میاں قیوم کی بگڑتی صحت کے حوالے سے عرضداشت،عدالت نے 12مارچ تک سرکار سے جواب طلب کیا

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/1مارچ/کے این ٹی // بار اسو سی ایشن کے صدر ایڈوکیٹ میاں عبدل قیوم جو اس وقت اتر پر دیش کے ایک جیل میں مقید ہیں کے حوالے سے سینر ایڈوکیٹ ظفر احمد شاہ نے عدالت میں ایک عرضداشت پیش کی ہے جس میں کہا گیا کہ میاں قیوم کی بگڑتی صحت کے پیش نظر انہیں نئی دلی کے آل انڈیا انسی چیوٹ آف میڈکل سائنس میں علاج کے لئے داخل کیا جائے اور ساتھ ہی ان کو آگر ہ سے سرینگر کے کسی بھی جیل منتقل کیا جائے ۔ کشمیر نیوز ٹرسٹ کے مطابق ایڈوکیٹ نے یہ عرضی عدالت میں سنیچر کے روز پیش کی ۔عرضی میں کہا گیا ہے کہ میاں قیوم کو فوری طور میڈکل جانچ کی ضرورت ہے اور انہیں جلد ہی نئی دلی کے آل انڈیا انسی چیوٹ آف میڈکل سائنس میں علاج کے لئے داخل کیا جائے۔ عرضداشت نے یہ بھی کہا ہے کہ میاں قیوم کو آگر ہ جیل سے سرینگر کے کسی بھی جیل میں منتقل کیا جائے تاکہ وہ اپنے گھر والوں سے اکثر ملاقی ہوسکے کیو نکہ وہ اس کی صحت کے حوالے سے بہت ہی فکر مند ہیں۔ عدالت نے متذکرہ عرضی کے حوالے سے سرکار کو یہ حکم دیا کہ وہ اس معاملے پر مارچ 12یا اس سے پہلے عدالت میں اپنا جواب پیش کریں ۔ پچھلے ماہ میاں قیوم کو سینے میں تکلیف کے بعد اترپردیش کے ایک اہسپتال منتقل کیا گیا جس پر یہاں کے وکلاء نے کافی تشویش جتائی تھی اور ان کی رہا ئی کا مطالبہ کیا تھا۔ واضح رہے پچھلے سال جموں کشمیر کی خصوصی پوزیشن کے خاتمے کے بعد جہاں سرکار نے سیاسی و غیر سیاسی افراد کو گرفتار کیا تھا وہی بار اسو سی ایشن کے صدر میاں قیوم کو بھی حراست میں لے کر آگر ہ جیل منتقل کیا تھا۔ اتر پردیش کی مختلف جیلوں میں اس وقت بھی 200سے زائد کشمیری گرفتار ہے۔

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے