شوپیان معرکہ آرائی:2جنگجو اور خاتون ازجان ،بیسیوں زخمی

Procession

شوپیان:سوموارکی شام خونین معرکہ آرائی میں2جنگجوﺅں کے جاں بحق ہوجانے کے بعدمنگل وارکواُسوقت ”بٹہ مڈن شوپیان میں قیامت صغریٰ “بپاہوئی جب مشتعل مظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے پولیس وفورسزنے اندھادھندٹیرگیس شلنگ ،پیلٹ فائرنگ اورگولیاں چلائیں ،جسکے نتیجے میں کئی خواتین اورکمسن بچوں سمیت لگ بھگ50شہری زخمی ہوگئے ۔24سالہ خاتون روبی عرف بیوٹی جان زخموں کی تاب نہ لاکرلقمہ اجل بن گئی جبکہ گولیوں کانشانہ بنے کم سے کم5زخمیوں کوسری نگرمنتقل کیاگیا،اورباقی درجنوں زخمی پلوامہ کے ضلعی اسپتال میں زیرعلاج ہیں ۔پولیس حکام نے جھڑپ اورپُرتشددمظاہروںکے دوران ایک مقامی جنگجوکمانڈر اورایک غیرملکی جنگجوکے علاوہ ایک خاتون کے ازجان ہوجانے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ سوموارکی شام گولیاں لگنے سے ایک فوجی اورایک پولیس اہلکارزخمی ہوگیا۔پہاڑی ضلع شوپیان کے صدرمقام یعنی ضلعی ہیڈکوارٹر سے لگ بھگ12کلو میٹر دور پلوامہ ،کیلر روڑ پر واقع بٹہ مڈن وانپورہ شوپیان کا44آرآر، پولیس کے سپیشل آپریشن گروپ اور سی آر پی ایف کی 14ویںبٹالین کے اہلکاروں نے سوموارکی شام محاصرہ کرکے پورے علاقہ کی سخت ترین ناکہ بندی کی۔پولیس ذرائع نے بتایا کہ مذکورہ گاﺅں میں ایک مقامی سمیت2 یا3جنگجوﺅں کی موجودگی کی اطلاع ملی تھی۔بتایاجاتاہے کہ جونہی گاﺅں کا محاصرہ کیا گیا تو فوری طور پر لوگ گھروں سے باہر آئے اور انہوں نے فورسز پر شدید پتھراﺅ شروع کیا۔مشتعل نوجوانوں نے گاﺅں کی مساجد کے لاوڈ اسپیکروں کے ذریعے لوگوں کو احتجاج کرنے کے لئے کہا، جس کے بعد بٹہ مڈن وانپورہ گاﺅں میںمقامات پر جم کر جھڑپیں شروع ہوئیں۔ مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے فورسز نے بے تحاشا ٹیرگیس شلنگ کی اور تلاشی کارروائی بھی جاری رکھی۔سوموارکوشام کے قریب 7بجے جنگجوﺅں اور فورسز کا آمنا سامنا ہوا ۔اس دوران ڈائریکٹر جنرل پولیس ڈاکٹر ایس پی وید نے ٹویٹ کے ذریعے اس بات کی تصدیق کی کہ مذکورہ گاﺅں میں 2یا 3جنگجو موجود ہیں جنکے خلاف آپریشن شروع کیا گیا۔بتایا جاتا ہے کہ جنگجومحمد ایوب بٹ نامی شہری کے دو منزلہ مکان میں موجود تھے تاہم وہ محاصرہ توڑ کر فرار ہونے کی کوشش کررہے تھے۔اس دوران فورسز کو اُلجھائے رکھنے کیلئے نوجوانوںنے شدیدمظاہرے کئے جبکہ جنگجوﺅں اورفوج کے مابین فائرنگ کا شدید تبادلہ بھی جاری رہا۔رات کے قریب10 بجے فورسز نے رہائشی مکان کو باردو ی موادنصب کرکے اُڑا دیا جس کیساتھ ہی فائرنگ کا سلسلہ رُک گیا۔پولیس نے کہا ہے کہ تباہ شدہ مکان کے ملبے سے 2 لاشیں بر آمد کیں جبکہ تیسری لاش ڈھونڈی جارہی ہے تاہم انسپکٹر جنرل پولیس نے کہا کہ ممکنہ طور پر 2 جنگجو مارے گئے۔تصادم آرائی میں فوج کا ایک اہلکار بھی زخمی ہوا ہے۔پولیس ذرائع نے منگل کے روزبتایاکہ سوموارکورات دیرگئے ہوئے جھڑپ کے دوران ایک مقامی جنگجونوجوان تنویراحمدبٹ اورپاکستان کارہنے والاایک جنگجوبھی ماراگیا۔ڈی آئی جی جنوبی کشمیرایس پی پانی نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ سوموارکی شام بٹہ مڈن شوپیان میں جھڑپ کے دوران جودوجنگجومارے گئے ،اُن میں اسی گاﺅں کارہنے والاتنویراحمدبٹ اورعلی عرف قاری ساکنہ پاکستان بھی شامل ہے۔انہوں نے کہاکہ ہمیں اس گاﺅں میں 2سے3جنگجوﺅں کے موجودہونے کی اطلاع ملی تھی اورابتک تک دوجنگجومارے گئے ۔ڈی آئی جی نے بتایاکہ منگل کی صبح اس بناءپرآپریشن کودوبارہ شروع کیاگیاکیونکہ یہ شبہ تھاکہ ابھی ایک جنگجویہاں چھپابیٹھاہوسکتاہے ۔کے این ایس کے مطابق رات بھرپورے علاقے کومحاصرے میں رکھنے کے بعدمنگل کی صبح جب فوجی ،فورسز،ٹاسک فورس اورپولیس اہلکاروں نے علاقہ میں ممکنہ طورپرموجودتیسرے جنگجویاملبے کے نیچے اُسکی نعش موجودہونے کیلئے تلاشی کارروائی دوبارہ شروع کی تو بٹہ مڈن وانپورہ میں تشددبھڑک اُٹھا۔مشتعل مظاہرین جن میں نوجوانوں کے علاوہ دیگرمردوزن بھی شامل تھے ،نے فورسزاورپولیس اہلکاروں کی جانب سے دوبارہ شروع کئے

گئے جنگجومخالف آپریشن میں خلل ڈالنے کیلئے سنگباری شروع کردی۔مقامی لوگوں نے بتایاکہ مظاہرین کومنتشرکرنے کیلئے پولیس وفورسزاہلکاروں نے بے تحاشہ اندازمیں ٹیرگیس شلنگ اورپیلٹ فائرنگ کے علاوہ راست فائرنگ بھی کی ،جسکے نتیجے میں ایک خاتون کے جسم میں گولی پیوست ہوگئی ،اوروہ دم توڑبیٹھی ۔

لوگوں کے بقول24سالہ روبی جان عرف بیوٹی جان زوجہ منظوراحمدمیرساکنہ بٹہ مڈن شوپیان کوضلع اسپتال پلوامہ منتقل کیاگیا۔اسپتال کے میڈیکل سپرانٹنڈنٹ نے اسکی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ ایک جواں سال خاتون کویہاں لایاگیاجسکے پیٹ کے بائیں جانب جسم میں گولی پیوست ہوئی تھی ۔میڈیکل سپرانٹنڈنٹ کے مطابق اسپتال میں ابتدائی معائنہ کے بعدخاتون کومردہ پایاگیایعنی وہ راستے میں ہی دم توڑچکی تھی ۔اُدھربٹہ مڈن شوپیان اوراسکے نواحی دیہات میں مشتعل مظاہرین اورپولیس وفورسزکے درمیان تصادم آرائی کاسلسلہ جاری رہنے کے بیچ مزیدایک درجن افرادپیلٹ فائراورگولیاں لگنے سے زخمی ہوئے ،جن کوضلع اسپتال پلوامہ منتقل کیاگیا۔اسپتال ذرائع نے یہاں کچھ ایسے زخمیوں کوعلاج ومعالجہ کیلئے لایاگیاجن کوپیلٹ فائر اورگولیاں لگی تھیں ۔ اس دوران معلوم ہواکہ جن نوجوانوں کوپُرتشددمظاہروں کے دوران گولیاں لگیں ،اُ ن میں سے ایک کی ٹانگ ،ایک کی رthighاورایک کی چھاتی میں گولی پیوست ہوئی ہے۔معلوم ہواکہ ان تینوں زخمی نوجوانوں کوسری نگرمنتقل کیاگیا۔ادھرصدراسپتال سری نگرکے ذرائع نے بتایاکہ یہاں ایک کمسن لڑکے سمیت ایک درجن زخمیوں کولایاگیا،جوگولیاں اورپیلٹ فائرلگنے سے زخمی ہوئے ہیں ۔دریں اثناءپُرتشددمظاہروں کے دوران ہی جب فوجی ،فورسزاورٹاسک فورس اہلکاروں نے تباہ شدہ مکان کے ملبے کی تلاشی لی اوراُنھیں یہاں سے مزیدکوئی نعش نہیں ملی تولگ بھگ15گھنٹے بعدجنگجومخالف آپریشن ختم کیاگیا۔ (کے این ایس )

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے