اہل خانہ فکر وتشویش میں ، بہادر اہلکار کی زندگی بچانے کیلئے ریاستی سرکار سے اقدمات اٹھانے کی اپیل
اعجاز ڈار
سرینگر/ 13 دسمبر گزشتہ دنوں’’ کوکر بازار‘‘ سرینگر میں آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران تین منزلہ عمارت سے گر کر زخمی ہونے والا محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی اہلکار سرینگر کے صدر اسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے ۔ اسی دوران اہل خانہ نے ریاستی سرکار سے اپیل کی ہے کہ انکے گھر کے واحد کماؤ کی زندگی بچانے کیلئے یا تو نئی دہلی سے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم طلب کی جائے یا ان کے و الد کو بہترعلاج و معالجہ کیلئے بیرون ریاست منتقل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جائے ۔کے پی ایس کے مطابق گزشتہ دنوں سرینگر کے مصروف ترین بازار اور انتہائی گنجان والی آبادی والے علاقہ ’’ کوکر بازار ‘‘ میں اس وقت خوف و دہشت پھیل گئی تھی جب آگ کی ہولناک واردات رونما ہوئی ۔ اسی دوران محکمہ فائراینڈ ایمرجنسی کے اہلکاروں نے مقامی لوگوں کیساتھ ملا کر آگ بجھانے کی کارروائی میں حصہ لیا جس دوران محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کاایک اہلکار عبد المجید وانی آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران تین منزلہ عمارت سے نیچے گر کر شدید زخمی ہو گیا ۔ اسی دوران مذکورہ اہلکار کو شدید نازک حالت علاج و معالجہ کیلئے سرینگر کے صدر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے ۔اگرچہ ریاست جموں کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے فائر سروس اہلکار کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس کی فوری صحت یابی کیلئے دعا کی ہے تاہم اپنی جان پر کھیل کر سینکڑوں افراد کے جان و مال کی حفاظت کرنے والا فائر سروس اہلکار اب صدر اسپتال میں اب اپنی جان بچانے کیلئے مدد کا منتظر ہے ۔ کے پی ایس سے بات کرتے ہوئے عبد المجید وانی کے بیٹے جان محمد نے بتایا کہ ان کے باپ (عبد المجید وانی )نے کوکر بازار سرینگر میں اپنی جان پر کھیل کر کروڑوں روپے مالیت کی سامان اور درجنوں رہائشی مکانات کو راکھ کی ڈھیرمیں تبدیل ہونے سے بچانے کے دوران قریب 20فٹ کی اونچائی سے گر کر شدید زخمی ہو گیا اور اب سرینگر کے صدر ا سپتا ل میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے ۔ جان محمد نے بتایا کہ گزشتہ دنوں ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر نے اسپتال میں ہمارے والد کی خبر پرسی کی جس دوران ہم نے ان سے استدعا کی تھی کہ ہمارے والد کے علاج و معالجہ کیلئے باہر سے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم طلب کی جائے یا ضرورت پڑنے پر اس کو باہر کی کسی ریاست میں علاج و معالجہ کیلئے منتقل کیا جائے ۔ جان محمد کا مزید کہنا تھا کہ ان کے والد نے خدمت خلق کرکے لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کی ہے اور اس وقت کیوں ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ میرے باپ کی جان بچانے کیلئے انہیں باہر کی ریاست میں قائم اسپتال میں داخل کر ایا جائے ۔ہمارے والد گھر کے واحد کماؤ ہے اور ہم ریاستی سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ اس کے علاج و معالجہ کیلئے یا تو باہر سے ماہر داکٹروں کی خصوصی ٹیم طلب کی جائے یا تو اسے بہتر علاج کیلئے باہر کے کسی اسپتال میں داخل کیا جائے ۔جان محمد کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہوں نے از خود والد (عبد المجید وانی ) کو علاج و معالجہ کیلئے باہر منتقل کرنے کی کوشش کی تھی تاہم اخراجات زیادہ ہونے کے نتیجے میں ایسا ممکن نہ ہو سکا ۔ ادھر محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کے جوائنٹ ڈائر یکٹر محمد اکبر نے تعمیل ارشاد کو بتایا کہ کوکر بازار میں آگ کی واردات میں زخمی ہونے والے اہلکار عبد المجید کو علاج و معالجہ کیلئے اسپتال داخل کیا گیا اور محکمہ کے ویلفیر فنڈ سے انہیں علاج کیلئے 50ہزار روپے کی رقم فراہم کی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ جتنا بھی محکمہ سے ہو سکے گا اس کی بھر پور مدد کی جائے گی اور محکمہ اس کی شفایابی کیلئے دعا گو ہیں اور امید کرتے ہیں ہمارا بہادر اہلکار جلد ہی صحت یاب ہو کر پھر سے اپنی ڈیوٹی جوائن کرینگے ۔
اعجاز ڈار
سرینگر/ 13 دسمبر گزشتہ دنوں’’ کوکر بازار‘‘ سرینگر میں آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران تین منزلہ عمارت سے گر کر زخمی ہونے والا محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی اہلکار سرینگر کے صدر اسپتال میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے ۔ اسی دوران اہل خانہ نے ریاستی سرکار سے اپیل کی ہے کہ انکے گھر کے واحد کماؤ کی زندگی بچانے کیلئے یا تو نئی دہلی سے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم طلب کی جائے یا ان کے و الد کو بہترعلاج و معالجہ کیلئے بیرون ریاست منتقل کرنے کیلئے اقدامات اٹھائیں جائے ۔کے پی ایس کے مطابق گزشتہ دنوں سرینگر کے مصروف ترین بازار اور انتہائی گنجان والی آبادی والے علاقہ ’’ کوکر بازار ‘‘ میں اس وقت خوف و دہشت پھیل گئی تھی جب آگ کی ہولناک واردات رونما ہوئی ۔ اسی دوران محکمہ فائراینڈ ایمرجنسی کے اہلکاروں نے مقامی لوگوں کیساتھ ملا کر آگ بجھانے کی کارروائی میں حصہ لیا جس دوران محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کاایک اہلکار عبد المجید وانی آگ بجھانے کی کارروائی کے دوران تین منزلہ عمارت سے نیچے گر کر شدید زخمی ہو گیا ۔ اسی دوران مذکورہ اہلکار کو شدید نازک حالت علاج و معالجہ کیلئے سرینگر کے صدر اسپتال منتقل کیا گیا جہاں اس کی حالت انتہائی تشویشناک بنی ہوئی ہے ۔اگرچہ ریاست جموں کشمیر کی وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے فائر سروس اہلکار کی بہادری کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے اس کی فوری صحت یابی کیلئے دعا کی ہے تاہم اپنی جان پر کھیل کر سینکڑوں افراد کے جان و مال کی حفاظت کرنے والا فائر سروس اہلکار اب صدر اسپتال میں اب اپنی جان بچانے کیلئے مدد کا منتظر ہے ۔ کے پی ایس سے بات کرتے ہوئے عبد المجید وانی کے بیٹے جان محمد نے بتایا کہ ان کے باپ (عبد المجید وانی )نے کوکر بازار سرینگر میں اپنی جان پر کھیل کر کروڑوں روپے مالیت کی سامان اور درجنوں رہائشی مکانات کو راکھ کی ڈھیرمیں تبدیل ہونے سے بچانے کے دوران قریب 20فٹ کی اونچائی سے گر کر شدید زخمی ہو گیا اور اب سرینگر کے صدر ا سپتا ل میں انتہائی نگہداشت وارڈ میں موت و حیات کی کشمکش میں مبتلا ہے ۔ جان محمد نے بتایا کہ گزشتہ دنوں ضلع ترقیاتی کمشنر سرینگر نے اسپتال میں ہمارے والد کی خبر پرسی کی جس دوران ہم نے ان سے استدعا کی تھی کہ ہمارے والد کے علاج و معالجہ کیلئے باہر سے ماہر ڈاکٹروں کی ٹیم طلب کی جائے یا ضرورت پڑنے پر اس کو باہر کی کسی ریاست میں علاج و معالجہ کیلئے منتقل کیا جائے ۔ جان محمد کا مزید کہنا تھا کہ ان کے والد نے خدمت خلق کرکے لوگوں کے جان و مال کی حفاظت کی ہے اور اس وقت کیوں ایسا نہیں ہو سکتا ہے کہ میرے باپ کی جان بچانے کیلئے انہیں باہر کی ریاست میں قائم اسپتال میں داخل کر ایا جائے ۔ہمارے والد گھر کے واحد کماؤ ہے اور ہم ریاستی سرکار سے اپیل کرتے ہیں کہ اس کے علاج و معالجہ کیلئے یا تو باہر سے ماہر داکٹروں کی خصوصی ٹیم طلب کی جائے یا تو اسے بہتر علاج کیلئے باہر کے کسی اسپتال میں داخل کیا جائے ۔جان محمد کا کہنا تھا کہ اگرچہ انہوں نے از خود والد (عبد المجید وانی ) کو علاج و معالجہ کیلئے باہر منتقل کرنے کی کوشش کی تھی تاہم اخراجات زیادہ ہونے کے نتیجے میں ایسا ممکن نہ ہو سکا ۔ ادھر محکمہ فائر اینڈ ایمرجنسی کے جوائنٹ ڈائر یکٹر محمد اکبر نے تعمیل ارشاد کو بتایا کہ کوکر بازار میں آگ کی واردات میں زخمی ہونے والے اہلکار عبد المجید کو علاج و معالجہ کیلئے اسپتال داخل کیا گیا اور محکمہ کے ویلفیر فنڈ سے انہیں علاج کیلئے 50ہزار روپے کی رقم فراہم کی گئی ۔ انہوں نے بتایا کہ جتنا بھی محکمہ سے ہو سکے گا اس کی بھر پور مدد کی جائے گی اور محکمہ اس کی شفایابی کیلئے دعا گو ہیں اور امید کرتے ہیں ہمارا بہادر اہلکار جلد ہی صحت یاب ہو کر پھر سے اپنی ڈیوٹی جوائن کرینگے ۔

