کپوارہ:سرحدی ضلع کپوارہ کے قصبہ کرالہ پورہ میں ڈاکٹروں کی کمی پر مقامی لوگوں نے بطور احتجاج ہڑتال کی ۔اس ہڑتال کا مقصد حکومت اور انتظامیہ کی جانب اِس معاملے کی جانب توجہ مرکوز کرنا ہے۔
اطلاعات کے مطابق کرالہ پورہ سب ضلع اسپتال میں طبی اور نیم طبی عملے کی کمی کے خلاف مقامی لوگوں نے سڑکوں پر نکل کر صدائے احتجاج بلند کی ۔احتجاجیوں کا کہنا ہے کہ سب ضلع اسپتال میں مریضوں کا کافی دباﺅ رہتا ہے ،لیکن یہاں علاج ومعالجہ کی خاطر ایک ہی ڈاکٹر تعینات ہے۔
مظاہرین نے حکومت کے خلاف نعرہ بازی کرتے ہوئے الزام عائد کیا کہ سب ضلع اسپتال میں درکار طبی عملے کی تعیناتی کے حوالے سے لیت ولعل کا مظاہرہ کیا جارہا ہے ۔مقامی تاجروں نے بھی احتجاج کی حمایت کرتے ہوئے بطور احتجاج دکانوں کے شٹر نیچے رکھے ۔
معلوم ہوا ہے کہ کرالہ پورہ میں مرد وزن نے احتجاجی مظاہرے کرتے ہوئے مزید کہا کہ اسپتالوں کا رُخ کرنے والے مریضوں کو علاج ومعالجہ کی خاطر مجبوراً سرینگر یا کپوارہ جا نا پڑتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ سب ضلع اسپتال کرالہ پورہ کا طبی نظام مکمل طور پر مفلوج ہے اور حکومت اس حوالے سے غیر سنجیدگی کا مظاہرہ کررہی ہے ،جوکہ لوگوں کی زندگی کے ساتھ کھلواڑ کے مترادف ہے ۔
ان کا کہناتھا کہ ایک ڈاکٹر کیسے وسیع آبادی کا علاج کرسکتا ہے ؟یہ ناممکن ہے ۔انہوں نے کہا کہ سب ضلع اسپتال کا قیام عوامی سہولیت کےلئے کیا گیا ،لیکن اب یہ مذاق بن کر رہ گیا ہے ۔انہوں نے کہا کہ لوگوں کو گھر کی دہلیز پر طبی سہولیت فراہم کرنے کا دعویٰ اور وعدہ سراب ثابت ہورہا ہے ۔
مظاہرین نے مطالبہ کیا کہ اسپتال میں فوری طور پر طبی اور نیم طبی عملے کی تعیناتی کو یقینی بنایا جائے ،تاکہ لوگوں کو علاج کی خاطر در در کی ٹھوکریں نہ کھانی پڑے ۔بلاک میڈیکل افسر (بی ایم او) ڈاکٹر شفیع میر نے بتایا کہ 6سپیشلسٹ اسامیوں میں سے صرف ایک اسامی ہی پُر کی گئی ہے جبکہ اسی طرح میڈیکل افسران میں سے اسپتال میں ایک ہی کام کررہا ہے ۔
ان کا کہناتھا کہ حال ہی میں یہ معاملہ وزیر صحت کی نوٹس میں لایا گیا ہے اور انہوں نے یقین دہانی کرائی ہے یہاں خالی اسامیوں کو بہت جلد پُر کیا جائیگا ۔

