جموں: جموں وکشمیر کے ضلع سانبہ میں بین الاقوامی سرحد پر پاکستانی فائرنگ میں میں بی ایس ایف کے ایک اہلکار کی ہلاکت کے تناظر میں سینئر سیکورٹی عہدیداروں نے کہا ہے کہ پاکستان نہیں چاہتا ہے کہ ریاست اور سرحدوں پر امن وامان کی فضا بحال ہو۔ انہوں نے کہا کہ سیکورٹی فورسز کا حوصلہ بلند ہے اور وہ کسی بھی چیلنج سے نمٹنے کے لئے تیار ہیں۔ ریاستی پولیس سربراہ ڈاکٹر شیش پال وید نے جمعرات کو یہاں سانبہ میں مارے گئے بی ایس ایف ہیڈ کانسٹیبل کی میت پر پھول مالائیں رکھنے کی تقریب کے حاشئے پر نامہ نگاروں کوبتایا ’انسانیت کا قتل کرکے اگر کوئی سمجھتا ہے کہ وہ اچھا کررہا ہے تو میں سمجھتا ہوں کہ انہیں خود کااحتساب کرنا چاہیے۔ باقی ہمارے فورسزکسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے اہل ہیں‘۔
ان کا اشارہ پڑوسی ملک پاکستان کی طرف تھا۔ تقریب میں موجود آئی جی بی ایس ایف جموں فرنٹیئر رام اوتار نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ بی ایس ایف کی ہمیشہ کوشش رہتی ہے کہ سرحد پر امن رہے۔ ان کا کہنا تھا’ تاریخ گواہ ہے کہ پاکستان کی ہمیشہ کوشش رہی ہے کہ امن کے ماحول کو درہم برہم کیا جائے۔ اسی کوشش کا یہ نتیجہ ہے کہ بدھ کو انہوں نے فائرنگ کی جس کے نتیجے میں ہمارا ایک جوان شہید ہوا‘۔
لانچنگ پیڈس پر جنگجوو¿ں کی موجودگی سے متعلق پوچھے جانے پر آئی جی نے کہا ’لانچنگ پیڈس کے بارے میں میں کچھ نہیں کہہ سکتا ہوں۔ ہاں مگر سرحد پر نقل وحرکت ہے۔ ہمارا حوصلہ بلند تھا، بلند ہے اور بلند رہے گا‘۔ انہوں نے سانبہ میں پیش آئے فائرنگ کے واقعہ کے بارے میں بتایا ’یہ (مہلوک بی ایس ایف اہلکار) فوج کی اگلی چوکی پر تعینات تھا۔ بدھ کو قریب سوا چار بجے پاکستان کی طرف سے فائر آیا جو ہیڈکانسٹیبل کو جاکر لگا۔ نذدیکی چوکیوں میں تعینات فوجیوں کو معلوم ہوا تو انہوں نے جوابی فائرنگ کی۔
جوابی فائرنگ میں پاکستان کی چوکیوں اور ہتھیاروں کو بھاری نقصان پہنچا ہے‘۔ بین الاقوامی سرحد کے آر ایس پورہ سیکٹر میں دراندازی کی کوشش ناکام بنانے اور ایک درانداز کی ہلاکت کے واقعہ کے بارے میں مسٹر رام اوتار نے کہا ’آر ایس پورہ سیکٹر میں ایک درانداز مارا گیا ہے۔ صبح کے قریب چھ بجے مشتبہ نقل وحرکت دیکھی گئی۔ اس کے بعد صبح کے قریب سات بجے ایک درانداز کو بھارتی حدود میں دیکھا گیا۔ درانداز کو پہلے چیلنج کیا گیا اور بعد میں اس پر فائرنگ کرکے ہلاک کیا گیا۔ وہ سیالکوٹ ضلع کا رہنے والا ہے۔ لیکن ابھی اس کی شناخت پوری طرح سے معلوم نہیں ہوسکی ہے۔ وہ نوجوان ہے۔ اس کی عمر قریب 35 برس ہوسکتی ہے۔ جس طرح کے کپڑے اس نے پہن رکھے تھے اس سے لگتا ہے کہ وہ یا جنگجوو¿ں کا گائیڈ یا ان کا ساتھی تھا‘۔
خیال رہے کہ ضلع سانبہ میں بدھ کے روز پاکستانی فائرنگ کے نتیجے میں بی ایس ایف کا ایک اہلکار جاں بحق ہوگیا۔ 51 سالہ بی ایس ایف ہیڈکانسٹیبل مغربی بنگال کا رہنے والا تھا۔ یو اےن آئی

