سری نگر// ”ممکنہ احتجاجی مظاہروں کے پیش نظرشہرخاص میں بندشیں اورجامع مسجدکی ناکہ بندی“کے باوجودسری نگر،بڈگام ،بارہمولہ اورٹنل کے آرپارکئی مقامات میں امریکہ اوراسرائیل کیخلاف صدائے احتجاج بلندکیاگیاجبکہ اس دوران کچھ مقامات پرامریکہ واسرائیل کے پرچم ،امریکی صدرٹرمپ اوراسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکے پُتلے نذرآتش کئے گئے،اس دوران نمازجمعہ کے اجتماعات کے موقعہ پرعلمائے دین ،مبلغین اورائمہ مساجدنے بیت المقدس کواسرائیل کی راجدھانی تسلیم کئے جانے کیخلاف سخت غم وغصے کااظہارکرتے ہوئے عالمی سطح پراُمت مسلمہ کی یکجہتی پرزوردیا۔اس دوران سیدعلی گیلانی کی متواترخانہ نظربندی کے چلتے میرواعظ عمرفاروق سمیت کئی مزاحمتی لیڈروں کوخانہ وتھانہ نظربندرکھاگیا۔ادھرپولیس ترجمان نے شہرخاص کے کچھ علاقوں میں احتیاطی بندشیں ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ وادی میں جمعہ کے روزدن بھرصورتحال پوری طرح سے پُرامن رہی اورکسی بھی جگہ سے کسی ناخوشگوارواقعے کی اطلاع نہیں ملی۔ امریکی صدرڈونالڈٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کواسرائیل کادارالحکومت تسلیم کئے جانے کیخلاف مزاحمتی قیادت اورمتحدہ مجلس علماءکی جانب سے دی گئی احتجاجی مظاہروں کی کال کے پیش نظرشہرخاص میں جمعہ کوعلی الصبح سے ہی پابندیاں اورسخت بندشیں عائدرکھی گئیں ۔عام لوگوں کی نقل وحرکت پرروک لگانے کیلئے شہرخاص میں اہم وحساس مقامات پرتعینات پولیس اورفورسزکے دستوں نے سڑکوں ،گلی کوچوں اورچوراہوں پرخاردارتاریں ڈالنے کے ساتھ ساتھ دیگرقسم کی رکاﺅٹیں ڈال دی تھیں ۔درگاہ حضرتبل اورصورہ میڈیکل انسٹی چیوٹ جانے والے زائرین اوربیماروں نے بتایاکہ اُنھیں درگاہ اورصورہ پہنچنے میں سخت مشکلات کاسامناکرناپڑا۔نوہٹہ سمیت شہرخاص کے کچھ علاقوں میں کرفیوکاسماں تھاجبکہ دیگرملحقہ بستیوں میں بھی معمول کی زندگی بندشوں اوررکاﺅٹوں کے باعث مفلوج رہی ۔میرواعظ عمرفاروق کوخانہ نظربندرکھے جانے کے بیچ تاریخی جامع مسجدکوچاروں اطراف سے سیل رکھ کریہاں عیدمیلادالنبیﷺ کی اختتامی تقریب کے موقعہ پرہونے والی سیرت مجلس اورباجماعت نمازجمعہ پرپابندی عائدرکھی گئی ۔اس دوران معلوم ہواکہ سیدعلی گیلانی کی متواترخانہ نظربندی کے چلتے میرواعظ عمرفاروق اورتحریک حریت کے جنرل سیکرٹری محمداشرف صحرائی کوبھی گھرمیں نظربندرکھاگیاجبکہ حریت (گ) کے سرگرم اراکین سیدامتیازحیدر،محمدیاسین عطائی اورمحمدیوسف بٹ کوجمعرات کی شام حراست میں لیکربڈگام پولیس تھانے میں بندرکھاگیا۔ نمازجمعہ کے بعدکشمیروادی ،خطہ چناب اورخطہ پیرپنچال کے تحت آنے والے بیشترقصبہ جات میں امریکہ اوراسرائیل کیخلاف احتجاجی جلوس برآمدہوئے ،جن میں شامل لوگوں نے امریکہ صدرڈونلڈٹرمپ کی جانب سے بیت المقدس کواسرائیل کادارالحکومت تسلیم کرکے تلہ بیب سے اپناسفارتخانہ یہا ں منتقل کرکے کیخلاف سخت ناراضگی کااظہارکرتے ہوئے بڈگام سمیت کچھ مقامات پرمظاہرین نے امریکہ واسرائیل کے جھنڈے ،امریکی صدرٹرمپ اوراسرائیلی وزیراعظم نیتن یاہوکے پُتلے سرراہ شعلوں کی نذرکردئیے۔اس دوران مزاحمتی قیادت کی خانہ و تھانہ نظربندیوں اور یروشلم کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکہ کے جارحانہ فیصلہ کیخلاف کشمیر کے طول و عرض میں پر امن مظاہرے کئے گئے اور لوگوں نے بھارتی اور امریکی پالیسیوں کی شدید مذمت کی۔اس سلسلے میں حناب صاحب صورہ سرینگر میں حریت رہنماﺅں اور کارکنوںمشتاق احمد صوفی، ایڈوکیٹ یاسر رﺅد دلال، فارو ق احمد ساحل احمد، حیات اور محمد یوسف وغیرہ نے ایک پر امن مظاہرے کی قیادت کی اور اسلام اور آزادی کے حق میں نعرے بلند کئے۔ادھر متحدہ مجلس علماءجموںوکشمیر کی اپیل پر بیت المقدس(یروشلم) کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے امریکی اقدام کیخلاف پورے جموںوکشمیر میں یوم احتجاج منایا گیا۔جموںوکشمیر کے ضلع سرینگر ، گاندربل، بڈگام، اسلام آباد، شوپیاں ، بانڈی پورہ، سوپور ، بارہمولہ،پلوامہ، کولگام، قاضی گنڈ، بانہال ، کرگل، دراس اورخطہ چناب کے ڈوڈہ ، بھدرواہ، کشتواڑ ،ر اجوری ، پونچھ ، سمیت صوبہ جموں کی مختلف بڑی بڑی مساجد، خانقاہوں، امام باڑوں، آستانوں اور عبادت گاہوں میں متحدہ مجلس علماءکی طرف سے مرتب کردہ قرارداد پیش کرکے عوام سے تائید کرائی گئی جبکہ پروگرام کے مطابق مختلف مقامات پر علماء، ائمہ ، خطباءاور عوام نے امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی جانب سے مقبوضہ بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کے اعلان پر شدید غم و غصہ اور برہمی کا اظہار کرتے ہوئے پر امن مظاہرے کئے اور اس حوالے سے مظلوم فلسطینی عوام اور عالم اسلام کے ساتھ بھر پور اتحاد اوریکجہتی کا اظہار کیا۔اس دوران حریت کانفرنس (ع)نے ریاستی انتظامیہ کی جانب سے چیرمین میرواعظ عمر فاروق کی ایک بار پھر خانہ نظر بندی پر شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ حریت چیرمین کو آئے دن نظر بند رکھنا اور ان کی دینی و سیاسی سرگرمیوں پر قدغنیں عائد کرنا ریاستی حکمرانوںکا معمول اور وطیرہ بن چکا ہے۔موصولہ بیان میںحریت(ع) ترجمان نے ماہ ربیع الاول کے مقدس اور بابرکت مہینے میں جمعتہ المبارک کے عظیم دن پر میرواعظ کو نظر بند رکھ کر نماز جمعہ جیسے اہم فریضہ اور منصبی ذمہ داریوں کی ادائیگی سے روکنے شہر سرینگر کے بیشتر علاقوں میں کرفیو اور بندشوں کے نفاذ اور مرکزی جامع مسجد سرینگر کو ایک بار پھر سیل کر دینے کی کارروائیوں پر شدید برہمی کا اظہار کرتے ہوئے سخت الفاظ میں اس کی مذمت کی ۔ترجمان نے کہا کہ بزرگ مزاحمتی رہنما سید علی شاہ گیلانی کی مسلسل خانہ نظر بندی، پورے کشمیر میں جبر و قہر اور ظلم و زیادتی پر مبنی پالیسیاں جاری رکھ کر ہر چہار سو خوف و دہشت کا ماحول برپا کرنے جیسے جارحانہ حربوں سے نہ تو مزاحمتی قیادت اور نہ ہی یہاں کے حریت پسند عوام کو اپنے جائز موقف اور حق و صداقت پر مبنی نظریہ سے دستبردار کیا جاسکتاہے۔ادھرپولیس ترجمان نے شہرخاص کے کچھ علاقوں میں احتیاطی بندشیں ہونے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایاکہ وادی میں جمعہ کے روزدن بھرصورتحال پوری طرح سے پُرامن رہی اورکسی بھی جگہ سے کسی ناخوشگوارواقعے کی اطلاع نہیں ملی۔
