔ ڈاکٹر کمال نے کہا کہ سرحدوں پر تناو¿ جاری رہنے سے آر پار کے عوام مصیبتوں اور مشکلاتوں سے دوچار ، ہر روز آر پار سرحدوں پر قیمتی جانوں کی تلافی جاری ۔

انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے سربراہوں کے ساتھ ساتھ فوجی قیادت سے بھی اپیل کی کہ وہ 2003 کی فائر بندی پر عمل پیرا ہوجائے ساتھ ساتھ ریاست میں مکمل امن وامان کی بحالی کے لئے جنگی بنیادوں پر اقدامات کریں اور ہندپاک اپنی طویل مدت سے پڑے مسائل خصوصاً مسئلہ کشمیر افہام وتفہیم کے ساتھ حل کریں ۔ اجلاس میں پارٹی صوبہ جموں کے سینئر لیڈران ایڈوکیٹ رتن لال گھپتا ، کشمیری سنگھ ، شیخ بشیر احمد نے بھی خطاب کیا ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے