وادی کشمیر جعلی اور ناقص ادویات کے کاروبار کی منڈی، متعلقہ محکمہ خاموش ؟

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/13مارچ: وادی کشمیر ناقص اور جعلی ادویات کی منڈ ی بن گئی ہے جہاں پر ہر کوئی جعلی کمپنی اپنے نمائندوں کے ذریعے اپنی غیر معیاری ادویات کو فروخت کروارہے ہیں اور یہاں کے سادہ لوح عوام کی توقعات کے ساتھ ساتھ ان کی خون پسینے کی کمائی بھی قانونی طریقے سے لوٹی جاتی ہے اور ان لیٹروں کے خلاف کوئی کارروائی عمل میں نہیں لائی جارہی ہے ۔ کرنٹ نیوز آ ف انڈیا کے مطابق وادی کشمیر ناقص اور جعلی ادویات کی منڈی کے بطور اُبھر رہی ہے جہاں پر ادویات کے کاروبار میں روزانہ اربوں روپے کا لین دین ہوتا ہے ۔ دوائی ساز تمام بیرون وادی چلائی جارہی کمپنیوںنے یہاں اپنے نمائندے بٹھارکھے ہیں جو ان ادویات کو فروخت کرنے میں اپنا رول اداکررہے ہیں جس کے عوض انہیں چند روپیوں سے نوازاجاتا ہے ۔ معلوم ہوا ہے کہ وادی کشمیر میںٰ اکثر و بیشتر معالجین اپنے مریضوں کو ان کمپنیوں کی ادویات غریب مریضوں کو تفویض کررہے ہیں ۔جعلی اور ناقص ادویات تیار کرنے والی کمپنیوں کی جانب سے وادی کشمیر میں اپنے نمائندوں کے ذریعے ڈاکٹروں کو کمیشن کے طور پر موٹی موٹی رقومات اور قیمتی تحائف پیش کرتے ہیں جو ان جعلی اور ناقص ادویات ساز کمپنیوں کی ادویات یہاں فروخت کرانے میں براہ راست اپنا رول اداکررہے ہیں تاہم غریب مریض جن امراض سے چھٹکارا کیلئے ان ادویات کا استعمال کرتے ہیں وہ ان مریضوں سے ایک تو چھٹکارا حاصل کرنے میں ناکام ہوجاتے ہیںدوسرا وہ ناقص دوائی لینے سے کسی دوسرے مرض میں مبتلاء ہوجاتے ہیں ۔ جعلی اورناقص ادویات کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف اگرچہ حکمہ ڈرگ کنٹرول اور محکمہ ہیلتھ نے گزشتہ برس ایک دو کارروائیاں انجام دی ہیں لیکن تب سے آج تک متعلقہ محکمہ نے کوئی بھی کارروائی نہیں کی جس کے نتیجے میں ان جعلی دوائیوں کا کارور کرنے والوں کے حوصلے بلند ہورہے ہیں ۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے