ویڈیو: نیشنل ہیلتھ مشن ایمپلائز کی72گھنٹے کی قلم چھوڑ ہڑتال

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
سرینگر: محکمہ صحت میں نیشنل ہیلتھ مشن اور دیگر اسکیموں کے تحت کام کررہے ملازمین کی ایک بڑی تعداد نے جمعرات کواپنی مستقلی کے حق میںپرتاپ پارک سرینگر میں دھرنا دیکرزوردار احتجاجی مظاہرے کئے۔ سٹی رپورٹر کے مطابق وادی کے مختلف اضلاع سے تعلق رکھنے والے نیشنل ہیلتھ مشن(NHM) ،RNTCP،NACOاور دیگر اسکیموں کے تحت تعینات ملازمین کی ایک بڑی تعداد جمعرات کی صبح شہر کے لالچوک میں نمودار ہوئی اور حکومت کے خلاف نعرے بازی شروع کی۔یہ احتجاج جوائنٹ ایمپلائز کارڈی نیشن کمیٹی این ایچ ایم کے بینر تلے کیا گیا جو کمیٹی کی طرف سے بدھ سے شروع ہونے والے72گھنٹوں کے احتجاج کا ایک حصہ تھا۔یہ ملازمین ہڑتال پر ہیں جس کے نتیجے میں طبی اداروں کا کام کاج بری طرح سے متاثر ہوا ہے ۔احتجاج کے شرکاءنے اپنے مطالبات کے حق میں ہاتھوں میں پلے کارڈس اٹھا رکھے تھے اور ان میں محکمہ صحت میں کام کررہے ڈاکٹروں، نیم طبی عملے اور ٹیکنیشنز کی خاصی تعداد شامل تھی۔ یہ ملازمین جلوس کی صورت میں پرتاپ پارک پہنچے اور دھرنے پر بیٹھ گئے۔ احتجاجی ملازمین کا کہنا تھا کہ وہ ایک طویل عرصے سے اپنی مستقلی کے حق میں احتجاجی مہم چلارہے ہیں اوروزیر خزانہ ڈاکٹر حسیب درابو نے بھی ان کی نوکریاں باقاعدہ بنانے کا یقین دلایا تھا لیکن انہیں نظر انداز کرکے ان کے ساتھ نا انصافی کی جارہی ہے۔انہوں نے مطالبہ کیا کہ ان کا نام حکومت کی طرف سے مستقل کئے جارہے60ہزار عارضی ملازمین کے ساتھ شامل کیا جائے ۔مظاہرین نے کہا کہ این ایچ ایم اور ایگر اسکیموںکے تحت کام کررہے ڈاکٹر، نیم طبی عملے کے ارکان اور دیگر ملازمین کئی برسوں سے محنت اور تندہی کے ساتھ اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں ، انہیں اب تک اس حوالے سے صرف زبان یقین دہانیوں پر ہی ٹرخایا گیا لیکن اب انہوں نے اپنے حقوق کےلئے لڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کے ایم ا ین کے مطابق انہوں نے کچھ دیر تک پرتاپ پارک میں دھرنا دیکر زوردار نعرے بازی کی۔اس موقعے پر ملازمین کی مشترکہ کمیٹی کے ترجمان عبدالرﺅف نے نامہ نگاروں کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ ”ہم نے ان ملازمین کی مستقلی کےلئے گزشتہ چھ سال سے مختلف دفاتر کے چکر کاٹے ہیں تاکہ ہماری باقاعدگی کے بارے میں کوئی پالیسی مرتب کی جائے لیکن بدقسمتی سے ابھی تک ہماری جائز مانگ پوری نہیں کی گئی“۔انہوں نے کہا کہ جب تک حکومت ان کی مستقلی کے بارے میں کوئی ٹھوس اور تحریری پالیسی لیکر سامنے نہیں آتی، احتجاجی ہڑتال جاری رہے گی ۔ مظاہرین نے دھمکی دی کہ اگر حکومت نے ان کے حوالے سے اپنی پالیسی واضح نہیں کی تو وہ اپنے احتجاج میں مزید شدت لانے پر مجبور ہونگے۔
Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے