سرینگر:ہندوارہ میں ایک المناک واقعہ کے دوران گاڑی کے اندر ہیڑچلانے کے نتیجے میں آکسیجن کی مقدار کم ہونے سے ایک نوجوان موت کی آغوش میں چلا گیا جبکہ اس کا بہنوئی سرینگر کے ایک اسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔جاں بحق ہوئے نوجوان کی بہن کو درد زہ میں مبتلا ہونے کے بعد گزشتہ شب ضلع اسپتال ہندوارہ میں داخل کرایا گیا تھا۔
منگل کی شب ہلال احمد خان ساکن ناگرا نار ہندوارہ کی اہلیہ رخصانہ کو ضلع اسپتال ہندوارہ میں داخل کیا گیا۔مذکورہ خاتون حاملہ ہے اور اسے اسی سلسلے میں اسپتال لایا گیا۔نمائندے نے پولیس ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ خاتون کے ساتھ کئی رشتہ دار اس کی تیمارداری کےلئے اسپتال آئے تھے جن میں اس کا 28سالہ شوہر ہلال احمد اور20سالہ بھائی ماجد احمد خان ولد عبدالمجید ساکن شاہ نگری ماور بھی شامل تھا۔
اسی دوران ہلال اور ماجد تھکان دور کرنے کےلئے اسپتال کے باہر کھڑی اپنی ECO گاڑی میں بیٹھ گئے اور پوری رات گاڑی کے اندر ہی گزاری۔ صبح سویرے جب ان کے رشتہ انہیں جگانے کےلئے گاڑی کے پاس پہنچے تو گاڑی کا تالا اندر سے بند تھا اور ونوں بیہوش پڑے ہوئے تھے۔اس موقعے پر وہاں چیخ و پکار اور شوروغل بپا ہوا اور اطلاع ملتے ہی ہندوارہ پولیس کی ایک ٹیم بھی جائے واردات پر نمودار ہوئی۔بعد میں گاڑی کا شیشہ توڑ کر تالا کھول دیا گیا اور اسپتال سے ڈاکٹر کو بلایا گیا ۔دونوں کا معائینہ کرنے والے ڈاکٹر نے بعد میں نامہ نگاروںکو بتایا کہ گاڑی کے اندر ہیٹر چالو لیکن گاڑی کا انجن بند تھا۔انہوں نے کہا کہ ماجد کی گاڑی کے اندر ہی موت واقع ہوئی تھی جب ہلال کو انتہائی نازک اور بیہوشی کی حالت میں ابتدائی طبی امداد کی فراہمی کے بعد سرینگرمنتقل کیا گیا۔ڈاکٹر نے بتایا کہ دونوں کے منہ سے جھاگ کی بھاری مقدار ٹپک رہی تھی، لیکن گاڑی سے ظاہری طور کوئی مشکوک شئے برآمد نہیں ہوئی۔
ادھرسرینگر منتقل کئے گئے ہلال احمدکی حالت تشویشنا ک بنی ہوئی ہے۔نمائندے نے بتایا کہ ابتدائی طور ماجد کے گھروالوں نے پولیس سے اس کی لاش کا پوسٹ مارٹم نہ کرانے کی درخواست کی تھی لیکن بعد میں ان کی رضامندی سے ہندارہ اسپتال میں لاش کا پوسٹ مارٹم انجام دیا گیا ۔پولیس ذرائع نے کشمیر میڈیا نیٹ ورک کو بتاےا کہ ابتدائی چھان بےن سے معلوم ہوا ہے کہ گاڑی میں رات بھر ہیٹر چالو رکھا گےا تھا جس کے نتےجے میںآکسیجن کی مقدار اس قدر کم ہوگئی کہ دم گھٹنے سے ایک نوجوان کی موت واقع ہوئی اور دوسرا موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے۔
تاہم ذرائع کے مطابق ماجد کی پوسٹ مارٹم رپورٹ کا انتظار کیا جا رہا ہے جس کے بعد ہی اس کی موت کی وجہ کے بارے میں کسی حتمی نتےجے پر پہنچا جا سکتا ہے۔اس سلسلے میں پولیس اسٹےشن ہندوارہ میں کیس درج کر کے مزید تحقیقات شروع کی گئی ہے۔قانونی و طبی لوازمات کی ادائیگی کے بعد جب ماجد کی میت اس کے آبائی گھر پہنچائی گئی تو علاقے میں غم و اندوہ کی لہر دوڑ گئی۔(کے ایم این )

