پرامن سرگرمیوںپر قدغن کیوں ؟:مشترکہ مزاحمتی قیادت

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
سرینگر// مشترکہ مزاحمتی قیادت سید علی شاہ گیلانی ، میرواعظ ڈاکٹرمولوی محمد عمر فاروق اور محمد یاسین ملک نے 15دسمبر کواسلام آباد چلو کال دی تھی تاکہ لالچوک اسلام آباد میں پر امن طور پر عوامی جلسے کے دوران تحریک آزادی کو آگے بڑھانے کیلئے لائحہ عمل کے اعلان کے ساتھ ساتھ جنوبی کشمیر کے عوام کے ساتھ بھر پور یکجہتی کا اظہار کیا جاسکے لیکن حکمرانوں نے ایک بار پھر طاقت کا استعمال کرکے پورے کشمیر خاص طور پر جنوبی کشمیر اور سرینگر کے شہر خاص میں شدید کرفیو ، بندشوں اور قدغنیں عائد کرنے ، مرکزی جامع مسجد سرینگر کو ایک بار پھر سیل کر کے مسلمانوںکو نماز جمعہ جیسے فریضہ کی ادائیگی سے روکنے کے ساتھ ساتھ انٹرنیٹ خدمات کو Ban کرکے اسلام آباد چلو پروگرام کو ناکام بنانے کی کوشش کی۔موصولہ بیان کے مطابق سرکردہ مزاحمتی قائد سید علی شاہ گیلانی لگاتار اپنی رہائش گاہ میں اور میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق گزشتہ 9 دن سے اپنے گھر میرواعظ منزل نگین میں خانہ نظر بند رکھے گئے ہیں اور جموںوکشمیر لبریشن فرنٹ کے سربراہ محمد یاسین ملک گزشتہ چار دن سے سینٹرل جیل سرینگر میں مقید رکھے گئے ہیں ۔ اس دوران حریت رہنماﺅں ، کارکنوں اور نوجوانوں کے گھروں پر چھاپوں اور گرفتاریوںکا سلسلہ برابر جاری ہے ، پورے کشمیر میں خوف و ہراس کا ماحول برپا کیا گیا ہے ۔ مشترکہ مزاحمتی قیادت کے پر امن پروگرام کو ناکام بنانے کی حکومتی ہتھکنڈوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے قائدین نے کہا کہ حکومت کے نام نہاد جمہوریت اور اظہار رائے کی آزادی کے تمام دعوﺅں کی قلعی کھل گئی ہے اور حکمرانوں نے خود اپنے عمل سے اپنی شکست تسلیم کرلی ہے۔پروگرام کے مطابق میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے اپنی نظربندی توڑ کرجب اسلام آباد جانے کی کوشش کی تو رہائش گاہ کے باہر بھاری پولیس جمعیت نے میرواعظ کو گرفتار کرکے مقامی تھانے میں بند کردیا۔اس سے قبل میرواعظ نے وہاں موجودمیڈیاکے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے مشترکہ مزاحمتی قیادت کے پروگرام کو قوت کے بل پر ناکام بنانے کی کوششوں کی شدید الفاظ میں مذمت کی اور کہا کہ لالچوک اسلام آباد میں ہمارا پرامن پروگرام تھا اور ہمیں جنوبی کشمیر کے عوام کے ساتھ گزشتہ دو سالوں سے بالخصوص ان کے ساتھ روا رکھے گئے انسانیت سوز سلوک ، مار دھاڑ ، قتل وغارت اور بنیادی انسانی حقوق کی بے دریغ پامالیوں کے تناظر میں ان کے تئیں ہمدردی اور یکجہتی کا اظہار کرنا تھا لیکن حکومت نے مشترکہ مزاحمتی قیادت کے پرامن پروگرام سے خائف ہوکر گزشتہ کل سے ہی شہر سرینگر سمیت ضلع اسلام آباد میں شدید کرفیو اور قدغنیں عائد کرکے لوگوں کے نقل و حمل کو مسدود کردیا۔ میرواعظ نے کہا کہ آخر حکمران ٹولہ کس چیز سے خائف ہے ؟ اگر ان کا یہ دعویٰ ہے کہ وہ جمہوریت کے علمبردار اور آزادی ¿ اظہار رائے کے حق میں ہیں تو پھر مزاحمتی قیادت کی پرامن سرگرمیوںپر قدغن کیوں ؟ اور ہماری سیاسی مکانیت کو کیوں محدود کیا جارہا ہے؟بیان کے مطابق میرواعظ نے بزرگ رہنما سید علی گیلانی کی طویل ترین خانہ نظر بندی ، محمد یاسین ملک کو بار بار سینٹرل جیل پہنچانے ،حریت قیادت اور نوجوانوںکی چن چن کر گرفتاری، مکانات کی توڑ پھوڑ، کریک ڈاﺅن اور CASO کو ہتھیار بناکر آئے روز معصوم اور بے گناہ شہریوں حتیٰ کہ معصوم بچوں اور گزشتہ دنوں ہی مصرہ بانو کی ٹارگٹ کلنگ اور مزاحمتی قیادت کو اپنے شہیدوں کے گھر جاکر تعزیت اور ہمدردی کے اظہار سے بھی روکنے اور پورے کشمیر کو عملاًایک پولیس سٹیٹ میںتبدیل کرنے کی پالیسیوں کیخلاف سخت احتجاج کرتے ہوئے کہا کہ یہ تمام کارروائیاں بدترین سیاسی انتقام گیری پر مبنی پالیسیاں ہےں اور حکومت نے کشمیری عوام کے تمام بنیادی انسانی ،مذہبی اور سیاسی حقوق کو سلب کرلیا ہے ،جو بدترین المیہ ہے۔ میرواعظ نے کہا کہ حکومت نے اپنے کرتوتوں سے خود اپنی شکست کا اعلان کردیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ طاقت اور تشدد کے بل پر قیادت اور عوام کو جس قدر پشت بہ دیوار کرنے کی کوشش کی جائیگی اسی قدر رواں تحریک آزادی میں شدت اور حدت پیدا ہوگی۔میرواعظ نے رواں سال کے دوران آج 18ویں بار کشمیریوں کی سب سے بڑی عبادتگاہ مرکزی جامع مسجد سرینگر کو سیل کرکے مسلمانوںکو نماز جمعہ کی ادائیگی سے روکنے کی کارروائیوں کیخلاف سخت ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی جامع مسجد سرینگر میں بار بار مسلمانوںکو نماز جمعہ سے روکنا اس کی مرکزیت اور وحدت کو کمزور کرنے کی ایک مکروہ سازش ہے جسے کسی بھی قیمت پر کامیاب ہونے نہیں دیا جائیگا۔بیان کے مطابق گزشتہ دنوں شبانہ چھاپوں اور آج جن مزاحمتی رہنماﺅں اور کارکنوںکو گرفتار کرکے سرینگر اور اسلام آباد کے مختلف تھانوں میں بندرکھاگیا ہے، ان میں محمد اشرف صحرائی ، آغا سید حسن الموسی الصفوی، مختار احمد وازہ،، محمد اشرف لایا، انجینئر ہلال احمد وار، بلال احمد صدیقی، محمد یوسف نقاش، مولوی بشیر عرفانی،محمد یاسین عطائی، سید امتیاز حیدر، مشاق احمد اجمل، ظہور احمد بٹ، عمر عادل ڈار، مولانا مدثر ندوی، محمد شفیع ڈار،بشیر کشمیری، عبدالاحد، عارف خان، حفیظ الرحمن، غلام محمد ڈار، بشیر احمد ڈار ، رمیز راجہ، بشیر احمد راتھر، عبدالستار، مشتاق احمد میر، فیاض احمد میر، رفیق احمد، عمر احمد بالا، معراج الدین پرے، مدثر احمد، فیاض احمد، امتیاز احمد، وغیرہ شامل ہیں جبکہ فاروق احمد سوداگر، شبیر احمد، ظہور احمد بٹ وغیرہ شامل ہےں جبکہ شوکت احمد بخشی،ایڈوکیٹ یاسر رﺅف دلال اورنور محمد کلوال کو بھی خانہ نظر بند رکھا گیا ہے۔
Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے