سرحدوں پر کشیدگی اور تناﺅ کا ماحول جاری

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!
An Indian Border Security Force (BSF) trooper walks near the fenced border with Pakistan in Suchetgarh, southwest of Jammu, August 1, 2011. As India and Pakistan embark on a tentative peace process and try to decide how to open their borders to trade and travel, it will be the situation on the ground in places such as Suchetgarh that determine the pace of the detente. Picture taken August 1, 2011. To match Feature KASHMIR-BORDER/ REUTERS/Mukesh Gupta (INDIAN-ADMINISTERED KASHMIR - Tags: MILITARY POLITICS)

سرینگر/16مارچ: سرحدی کشیدگی کے بیچ سوموار کو مسلسل تیسرے روز بھی ہندوپاک افواج کے مابین آر پار گولہ باری ہوئی جس کے نتیجے میں درجنوں رہائشی ڈھانچے تباہ ہوگئے ہیں ۔ سی این آئی کے مطابق لائن آف کنٹرول پر ہند پاک افواج کے مابین گولہ باری اور شلنگ کا سلسلہ بدستور جاری ہے ۔ اتوار کے روز ایک مرتبہ پھر کئی سیکٹروں میں بھارت اور پاکستان کی افواج کے مابین شدید فائرنگ کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔آر پار گولہ باری اور شنلنگ سے مقامی آبادی سہم کر رہ گئی ہے۔مقامی ذرائع نے کہا کہ کراس فائرنگ صبح ساڑھے دس بجے سے جاری ہے جس کے دوران متعدد شیل آبادی والے علاقے میں بھی گر گئے ہیں۔دفاعی ذرائع کے مطابق پاکستان نے یہاں جنگ بندی کی خلاف ورزی کی ہے جس کا جواب بھارتی افواج کی طرف سے دیا جارہا ہے۔دفاعی ذرائع نے کہا ہے کہ پاکستانی رینجرس کی جانب سے نوشہرا ، راجوری اور پونچھ سیکٹر میں بلااشتعال فائرنگ کی گئی جس کا بھارتی فوج نے بھر پور جواب دیا ہے ۔ تازہ فائرنگ کے نتیجے میں سرحدوں پر تناﺅ اور خوف و دہشت کا ماحل بنا ہوا ہے ۔ واضح رہے کہ گزشتہ سال سے ہندوستان اور پاکستانی افواج کے مابین جنگ جیسی صورتحال پیدا ہوئی اور دونوں جانب فضائی حملے بھی ہوئے تاہم فضائی حملے بند ہونے کے بعد بھی دونوں ممالک کے مابین لگنی والی سرحدوں اور حد متارکہ پر گولہ باری کا سلسلہ بدستور جاری ہے اور اب تک کئی انسانی جانوں کا بھی زیاں ہوا ہے ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے