کرناٹک میں ملک سے غداری کے الزام میں تین کشمیری طالب علموں کی گرفتار، وکیل کشمیری طلبا کی وکالت کرنے کے لئے راضی ہوگئے

Disclosure: This website may contain affiliate links, which means I may earn a commission if you click on the link and make a purchase. I only recommend products or services that I personally use and believe will add value to my readers. Your support is appreciated!

سرینگر/28فروری : ریاست کرناٹک میں ہبلی بار ایسوسی ایشن نے ملک سے غداری کے معاملے میں گرفتار کشمیری طلبا کی نمائندگی کے خلاف اپنی قرار داد واپس لے لی ہے۔سی این آئی مانیٹرنگ کے مطابق ہبلی بار ایسوسی ایشن نے کہا کہ ‘جو وکلا گرفتار کشمیری طلبا کے لیے اپنی قانون خدمات پیش کرنا چاہتے ہیں وہ ضمانت کی درخواست دائر کرنے کے لیے دھرود پرنسپل ڈسٹرکٹ کورٹ سے رجوع کرسکتے ہیں۔مانیٹرنگ کے مطابق اس سے قبل سیکنڈ جوائنٹ مجسٹریٹ فرسٹ کلاس (جے ایم ایف سی)عدالت نے تین طلبا، جن کی شناخت باسط عاشق صوفی ، طالب ماجداور عامر محی الدین کے نام سے ہوئی ہے، کو اس معاملے میں پوچھ گچھ کے لیے 28 فروری تک پولیس تحویل میں بھیجا ہے۔ پولیس کے مطابق ان تینوں طلبا نے پلوامہ حملے کی پہلی برسی کے موقع پر ایک ویڈیو بنایا تھا جس میں وہ مبینہ طور پر ‘پاکستان کی حمایت میں اور ‘فری کشمیر’ کے نعرے لگا رہے ہیں’۔ویڈیو وائرل ہونے کے بعد پولیس نے تینوں طلبا کو گرفتار کیا تھا۔گزشتہ دنوں ان کشمیری طلبا کو ہبلی سب جیل سے بیلگام ہندالگا جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔(سی این آئی )

Share This Article
کوئی تبصرہ نہیں ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے