سرینگر// جنگجو مخالف کارروائیوں کے دوران فورسز کے ہاتھوں شہری ہلاکتوں اورراجستھان میں ایک کشمیری نوجوان کی پر اسرار ہلاکت کے خلاف بدھ کووادی بھر میں مکمل احتجاجی ہڑتال کے بیچ ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظر شہر خاص اور سول لائنز کے متعدد علاقوں میں کرفیو جیسی سخت پابندیاں عائدکردی گئیں جبکہ کشیدہ صورتحال کے پیش نظراندرون وادی ریل خدمات بھی معطل رہیں۔ مشترکہ مزاحتمی قیادت نے وادی میں فورسز کارروائیوں کے دوران عام شہریوں کی ہلاکتوں، مار دھاڑ، زیادتیوں، گرفتاریوں، پابندیوں اور راجستھان میں جنوبی کشمیر سے تعلق رکھنے والے ایک نوجوان کی ہلاکت کے خلاف احتجاج کے بطور بدھ کےلئے مکمل ہڑتال کی کال دی تھی۔یہ کال کپوارہ اور شوپیان میں جنگجو مخالف آپریشنز کے دوران فورسز کے ہاتھوں دو خواتین اور ایک جواں سال ٹیکسی ڈرائیور کی ہلاکت کے تناظر میں دی گئی تھی اور اس موقعے پر لوگوں سے احتجاج کرنے کی اپیل بھی کی گئی تھی ۔تاہم اس اعلان کے پیش نظر پولیس اور سیکورٹی فورسز نے منگل کی شب سے ہی حساس علاقوں کو اپنی تحویل میں لینے کا عمل شروع کیااورممکنہ احتجاجی مظاہروں کو ناکام بنانے کےلئے لوگوں کے چلنے پھرنے پر پابندیاں عائد کیں۔ضلع انتظامیہ نے شہر کے7پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں بندشیں عائد کی تھیں۔ان میں شامل پولیس اسٹیشن نوہٹہ،،مہاراج گنج،رعناواری،خانیار اور صفاکدل کے علاقوں میں کرفیو جیسی جبکہ کرالہ کھڈ اور مائسمہ پولیس تھانوں کے تحت آنے والے علاقوں میں جزوی پابندیاں عائد رہیں۔ اس سلسلے میں گزشتہ شب ہی پولیس گاڑیوں کے ذریعے گشت کا انتظام کیا گیا تھا اور پولیس و سی آر پی ایف کے سینکڑوں اہلکاروں کی تعیناتی عمل میں لاکر کرفیوجیسی بندشیں عائد رہیں ۔مذکورہ پولیس اسٹیشنوں کے تحت آنے والے بیشتر علاقوں میں پولیس اور نیم فوجی اہلکاروں کو اہم سڑکوں،چوراہوںاور شاہراہوں پر تعینات کیاگیا تھا اور جگہ جگہ ناکے بٹھائے گئے تھے۔سرکاری طور پر ان علاقوں میں دفعہ144کے تحت امتناعی احکامات نافذ رہے تاہم مقامی لوگوں نے بتایا کہ کچھ علاقوں میں کرفیو کے نفاذ کا باضابطہ اعلان کیا گیا او ر گاڑیوں کے ساتھ ساتھ پیدل چلنے والوں کی نقل و حرکت مکمل طور مسدود کھی گئی۔ اس صورتحال کے باعث سے کادی کدل، گوجوارہ،عالی کدل، صفاکدل ،سکہ ڈافر، نواب بازار، حبہ کدل، زالڈگر، بسنت باغ، گاﺅ کدل، نوہٹہ ، جمالٹہ، خانیار، رعناواری، راجوری کدل ،بہوری کدل ، مہاراج گنج ،سونہ واراور دیگر علاقوں میں دن بھر ہو کا عالم رہا۔ امن و قانون کو برقرار رکھنے کےلئے پولیس اور فورسز کے اضافی دستے ہر طرف نظر آرہے تھے اور مجموعی طور پر پائین شہر کے لوگوں کو گھروں کے اندر محصور رکھا گیا ۔پابندیوں کے بیچ ہی حریت کانفرنس(ع) کے چیرمین میرواعظ عمر فاروق کو ان کی نگین رہائش گاہ پر نظر بند کردیا گیا۔ اس دوران مزاحتمی قیادت کی ہڑتالی کال پر وادی کے تمام اضلاع میں دکانیں، کاروباری ادارے ، اسکول اور دفاتر وغیرہ مکمل طور بند رہے اور گاڑیوں کی نقل و حرکت ٹھپ ہوکر رہ گئی۔شہر سرینگر اور اس کے مضافاتی علاقوں میں مکمل ہڑتال کی وجہ سے سڑکوں سے پبلک ٹرانسپورٹ مکمل طور غائب رہا، البتہ مختلف اضلاع کے درمیان چلنے والی ٹرانسپورٹ سروس جزوی طور جاری رہی اور سڑکوں پر پرائیویٹ گاڑیاں بھی نظر آئیں۔کے ایم ا ین کے مطابق بارہمولہ،کپوارہ،بانڈی پورہ ، گاندربل ، بڈگام،پلوامہ ، شوپیان اور کولگام اضلاع سے مکمل ہڑتال کی اطلاعات موصول ہوئی ہیںجس کے نتیجے میں تما م چھوٹے بڑے قصبہ جات کے علاوہ دیہی علاقوں میں بھی عام زندگی مفلوج ہوکر رہ گئی۔سوپور، بارہمولہ،پلہالن اور شمالی کشمیر کے کئی دیگر حساس علاقوں میں فورسز کی بھاری تعیناتی عمل میں لائی گئی تھی ۔مجموعی طوروادی بھر میں دکانیں اور کاروباری ادارے مکمل طور پر بند رہے اور گاڑیوں کی نقل و حرکت ٹھپ رہنے کی وجہ سے سڑکوں اور بازاروں میں دن بھر ہو کا عالم رہا۔ہڑتال کی وجہ سے بیشتر سرکاری و غیر سرکاری دفاتر بھی بند رہے اور ملازمین کی حاضری نہ ہونے کے برابر رہی۔ادھرپر تناﺅ حالات کے پیش نظر پیر کو بانہال اوربارہمولہ کے درمیان ریل سروس ٹھپ رہی۔ ریلوے حکام کے مطابق یہ اقدام حفاظتی وجوہات کی بناءپر احتیاط کے بطور اٹھایا گیا تاکہ مسافروں اور ریلوے املاک کی حفاظت کو یقینی بنایا جاسکے۔(کے ایم این)

