سرینگر:ایم ایل اے لنگیٹ انجینئررشید کو مارشلوں نے اُس وقت اسپیکر کے حکم پر ایوان بدر کردیا جب انہوں نے بانڈی پورہ میںایک کرکٹ میچ کے دوران پاکستان کا قومی ترانہ بجانے پر گرفتار کئے گئے کرکٹ کھلاڑیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔اس سے قبل انجینئر نے ایوان کے باہر اور اندر کرناہ اور گریز کے لوگوں کےلئے ٹنل تعمیر کرنے کے حق میں زوردار احتجاج اور ایوان سے واک آﺅٹ بھی کیا۔
ممبر اسمبلی لنگیٹ منگل کی صبح اسمبلی کمپلیکس کے باہر دھرنے پر بیٹھے تھے۔ان کے ہاتھ میں ایک چھوٹے سے بینر پر ”اگرکرناہ اور گریز میں ٹنل تعمیر نہیں کرسکتے تو لوگوں کو اُس پار جانے کی اجازت دو“ کی عبارت درج تھی۔ان کا یہ احتجاج کپوارہ کرناہ شاپراہ پر پیش آئے برفانی تودے گرنے کے واقعات میں11افراد کی ہلاکت کے تناظر میں تھا اور وہ مطالبہ کررہے تھے کہ انسانی جانوں کے مزید زیاں سے بچنے کےلئے سادھنا ٹاپ اور گریز شاہراہ پر ٹنل تعمیر کی جائے۔ انجینئر رشید اپنا احتجاج ایوان کے اندر بھی لے کر گئے اور بینر لہراتے ہوئے اپنی مانگ ایوان کے سامنے رکھی۔انہوں نے دیہی ترقی کے وزیر عبدالحق خان پر برستے ہوئے کہا کہ وہ کپوارہ کے لوگوں کو نظر انداز کررہے ہیں۔
چنانچہ جب سرکار کی طرف سے کوئی جواب سامنے نہیں آیا تو ممبر موصوف احتجاج کے بطور ایوان سے واک آﺅٹ کرگئے۔بعد میں انجینئر رشید نے دوبارہ ایوان میں آکر بانڈی پورہ میں کرکٹ میچ کے دوران پاکستان کا قومی ترانہ بجانے کی پاداش میں کچھ کرکٹ کھلاڑیوں کی گرفتاری کا مسئلہ اٹھایا۔ وقفہ سوالات کے ختم ہوتے ہی ایم ایل اے لنگیٹ احتجاج کرتے ہوئے ویل میں آگئے اور گرفتار کھلاڑیوں کی رہائی کا مطالبہ کیا۔کے ا یم ا ین نمائندے نے بتایا کہ انجینئر نے اپنے مخصوص انداز میں چیخ چیخ کر کہا”پاکستان کا قومی ترانہ بجاکر ان نوجوانوں نے کونسا گناہ کیا ہے؟اس طرح کے واقعات بد انتظامی کی وجہ سے پیش آرہے ہیں“۔
اس پر بھاجپا کے کچھ ممبران آگ بگولہ ہوگئے اور ان کی انجینئر کے ساتھ تلخ کلامی اور بحث و تکرار کا سلسلہ کچھ دیر تک جاری رہا۔انجینئر نے ویل میں آکر قریب دس منٹ تک احتجاج کیا جس دوران اسپیکر کویندر گپتا ان سے خاموش رہنے کی درخواست کرتے رہے۔انجینئر نے جب

