‘عمر عبداللہ کو رہا کرنے کا کوئی منصوبہ ہے یا نہیں، سپریم کورٹ نے مرکز سے کیا جواب طلب

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر: سپریم کورٹ نے جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی عمر عبداللہ کی پبلک سیفٹی ایکٹ کے تحت حراست کو چیلنج دینے والی ان کی بہن سارہ پائلٹ کی درخواست کی سماعت بدھ کو ایک ہفتہ کے لئے ملتوی کردی ااور مرکز سے کہا کہ یا عمر عبد اللہ کو جلد رہا کیا جائے یا ان کی بہن کی عرضی پر سماعت شروع کی جائے ۔ سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق پانچ اگست 2019سے مسلسل نظر بند جموں کشمیر کے سابق وزیر اعلیٰ عمر عبد اللہ پر انتظامیہ کی جانب سے پبلک سیفٹی ایکٹ عائد کرنے کے بعد ان کی بہن سارہ پائلٹ نے سپریم کورٹ میں عرضی داخل کی اور عمر عبد اللہ پر عائد پی ایس اے کو چیلنج کیا ۔سپریم کورٹ میں بدھ کو معاملے کی پھر سماعت ہوئی جس دوران سپریم کورٹ نے مرکزی سرکار سے سوال کیا ہے کہ کیا انتظامیہ عمر عبداللہ کو رہا کرنے کا کوئی منصوبہ رکھتی ہے، اگر ایسا کچھ ہے تو انہیں فورا رہا کیا جائیں۔جسٹس ارون مشرا کی صدارت میں بنچ نے جموں و کشمیر انتظامیہ کے وکیل سے پوچھا کہ کیا انتظامیہ عمر کی رہائی کے بارے میں سوچ رہی ہے یا نہیں۔وکیل نے کہا کہ وہ انتظامیہ سے اس بارے میں معلومات حاصل کرکے عدالت کو آگاہ کرے گا۔ اس کے بعد عدالت نے کیس کی سماعت ایک ہفتے کے لئے ملتوی کردی۔ سپریم کورٹ نے جواب داخل کرنے کے لیے مہلت دی ہے۔سماعت کے دوران سارہ پائلٹ کے وکیل کپل سبل نے بنچ سے کیس کی سماعت جلد کرنے کی درخواست کی ۔سارہ پائلٹ نے اپنے بھائی عمر عبداللہ کے لیے درخواست دائر کی ہے۔انہوں نے گزشتہ 10 فروری کو عدالت میںدرخواست داخل کرتے ہوئے اپنے بھائی عمر عبداللہ کو جے کے-پی ایس اے -1978 کے تحت حراست میں لئے جانے کو غیر قانونی بتایا تھا۔بنچ نے گزشتہ 14 فروری کو درخواست کی سماعت کرتے ہوئے جموں و کشمیر انتظامیہ کو نوٹس جاری کیا تھا۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے