بھارت کورونا وائرس کا اگلا بڑا شکار ہو سکتا ہے: ماہرین

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/23مارچ:بھارت کورونا وائرس کا بڑا شکار ہو سکتا ہے۔ بھارت میں اب تک کورونا وائرس کے 396 کیسز سامنے آ چکے ہیں اور سات اموات ہو چکی ہیں۔بھارت کے سینٹر فار ڈیزیز ڈائی نیمکس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رامانن لکشمی ناراین نے بتایا کہ بھارت میں کورونا وائرس کے معاملے بہت تیزی سے بڑھیں گے۔کرنٹ نیوز آف انڈیا کے مطابق عالمی پیمانے پر 195 ممالک میں سے تقریبا 168 ممالک اب تک کورونا وائرس کووڈ-19 کی زد میں ہیں اور اب تک اس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد تین لاکھ سے زیادہ ہو گئی ہے۔ دنیا بھر میں اس سے مرنے والوں کی تعداد 14 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت کورونا وائرس کا بڑا شکار ہو سکتا ہے۔ بھارت میں اب تک کورونا وائرس کے 396 کیسز سامنے آ چکے ہیں اور سات اموات ہو چکی ہیں۔بھارت کے سینٹر فار ڈیزیز ڈائی نیمکس کے ڈائریکٹر ڈاکٹر رامانن لکشمی ناراین نے بتایا کہ بھارت میں کورونا وائرس کے معاملے بہت تیزی سے بڑھیں گے۔ انھوں نے کہا کہ ایسے کوئی اشارے نہیں ملے جن کی بنیاد پر یہ کہا جا سکے کہ بھارت میں اس کا اثر باقی دنیا سے کم ہو گا۔ہو سکتا ہے باقی ممالک کے مقابلے میں ہم تھوڑا پیچھے چل رہے ہوں لیکن اسپین اور چین میں جیسے حالات رہے ہیں جتنی بڑی تعداد میں وہاں کے لوگ اس وائرس کی زد میں آئے ہیں، ویسے ہی حالات بھارت میں بھی پیدا ہوں گے اور چند ہفتوں میں ہمیں کورونا وائرس کی سونامی کے لیے تیار رہنا چاہیے۔ ڈاکٹر رامانن نے بتایا کہ اگر بھارت میں زیادہ لوگوں کے ٹیسٹ کیے جاتے تو ممکنہ طور پر اور زیادہ کیسز سامنے آتے لیکن بھارت میں کورونا وائرس کے لیے بہت کم ٹیسٹ ہو رہے ہیں۔انھوں نے کہا کہ یہ تعداد اگلے دو تین دنوں میں ہزار سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ ہمیں تیار رہنا چاہیے۔ بھارت میں ایسے جراثیم کا پھیلنا بہت آسان ہے۔ اس کی وجہ یہاں کی گھنی آبادی ہے۔ ایسا ہی چین کے ساتھ بھی ہوا۔ ہر پانچ میں سے ایک شخص وائرس سے بری طرح متاثر ہو گا یعنی چالیس سے پچاس فیصد افراد سنجیدہ حالت میں ہوں گیاور انھیں ہسپتال میں داخل کروانے کی ضرورت پڑے گی۔( سی این آئی )

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے