عام معافی :پلوامہ کے146نوجوانوں کے کیس واپس

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

پلوامہ:سنگبازی کے الزامات میں مبتلاءنوجوانوں کو راحت دےتے ہوئے ریاستی پولیس نے عام معافی اسکیم کو عملی جامہ پہنا تے ہوئے پولیس نے پلوامہ سے تعلق رکھنے والے146نوجوانوں کے کیس واپس لےنے کا اعلان کیا ۔ڈی آئی جی جنوبی کشمیرایس پی پانی نے کہا کہ عام معافی اسکیم کے تحت 146نوجوانوں کے21کیسوں کو واپس لیا گیا ۔

ریاستی پولیس نے وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی کے اعلان پر مزید عمل در آمد کرکے پلوامہ سے تعلق رکھنے والے146نوجوانوں کے کیسوں کو واپس لیا ۔اس سلسلے میں پلوامہ پولیس تھانہ میں ایک تقریب منعقد ہوئی ،جہاں ڈی آئی جی جنوبی کشمیرایس پی پانی نے یہ اعلان کیا ۔انہوں نے کہا کہ146نوجوانوں کے21کیسوں میں نام تھے اور یہ کیس اب عام معافی اسکیم کے تحت واپس لئے گئے ۔

ان کا کہناتھا کہ ان نوجوانوں کو کسی بھی طرح کی مشکلات کاسامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔ڈی آئی جی جنوبی کشمیر کے مطابق عام معافی کے زمرے میں لائے گئے نوجوانوں کو پاسپورٹ کے حصول اور دیگر سہولیت حاصل کرنے میں کسی طرح کے مسئلے کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا۔انہوں نے کہا کہ اب اِن نوجوانوں کو اپنے کیسوں کو ’فالو ‘یعنی قانونی چارہ جوئی یا سماعت کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا ۔

منعقد ہ تقریب میں نوجوانوں اور اُنکے والدین کی ایک خاصی تعداد موجودتھی ۔یاد رہے کہ جن نوجوانوں پر سنگبازی یا غیر قانونی سر گرمیوں کے حوالے سے مقدمات کا سامنا تھا ،اُنہیں پولیس اسٹیشنوں سے سمن جاری ہوا کرتی تھی ۔

غور طلب بات یہ ہے کہ مرکز کی جانب سے نامزد مذاکراتکار دنیشور شرما کی سفارشات پر وادی میں نوجوانوں کے دل جیتنے کے لئے سنگ بازوں کیلئے ایمنسٹی دینے کے حتمی فیصلے کا وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے اعلان کردیا ہے۔تاہم یہ ’عام معافی‘ یا ’ایمنسٹی‘ صرف ایسے سنگ بازوں کے لئے ہے جن کے خلاف پولیس تھانوں میں ایک سے زیادہ مرتبہ ایف آئی آردرج نہیں ہوئی ہے۔ اس عام معافی کے تحت سنگ بازی کی وجہ سے پہلی بار جیل جانے والے نوجوانوں کے خلاف درج ایف آئی آر واپس لئے جائیں گے۔ اس پالیسی سے چار ہزار سے زائدنوجوانوں کو راحت ملے گی۔

قابل ذکر ہے کہ گزشتہ برس کی پر تشدد احتجاجی مہم کے دوران پتھراﺅ کرنے والوں کے خلاف مجموعی طور پرقریب11500کیس درج کئے گئے۔ان میں4500ایسے نوجوان بھی شامل ہیں جو پہلی بار پتھراﺅ کے واقعات میں شامل ہوئے تھے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے