سرےنگر//نےشنل کانفرنس کے صدر ڈاکٹر فاروق عبداللہ اور کارگذار صدر عمر عبداللہ نے نئے سال کا خےر مقدم کرتے ہوئے اُمےد ظاہر کی ہے کہ اللہ کرے کہ 2018ءکے دوران جنوبی اےشےا خصوصاً جموں کشمےر سمےت برصغےر مےں امن وامان کا نےا دور جاری ہوں تاکہ ےہاں کے غرےب عوام کو امن وسکون اور راحت کی زندگی بسر کرنے کا موقعہ نصیب ہوں ۔
ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے اُمےد ظاہر کی کہ کشمےر مسئلے کو سےاسی طور حل کرنے کیلئے ہم سب کی کوششےں رنگ لائےں گی اور ریاست کو اٹانومی کی بحالی نصیب ہوگی۔ انہوں نے اُمید ظاہر کی کہ نئے سال کے آغاز میں ہی دونوں ممالک 2017میں ماضی کی تمام رنجشوں، تلخیوں اور اختلافات کو فراموش کرکے ایک نئے باب کی شروعات کریں اور تمام آپسی مسائل کا پُرامن طریقے سے حل کرکے برصغیر دیر پا امن کی داغ بیل ڈالیں۔ ڈاکٹر فاروق نے ہند و پاک وزرائے اعظم کی طرف سے آپسی رشتوں میں بہتری کیلئے اُٹھائے گئے اقدامات کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا سابق پاکستان کے صدر جناب جنرل مشرف صاحب اور پاکستان کے سابق وزیر اعظم جناب نواز شریف صاحب اوربھارت وزیر اعظم شری اٹل بہاری واجپائی جی کی مسلسل کوششوں کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے پُر خلوص نیک نیتی کے ساتھ کی گئی پہل ،لگاتار کوششوںاور مثبت بیانات کی بدولت ہی دونوں ممالک مسئلہ کشمیر امن بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں احسن پہل کی تھی ۔ اُ
نہوں نے دعا کی کہ نےا سال اقوام عالم کیلئے باعث نجات وامن ثابت ہو۔ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے ہندوستان اورپاکستان کے سربراہوں دونوں ممالک میں امن پسند رہنماو¿ں اور دونوں ممالک جو ایک قریب پڑوس بھی ہے اور جو ماضی میں ایک ہی دیش کے باسی تھے سے اپیل کی کہ وہ آپسی رنجشیں ، تلخیاں ، قدورت بھول کر مسئلہ کشمیر کے پائیدار حل کے لئے پیش قدمی کریں کیونکہ اسی میں ہندوستان اور پاکستان کی آزادی محفوظ اور دونوں ممالک کے کروڑوں عوام کی خوشحالی کا راذ مضمر ہے ۔انہوں نے کہا مسئلہ کشمیر جس قدر حل کرنے میں طول دیا جائے گا ۔
اُس قدر دونوں ممالک کے لوگ عدم تحفظ شکاراور تعمیر وترقی سے محروم ۔ مسئلہ کشمیر ایک زندہ حقیقت ہے جسکو سیاسی طور پر حل کرنے کی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ انہوں نے کہا نیشنل کانفرنس اور اس کی عظیم قیادت ( بابائے قوم شیر کشمیر شیخ محمد عبداللہ ) نے زندگی بھر مسئلہ کشمیر کے پُر امن حل اور ہندوپاک دوستی کے لئے ایک کلیدی رول اور پُل کا کام انجام دیا انہوں نے کہا کہ ریاست کی موجودہ سرکار لوگوں کو راحت پہچانے اور لوگوں کے مسائل حل کرنے میں ابتدا سے ہی ناکام ہو چکی ہے ۔
ریاست کے لوگ ایک تباہ کن دور سے گزر رہے ہیں ، کاروباری حالات روز بہ روز بگڑ تے جارہے ہیں ۔ اقتصادی بحران ، سیاسی انتشاری سے اہل کشمیر دوچار ہیں۔ انہوں نے کہا آج ہندوستان کے زی شعور تاجر پیشہ کے ساتھ ہندوستان کے محب وطن رہنماءبھی جی ایس ٹی کے نفاذ کے خلاف شدید رد عمل کا اظہار کر رہے ہیں ۔ وقت نے ثابت کر دیا جی ایس ٹی ملک کی اقتصادی کے لئے باعث ذوال ثابت ہوا ۔ آج پورے ملک کے شہر و گام میں اس کے خلاف سراپا احتجاج کر رہے ہیں ۔ جی ایس ٹی سے ریاست کی مالی خود مختاری بھی ختم کی گئی آج ریاست کے تاجر دوکاندار حضرات کاروباری ادارے افلاس کے بھنور میں پھنس گئے ہیں حالانکہ نیشنل کانفرنس اور ریاست کی دیگر اپوزیشن جماعتوں خصوصاً سیول سوسائٹی ، کاروباری انجمنوں ، صنعت کاروں ، تاجروں نے بھی جی ایس ٹی کے خلاف اپنا ردعمل ظاہر کیا لیکن موجودہ کشمیر دشمن اور عوام دشمن حکومت نے ریاست میں جی ایس ٹی نافذ کروایا اور اس طرح سے ریاست کی مالی خودمختاری ختم کروائی ۔
انہوں نے کہا ملک روز بہ روز فرقہ پرستی میں غرق ہو رہا ہے جو ملک کی تباہی سب سے بڑا باعث ہوگا ۔ اقلیتوں کے ساتھ سوتیلی ماں کا سلوک کیا جارہا جو انتہائی تشویش ناک صورت اختیار کرے گااور ملک کے صدیوں عظیم مذہبی بھائی چارے ، انسانیت کو زبردست نقصان پہنچانے کی آلارم دی رہی ہے اس لئے فرقہ پرست طاقتوں کو لگام دینے کی وقت کی اہم ضرورت ہے ۔
