جموں،سرینگر / وزیراعلیٰ محبوبہ مفتی نے کیلر شوپیاں میں آج ایک کیش وین کے ساتھ جارہے دو سیکورٹی گارڈس کی ہلاکت کی سخت مذمت کی ہے ۔ایک بیان میں وزیر اعلیٰ نے اس واقعہ کو بدقسمتی سے تعبیر کیا جس میں عوام کے پیسے کی حفاظت پر مامور اہلکاروں کو ہلاکت کیا گیا ہے۔
محبوبہ مفتی نے ہندوارہ میں ایک تلاشی کارروائی کے دوران ایک خاتون کی ہلاکت پر بھی دُکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے۔انہوںنے کہا کہ وہ ہمیشہ تشدد کے منفی اثرات کے بارے میں خبردار کرتی آرہی ہے۔انہوں نے سول سوسائٹی سے ایک بار پھر اپیل کی کہ وہ آگے آکر نوجوانوں کا مستقبل محفوظ اور پُر امن بنائیں۔
ادھر وزیر اعلیٰ محبوبہ مفتی نے کل شام ادھمپور ضلع کے چننئی علاقے میں پیش آئے سڑک حادثے میں 6افراد کے جاں بحق ہونے پر دُکھ اور صدمے کا اظہار کیا ہے ۔
وزیر اعلیٰ نے سوگوار کنبوں کے ساتھ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے مہلوکین کی ابدی سکون کے لئے دعا کی۔
محبوبہ مفتی نے اس حادثے میں زخمی ہوئے افراد کے ساتھ بھی ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے ادھمپور ضلع انتظامیہ کو ہدایت دی کہ وہ زخمیوں کو ہر ممکن طبی سہولیات دستیاب کریں۔وزیر اعلیٰ نے ٹریفک حکام کو قومی شاہراہ کے ساتھ ساتھ دیگر مقامات پر بھی ٹریفک قوانین کی سختی سے عمل آوری کو یقینی بنانے کی ہدایت دی تاکہ اس طرح کے حادثات کو روکا جاسکے۔
اس دوران جے کے بنک چیئرمین و سی ای او جناب پرویز احمد نے کیلر شادی مرگ راستے میں بنک کی نقدی وین کی حفاظت پر مامورسیکورٹی گارڈز کے جان بحق ہونے پر گہرے رنج وغم کااظہار کیا ہے
انہوں نے کہاکہ ”یہ ایک دردناک خبر ہے اور ہم جے کے بنک پرسیکورٹی گارڈز مشتاق احمد اور طارق احمد کی اموات پر انتہائی صدمے میں ہیں جنہیں نامعلوم مسلح افراد نے اپنی گولیوں کا شکار بنایا ۔میں دل کی گہرائیوں سے اس غم میں متاثرین کے ساتھ شریک ہوں اور تمام ہمدردیاں غمزدہ خاندانوں کے ساتھ ہیں ۔میں دیگر تین سیکورٹی گارڈز کی فوری صحتیابی کیلئے دعا گو ہوں جو اس سانحے میں زخمی ہوئے ہیں۔
میں یہاں کہتا چلوں کی یہ معصوم گارڑز اپنی ڈیوٹی انجام دے رہے تھے تاکہ لوگوں کی رقم کی حفاظت کرسکتیں اور اس طرح کے المناک حادثے عام لوگوں کیلئے مشکلات پیدا کرتے ہیں اور ان علاقوں میں لوگوں کی خدمات بہم پہنچانے میں ہمارے لئے رکاوٹیں پیدا کرتے ہیں ۔
دریں اثناءچیئرمین نے سوگوار کنبوں کو بنک کی طرف سے ہر ممکن تعاون بہم رکھنے کا یقین دلایا۔انہوں نے کہاکہ انسانی جان انمول ہے اور اس کے نقصان کو کسی بھی طرح پورا کیا جاسکتا ہے تاہم متاثرہ کنبے مکمل طور مالی اورجذباتی طور مدد کے مستحق ہیں اور کیونکہ انہوں نے اپنے کفیلوں کو کھویا ہے
یہ بات قابل ذکر ہے کہ دونوں گارڑ ایک پرائیوےٹ فرم ”پرفکٹ پلیسمنٹ ‘ کے ملازم تھے ۔
وزیراعلیٰ اور بینک چیئرمین نے بینک گارڈس کی ہلاکت کی مذمت کی
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

