جموں: پچھلے تین برسوں کے دوران ریاستی حکومت کی فسکل ریفارمز عمل میں لانے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب اے درابو نے آج ریاستی اسمبلی میں چوتھا بجٹ پیش کرنے کے دوران کہا کہ یہ بجٹ جموں وکشمیر کو حقیقی خوشحال ریاست بنانے کی طرف ایک بڑا قدم ہے۔
انہوں نے کہا کہ یہ بجٹ پچھلے تین برسوں کے دوران عوامی اخراجات منیجمنٹ کے لئے نیا نظام تعمیر کرنے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے ریاست کے فائنانشل منیجمنٹ طریقہ کار کو ازسر نو بدلنے میں زبردست کوشش کی ہے تا کہ بامعنی عوامی پالیسی انٹروینشن کے لئے راہ ہمواہ ہو۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ جموں وکشمیر ملک کی پہلی ریاست ہے جو موجودہ مالی سال کے آخری کواٹر میں بجٹ پیش کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ریاست نے سب سے پہلے پلان۔ نان پلان اخراجات کو کیپٹل ریونیو اخراجات تک پہنچایا اور اس عمل کو دیگر ریاستوں نے بھی اپنایا۔
ٹریجری بنچوں کی طرف سے تالیوں کی گونج میں وزیر کزانہ نے کہا کہ جموں وکشمیر کی بجٹری تاریخ میں شائد ایسا واقعہ پہلی بار پیش آیا ہے کہ موجودہ سال کے ری وائزڈ ایسٹی میٹ سے بہتر ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ریونیو ایسٹیمیٹ کے9931 کروڑ کے مقابلے میں ریاست میں10 ہزار کروڑ کی ٹیکس کی وصولیابی ممکن ہوئی ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب انہوں نے وزیر خزانہ کی باگ ڈور سنبھالی اس وقت محکمانہ بقایاجات11 ہزار کروڑ تھی جس میں سے سات ہزار کروڑ بجلی کے اور باقی چار ہزار کروڑ دیگر محکموں کے تھے۔ آج محکمانہ بقایاجات گر کر600 کروڑ رہ گیا ہے اور بجلی خریدنے کے بقایاجات تین ہزار کروڑ تک کم کئے گئے ہیں۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ریاست کو3 ہزار کروڑ سے زیادہ ان فنڈڈ ریسورس گیپ کا سامنا ہے۔ سال کے اختتام پر میرے پاس1300 کروڑ کی اضافی رقم موجود ہے۔ فسکل ڈیفیسٹ جسے فسکل کارکردگی کا واحد خصوصی انڈی کیٹر مانا جاتا ہے ، کو9.5 فیصد کا تخمینہ لگایا گیا تھا لیکن اصل میں وہ5.7 فیصد فیصد ثابت ہوا۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ ریاست میں نظام بہتر طریقے پر کام کرنے لگا ہے۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ ہمارے مالی نظام کی بہتر حالت کے مد نظر ہم وہ تمام فیصلے لے سکتے ہیں جن سے لوگوں کی زندگی میں تبدیلی لائی جاسکتی ہے بالخصوص غریبی کی سطح سے نیچے گذر بسر کرنے والے لوگوں کی زندگی میں بہتری لائی جائے گی۔ حکومت نے ورکنگ کلاس کے مشاہرے میں اضافہ کیا اور ایک نئے سکلڈ ورکر کیٹاگری کو متعارف کیا گیا اس سلسلے میں کم از کم اجرت400 روپے مقرر کی گئی۔
سماجی اور اقتصادی طور کمزور طبقہ سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے لئے چند سہولیات کا اعلان کرتے ہوئے ڈاکٹر درابو نے کہا کہ ریاستی حکومت وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کی قیادت میں غیرب سے غریب تر لوگوں کے لئے سوشل سیکورٹی کا ایک جال بُنا گیا ہے جس کی بدولت انہیں انشورنس فراہم کی گئی، معذوری سے انہیں نجات دلائی گئی، بیماریوں اور ناگہانی موت سے بچایا گیا۔اُن کے بچوں کو تعلیمی سہولیات فراہم کی گئیں اور انہیں چھوٹے قرضوں کی فراہمی بھی یقینی بنائی گئی۔ انہوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے ان سہولیات کی بدولت ان غریب لوگوں پر مشتمل ہے، کی زندگی محفوظ ہوکر رہے گی۔
کشمیر میں ہینڈی کرافٹ صنعت کو دوبارہ زندہ کرنے کا ذکر کرتے ہوئے ڈاکٹر درابو نے کہا کہ حکومت نے ہینڈی کرافٹ اور ہینڈ لوم ڈیولپمنٹ کارپوریشنوں کو کچا مال اور دیگر سہولیات فراہم کرنے کے سلسلے میں5 کروڑ روپے الگ رکھے ہیں۔
ریاستی ملازمین اور پنشنروں کو ایک بڑی راحت دینے کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت12 ہزار کروڑ روپے کا ایک کارپس فنڈ قائم کرے گی تا کہ ریاستی ملازمین کو جی پی ایف کی ادائیگی کو مقررہ وقت کے اندر ممکن بنایا جاسکے۔
وزیر خزانہ نے اس موقعہ پر ریاستی ملازمین کے حق میں ایک فیصد مہنگائی بھتہ کا اعلان کیا جو یکم جولائی2017 سے واجب الادا ہوگا۔انہوں نے کہا کہ ان کی حکومت ساتویں تنخواہ کمیشن کی سفارشات پر یکم اپریل2018 عمل درآمد کرنے کے لئے وعدہ بند ہے اور اس کا اطلاق یکم جنوری2016 سے ہوگا۔
ملازم دوست حکومت ہونے کی بدولت، حکومت نے28 سال کی کوالیفائینگ سروس کو20 سال فُل پنشن تک کم کرنے کا فیصلہ کیا اس قدم کی بدولت لگ بھگ ملازموں کی آدھی آبادی مستفید ہوگی۔
جن بچوں کے والدین فوت ہوجائیں اور جو ملازمین کی بن بیاہی بیٹیاں ہوں گی، اُن کے حق میں ایک بڑے سوشل سیکورٹی قدم کی بدولت پنشن کی سہولیت فراہم کی جائے گی۔اسی طرح گرو¿پ میڈی کلیم انشورنس جو صرف گزٹیڈ ملازمین کو دستیاب تھا وہ اب تمام سرکاری ملازمین بشمول پنشنروں اور صھافیوں کو بھی دستیاب رہے گا لگ بھگ30 لاکھ لوگ اس دائرے میں لائے جاسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ بی پی ایل کنبے بھی انشورنس کے حقدار ہوں گے۔
ریاست کے دیہی علاقوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے جہاں سرکاری ملازم اپنی تعیناتی نہیں کروانا چاہتے، کو حکومت ایک سکیم کے تحت تعیناتی میں ملازم کو ضروری حوصلہ افزائی فراہم کرے گی۔
وزیر خزانہ نے کہا کہ پچھلے چند سال کاروبار کے لئے اچھے نہیں تھے، چاہت سیاحت کا شعبہ¿ کو یا کوئی صنعت، سبھی کسی نہ کسی طرح سے متاثر ہوئے۔پہلے تو2014 کے سیلاب اور پھر2016 کے نامساعدحالات، اس کے بعد نوٹ بندی پالیسی ساتھ ہی جی ایس ٹی کا انعقاد۔
2014 کے سیلاب اور 2016 کے نامساعد حالات سے ہوئے نقصان سے نکلنے کے لئے ڈاکٹر درابو نے کہا کہ آر بی آئی نے ریاست میں قرضہ حاصل کرنے والوں کے لئے لون ری سٹرکچرنگ پیکج کو منظور کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی اجازت سے میں سی ایمز بزنس انٹرسٹ ریلیف سکیم کا اعلان کرتا ہوں ۔ تمام آر بی آئی سے منظور شدہ اکاو¿نٹس کے لئے ریاستی حکومت 1 /3 ماہانہ قسط جبکہ قرضہ لینے والا2 /3 حصہ ادا کرے گا۔

